گلٹ فری ایٹنگ۔2

خوراک کا تعلق شکم سیری کی بجائے دوسرے فیکٹرز یعنی خوشی، غمی، محفل، تنہائی، جدائی، اداسی، خوبصورتی، شہرت، طاقت، سوشل امیج سے جڑنے کی وجہ سے کھاتے رہنا ہماری تمام مصروفیات کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ کھانے کے اوقات کے علاوہ اب ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے، فون کرتے ہوئے اور کمپیوٹر پر ٹائپ کرتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ کھا رہے ہوتے ہیں۔ کافی، چائے یا سوڈا وغیرہ ہر کام کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ دوسری

Read more

گلٹ فری ایٹنگ 1

گاجر کا حلوہ پہلے جیسا نہیں بنا۔ خیر ویسا نہیں جیسا ہم سب لوگ بچپن میں چیپ لیبر کی طرح لائن میں بیٹھ کر گاجروں کے ڈھیر پر مقدور بھر مشقت کرتے تھے اور آخر میں بڑے دیگچے سے مہینے بھر کے کوٹے مختص ہوتے تھے۔ میرا حلوہ ویسا تو کبھی نہیں بنا۔ لیکن یہ والا پچھلی دفعہ جیسا بھی نہیں بنا۔ شاید مزہ نہ آنے کی اصل وجہ کیلوریز ہیں۔ سیل کی شرح کو کل قیمت میں سے نفی

Read more

 2024 عمران سیریز۔ ناول

لمبی بیضوی میز کے گرد وہ سب افراد مکمل خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی پہلے بات شروع کرنے کی خواہش نہیں رکھتا تھا۔ ایک مقتدرہ نے انہیں مختلف عوامی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے طور پر بلایا تھا۔ ان میں ٹی وی ہوسٹ اور سوشل میڈیا کے ماہرین بھی شامل تھے۔ رپورٹر اور پروفیسر بھی۔ سائنس اور اقتصادیات سے تعلق رکھنے والے نمایاں نام بھی۔ سیکرٹ سروس کے پرانے ممبر بھی عوامی حیثیت سے

Read more

کُھل کر کھیل۔ کرکٹ ماڈل

سب سے پہلے مجھے گوگل نے مبارکباد دی۔ آتش بازی یہ سطور لکھنے تک بدستور جاری ہے۔ ( پاکستان کرکٹ سرچ کریں۔ ) حیرت مجھے بھی ہوئی لیکن پھر اسی نے بتایا بائیس سال بعد یہ خاص موقع آیا ہے۔ لیکن ابھی ٹیکنیکل تفصیلات میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ بس یہ سمجھیں کہ ایک آدھ تمغہ، ٹرافی پر تو حق بنتا ہے ہمارا بھی۔ لیکن یہاں ہم عام فین کے طور پر اس میچ اور جیت کا جائزہ نہیں

Read more

نوجوانوں کے سوالات 2

ایک سوال تھا کہ ”اگر ہم خود میں اعلی اخلاقی محاسن کو پا چکے ہیں تو ہمیں طے شدہ اصولوں کے ایک مجلّے کی کیا ضرورت ہے جو کوئی اخلاقی ضابطہ ہم پر لاگو کرے۔ ہماری طرح دوسرے تمام بھی خود فیصلہ کر کے اچھے انسان بن سکتے ہیں (جیسے اگناسٹک) ۔“ سوال کو مذہب سے الگ کر کے، محض اخلاقی بنیاد پر زیادہ آسان شکل میں دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہاں ہم نے بڑی سادگی سے اپنے

Read more

نوجوانوں کے سوالات

پچھلے دنوں آن لائن وقت گزاری کے دوران کچھ عوامی اجتماعات اور دوسرے میڈیا فورمز پر پاکستانی نوجوانوں کے ذہنی تجسس اور فکری پروسس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ سوالات اور کمنٹس اپنی اپنی جگہ مزید سماجی اجتماعات (ورچوئل) کا باعث بنے۔ بلکہ کچھ سوالات نے تو پیالی میں کافی طوفان اٹھایا۔ سوالات، طوفان اور پیالی پر پہلے ہی خاصی بحث ہو چکی ہے لیکن پھر بھی۔ سب سے پہلے مجھے اب تک یہ بات سمجھ آئی ہے :

Read more

کابل کی بلی اور اسرائیل کے بم

“Oh, Don’t Be Ridiculous, Andrea. Everybody Wants This. Everybody Wants To Be Us.”: Meryl Streep as Miranda Priestly in film The Devil Wears Prada اقوام متحدہ کی سائڈ لائن پر میریل اسٹریپ نے اپنی تقریر سے فلسطین میں ہوتی انسانی حقوق کی پامالی کی طرف دنیا کی نظر مبذول کرانے میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ قریبا تمام بڑے خبر رساں اداروں نے اس کاوش کو سراہا۔ اس تقریر میں اخلاقی قوانین کے بدلتے معیار پر سوال اٹھایا گیا۔ یعنی کیسے

Read more

عزم پاکستان سیل۔ ففٹی پرسنٹ آف

ہر اہم چھٹی کے اگلے دن یہاں کے سٹورز میں اس موقع کے موسمی سٹاک پر سیل لگ جاتی ہے۔ جہاں ایک طرف لوگوں کو یہ چیزیں کم قیمت پر میسر آجاتی ہیں وہیں دکانوں کو پرانا مال سال بھر سنبھالنا نہیں پڑتا۔ نیز اگلے ایونٹ کے مال کے لیے جگہ بن جاتی ہے۔ لیکن عزم پاکستان سیل تو یوم آزادی سے ہفتہ بھر پہلے ہی لگ گئی تھی۔ ویسے بھی بعد از یوم ہرے رنگ کے کپڑے کوئی کیوں

Read more

سے نو ٹو لائبریری

(یہ مضمون امریکی فنانشل کرایسز 2009 کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ ) دسمبر کی اس کہر آلود صبح اس نے مجھے پروجیکٹ وولکینو کی یاد دہانی کرائی پھر گرم گرم چائے کی اٹھتی بھاپ کے پیچھے سے جھانکتے میرے چہرے پر موجود سستی اور سردی کے تاثرات سے پرانی واقفیت رکھنے کی وجہ سے بیڈروم میں گہری نیند سوتے باپ سے ماہر ہپناٹائزر کی طرح سکول آنے کا وعدہ لے لیا۔ خاموش منصوبہ بندیوں سے مجھے ہمیشہ سے

Read more

جسمانی صحت اور ایل سی ڈی

ھیلتھ سائیکولوجی کے زمرے میں کی گئی ہارورڈ بزنس سکول کی ایک رینڈم فیلڈ سٹڈی میں پایا گیا کہ لوگ اپنی جسمانی صحت سے متعلق صحتمندانہ رویوں میں لیسٹ کومن ڈینومینیٹر (مخفف ”ایل سی ڈی“ ) کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یعنی زیادہ فعال رکن کے برعکس ایک کم فعال ساتھی ان کے رویوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اس سٹڈی میں ایک بڑی کارپوریشن میں لوگوں کے ورک ڈیسک کے ساتھ منسلک واک سٹیشن متعارف کرائے گئے تاکہ وہ

Read more

کمپیوٹر گیم ”سولائزیشن“

پہلے سم سٹی کو موجودہ سم گیمز، سٹی پلاننگ، مائن کرافٹ اور دوسری وار گیمز کی ابتدائی شکل قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن چار ہزار بی۔ سی سے موجودہ دور کی تہذیب تک کی سٹریٹیجک کمپیوٹر گیم ”سولائزیشن“ (تہذیب) اپنے وسیع کینوس، لا محدود امکانات اور مستند حوالوں کی وجہ سے مجھے زیادہ پسند تھی۔ یہ گیم کی ایک بیسک آؤٹ لائن ہے۔ بعد کے ورژن کے کچھ اضافے اور ترامیم اس میں شامل نہیں ہیں۔ ابتدائی طور پر کھیل

Read more

خوشی کے تعاقب کا وبائی مرض ( 4 )

اپنی کیمیائی بناوٹ کی وجہ سے خوشی کی تحریک بہت حد تک ایڈیکٹو ہے۔ نا ختم ہونے والی خوشیاں اپنی کیمیائی ساخت میں دوسری ایڈیکشن جیسے منشیات وغیرہ جیسی ہی ہیں۔ ان سے تھوڑی سی دوری بھی ودڈرال کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ بچوں میں اس عمل کا بہت آسانی سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ایک ویڈیو گیم کھیلنے والے بچے کو کچھ دیر تک گیمز سے دور رہنا پڑے تو ان میں بے صبری، اکتاہٹ و بیزاری

Read more

خوشیوں کے تعاقب کی وبا ( 3 )

ایک دور میں تکلیف سہنے کو کردار کی عمدگی، اخلاقی بڑائی، عوامی بھلائی اور روحانی بالیدگی سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔ مصائب سے پامردی سے لڑتا انسان مذہبی شہادت اور معاشرتی فضیلت کے تصورات کو اپنے خون پسینے سے پروان چڑھاتا تھا۔ سمجھا جاتا تھا کہ روحانی و عقلی طور پر پختہ انسان غم اور خوشی کی وقتی لہروں سے اوپر اٹھ چکا ہوتا ہے۔ اس کی کھال سخت اور دل بڑا ہوتا ہے۔ معمولی حالات اس کی کور کو

Read more

خوشیوں کے تعاقب کی وبا ( 2 )

نئی دنیا نے پرسیوٹ آف ہیپی نیس کو قومی ترانہ بنا کر سماجی معاشی خوشحالی اور سیاسی ترقی کے ہم معانی و ہمم پلہ قرار دیا۔ ویسے پہلے اور دوسرے صنعتی انقلاب کی منفعت سمیٹنے والوں کے لیے یہ تھی بھی ایک ہی بات۔ گو سائنسی اور تہذیبی ترقی کا یہ دور باآسانی ہر انسان کے لیے ایک سی خوشحالی و فراوانی، مساوات اور انصاف، ترقی اور تعلیم کی ارزاں فراہمی کا دور ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر کچھ لوگوں

Read more

خوشیوں کے تعاقب کی وبا (1)

زندگی میں کبھی ہم اتنے خوش بھی ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی خوشی ناجائز اور ناممکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ جیسے ہمیں ہمارے انسانی حق سے زیادہ خوشی مل گئی ہو۔ گویا ہمارے ذہن میں اس کی کوئی حد طے تھی۔ انتہائے خوشی کا پیمانہ بنانا یا اس کی حدبندی کرنا شاید اتنا آسان نہ ہو لیکن دورانیے کے لحاظ سے ایک خوشی ایک مفرد جذباتی کیفیت ہے اور اپنی ہاف لائف سے آگے جانا اس کے لیے ممکن

Read more

پچانوے فیصد عورتیں؟

ذاتی طور پر مجھے لفظ جاہل پسند ہے۔ جیسے یہ کسی کا پیار کا نام ہو۔ یا پھر اس میں ایک وعدہ چھپا ہو کہ اس اعتراف کے بعد سیکھنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا۔ ہمارے روزمرہ میں اس لفظ کا استعمال کسی کی لاعلمی کے تناظر میں کیا جاتا ہے ۔ ہم ہر وقت کسی نہ کسی شے سے لاعلم ہوسکتے ہیں اور علم کی مقدار اتنی زیادہ ہے ہے کہ اچھے خاصے لوگ بھی خود کو علم

Read more

معاشرے کی بیٹی سوچ میں ہے کہ کیا وہ شادی نہ کرے؟

”میں اگر شادی کا لائسنس بناتا تو تین قسم کے نکاح نامے ہوئے سفید نکاح نامے ان لوگوں کے لیے جو دن رات ایک دوسرے کے قرب کی آرزو رکھتے ہیں۔ گلابی کارڈ دنیاوی وجوہات والوں کے لیے مثلاً تنہائی سے بچنے کے لیے ماں باپ کی ناک بچانے کے لیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور سبز کارڈ صرف ان کو دیا جاتا جو افزائش نسل کے لیے لائسنس چاہتے ہیں۔ صرف سبز کارڈ مستقل ہوتا، باقی سب کارڈ سال دو سال

Read more

نکاح کا مسئلہ

(پیش ہے نکاح کے مسئلہ کا مکمل ڈرامہ۔ شاہد، فواد، شبانہ اور مولانا اور مولوی صاحب فرضی ہیں اور وجود نہیں رکھتے۔ تمام واقعات بھی فرضی ہیں۔ صرف نکاح اصلی ہے ) ۔ تم سمجھ نہیں رہے ہو فواد۔ شاہد۔ میرا نام شاہد ہے۔ ہاں لیکن ہم ابھی تک سیٹ پر ہی ہیں اور ہم نے دن کے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے یہاں صرف کیے ہیں۔ مجھے تو تم اب شاہد سے زیادہ فواد لگنے لگے ہو۔ اچھا۔ اچھا ٹھیک ہے

Read more

جاگتے رہنا

رات جب قریبا آدھی گزر جاتی، گلی میں لوگوں کی باتیں ختم ہو جاتیں اور گھروں کی زائد روشنیاں گل ہوجاتی تھیں تو دور سے اس کی لاٹھی کی آواز آنی شروع ہوتی تھی جو وہ زور سے زمین پر مارتا آتا تھا۔ جاگتے رہنا! وہ آواز لگایا کرتا۔ کافی عرصہ تک مجھے اس بندے کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا جس نے رات کی تاریکی میں یہ کام انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جب ہم لوگ روزے رکھنا

Read more

کنگ ڈم آف اسلامی جمہوریہ پاکستان

پشتینی حکمران اپنے اپنے تخت سے شاہانہ اندازوں میں اسمبلیوں میں اترتے ہیں۔ اپنی مقبولیت معقولیت اور مسابقت کے مشق شدہ عاجزانہ اور دوستانہ اعترافات اور مخالفین کو متواضع تعاون کی یقین دہانیاں کراتے ہیں۔ لیکن زیادہ دیر نہیں لگے کی کہ ان کے کھوکھلے لفظوں کی حقیقت ان کے اقدامات سے واضح ہو جائے گی۔ پھر وہ مسائل کے ان انباروں کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں جن کو لوگ کئی دہائیوں سے

Read more

کیا چیونٹی حلال ہے؟

میں نے تو صرف یہ ہی پوچھا تھا کہ کیا چیونٹی حلال ہے۔ یار لوگ بے قابو ہو گئے۔ کیا واقعی؟ ارے بھئی مجھے کیا معلوم۔ ان کے پاؤں دیکھ کر ہی کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔ لیکن بات نکلی تو پھر بہت دور نکل گئی۔ کسی نے پوچھا۔ کیا ووٹ دینا حلال ہے؟ اور ووٹ کے تو پیر بھی نہیں ہوتے۔ ووٹ کو شاہین ہونے کی دعوت دیتے ہوئے میں نے اس کو نئے بال و پر پیدا کرنے

Read more

چیونٹی اور جھینگر

، اس کہانی میں چیونٹی جھینگر سے کہتی ہے مورکھ کچھ آگے آنے والے سرد دنوں کا سوچ۔ یہ موسم یہ بہار، یہ حسن سدا نہیں رہنے والا۔ وہ اپنی مثال دیتی کہ کیسے وہ مسلسل اپنے اور اپنی قوم کے مستقبل کے لیے خوراک ذخیرہ کر رہی ہے۔ کیسے ہمہ وقت کام میں مصروف رہتی ہے۔ کیا کسی نے کبھی کسی چیونٹی کو لمحہ بھر سے زیادہ رکا ہوا دیکھا ہے سوائے اس کے کہ وہ مر چکی ہو؟

Read more

مائی آل سیزن مسلم ایپ

(ایپ، تمام واقعات اور کردار فرضی ہیں) مسئلہ ان آنٹی کا ہے جن کا نہ صرف حافظہ بلا کا ہے بلکہ انتظامی امور میں بھی وہ سب سے بہتر ہیں۔ ان کی حلوہ پوری محلے میں سب سے پہلے بانٹنے کو نکل آتی ہے۔ موقع کے حساب سے تمام محافل کے دعوت نامے بھی بروقت لوگوں کو واٹس ایپ ہو جاتے ہیں۔ ختم میں ستائیسواں اور اٹھائیسواں آپ کے بولنے سے بھی پہلے خود بڑھ کر لے لیتی ہیں۔ دوسری

Read more

ہیپی نیو ائر

عموماً لوگ نئے سال کا آغاز وغیرہ دعاؤں، نیک تمناؤں سے کرتے ہیں۔ اچھی نیت کسی بھی کام کے آغاز کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ ہمارے ہاں لیکن کچھ لوگ اب ہیپی نیو ائر کہتے ہوئے ڈبل مائنڈڈ ہو جاتے ہیں ایک طرف اس مبارکباد کی کوئی منطقی توجیح انہیں سمجھ نہیں آتی۔ پھر دوسری طرف انہیں خلش ہوتی ہے کہ ہجری سال کیا کہے گا۔ جس کے آغاز کا علم تو عموماً نو محرم کو ہی ہوتا ہے اور

Read more

آپ کا ووٹ۔ آپ کی مرضی

دو ہزار چوبیس کو الیکشن کا عالمی سال قرار دیا جاسکتا ہے۔ دنیا کی آبادی کا انچاس فیصد حصہ ان انتخابات کا حصہ ہو گا۔ پاکستان، امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ باسٹھ دوسرے ممالک جمہوریت کی کسی نہ کسی شکل کی اقامت میں مصروف ہوں گے ۔ اور اس دوران لوگ سیاسی دھاندلیوں، حادثاتی اموات، محلاتی سازشوں، بدیسی ہاتھوں اور انتخابی جمہوریت کی دیگر بد صورتیوں کو سہتے ایک طویل سال کے اختتام پر سوچ رہے ہوں گے کہ

Read more

بڑا بدمعاش – سکولوں میں بُلی اِنگ

دو ہزار چودہ میں امریکہ میں سی ڈی سی اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پہلی مرتبہ بلی انگ کو سرکاری طور ایسے ڈیفائن کیا تھا: ایک جارحانہ رویہ۔ جس میں طاقت کا عدم توازن واضح طور پر پایا جائے۔ اسے مخالف کو نقصان پہنچانے کی نیت سے مسلسل دوہرایا جائے۔ یہ جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اور تعلیمی نقصان پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ سی ڈی سی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارہ سے اٹھارہ سال کے درمیان بیس فیصد طالب علم اس

Read more

ہتھیلی پر سرسوں

ہم سب کی ایک عدد رشتہ دار یا آنٹی ایسی ہوتی ہیں گی جن کے پاس ہر مشکل کا ایک آزمودہ وظیفہ ہوتا ہے۔ دلیل کے طور پر ایک متاثر کن کہانی بھی۔ وہ مصر ہیں کہ میں ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرتی۔ اور ویسے بھی یہ قرآنی دعائیں ہیں۔ اللہ کے نبیوں نے مانگی ہوئی ہیں۔ رب انی۔ بس ایک دفعہ شروع کرو۔ تہجد یا فجر سے پہلے، عصر یا مغرب کے بعد وغیرہ۔ ابھی چالیس دن نہیں

Read more

مشترکہ دشمن

مشہور مقولہ ہے کسی بھی گروہ کو منظم کرنے کے لیے مشترکہ دشمن سب سے زیادہ کارآمد ہے۔ ہمارے ہاں اسے عموماً بیرونی ہاتھ کا نام دیا جاتا ہے۔ اصل میں نیشن سٹیٹس کے ساتھ مسئلہ یہی ہے اپنے اپنے کنوؤں کی عالیشانگی کے لیے ایک عدد بیرونی ہاتھ پیدا کرنا ہی پڑتا ہے۔ کیونکہ بیرونی ہاتھ کی غیر موجودگی میں ریاست کا اتحاد پارہ پارہ ہونے لگتا ہے۔ لوگوں میں عمل کی ڈرائیو کم ہو جاتی ہے، ان کے

Read more

کام نہ کرنے کے بہانے

اکثر ہمارے کچھ بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں ہیں۔ جیسے لوگوں میں شعور بڑھ جائے اور وہ انسانوں کی طرح رہنے لگیں۔ امن و سکون قائم ہو جائے۔ دنیا سے غربت۔ نسلی فسادات۔ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہو جائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، عورتوں کے حقوق، باقی سب کے حقوق کو مناسب توجہ ملے۔ پھر بہت سے نسبتا کم بڑے کام بھی ابھی باقی ہیں جن میں ہم اپنا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔ یعنی چھوٹے پیمانے پر خدمت خلق، نئی گھریلو صنعتوں

Read more

لوگ کیا کہیں گے

لوگ آخر کیا کہیں گے؟ لوگ کیا کہیں گے جاننے کا مجھے ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ اسی لیے جب بھی میں سنتی ہوں لوگ کیا کہیں گے تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ اس کی کچھ تفصیلات حاصل کر سکوں لیکن لوگ اکثر مجھے بال کی کھال اتارنے کا الزام دے کر چپ کرا دیتے ہیں۔ ورنہ ایک سخت سی نظر مجھ پر ڈال کر کہتے ہیں۔ ”یہ کیسا احمقانہ سوال ہے۔ آپ کو خود نہیں معلوم کیا؟“

Read more

یوتھ مینٹل ہیلتھ فرسٹ ایڈ

مختلف ادارے آسٹریلیا اور یورپ کے بعد امریکہ میں بھی مینٹل ہیلتھ فرسٹ ایڈ کو ایک اہم ریسورس قرار دیتے ہیں۔ خصوصاً جن اداروں کا تعلق براہ راست کمیونٹی ڈیویلپمنٹ یا ٹین ایجرز یا نوجوانوں سے بنتا ہو۔ کسی نہ کسی طور ضرور اپنے کارندوں کو یہ تربیت دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کئی لوگ اسے فرسٹ ایڈ کا ایک حصہ قرار دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اب نوعمر اور کمسن بچوں میں نفسیاتی مسائل کے رجحانات بہت تیزی سے

Read more

گلوبل وارمنگ – وجوہات اور خطرات

شروع میں تو زمینی آفات و ماحولیاتی اتار چڑھاؤ کی ذمہ داری سائنسدان زیادہ تر تلون مزاج شہاب ثاقب یا سورج کے کسی بڑے آتش فشاں پھٹنے وغیرہ پر ڈالتے رہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بدلتے موسموں میں سبھی کو انسانی ہاتھ نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ جیسا کہ سی ایم سی سی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے ایک چنگاری جنگل کو جلانے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ جنگل میں اتنی بڑی آگ بھڑکنے کے لیے درجہ حرارت کی

Read more