گہوارہ تعلیم و تربیت میں حاضری


22 اپریل 1984 ء

صبح سویرے سو کر اٹھے تو بیگ خریدنے کا مسئلہ درپیش تھا۔ بازار جاکر مختلف دکانوں پر موجود بیگ کا جائزہ لینے کے بعد ایک بیگ پسند کیا گیا۔ اور اس کے بعد دکان دار سے قیمت دریافت کی۔ اس نے اسی روپے طلب کیے۔ ہم نے سابقہ تجربے کی بنیاد پر بڑے اعتماد سے چالیس روپے کہہ دیے۔ دکاندار حیرت سے دیدے پھاڑے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہم نے کوئی آن ہونی بات کہہ دی ہو اور ہم اس پر حیران تھے کہ اگر یہ طبقہ خود ہی قیمت کم کر دے تو کوئی حرج نہیں۔

لیکن اگر گاہک ایسی بات کرنے کی جرات کرے تو وہ عجوبہ بن جاتی ہے۔ بہر حال بیگ کی خریداری کا مسئلہ بخیر و عافیت طے پایا۔ گھر آ کر سامان وغیرہ پیک کیا۔ اور ٹھیک 12 بجے عازِم ملتان سفر ہوئے۔ ٹھیک ساڑھے تین بجے گہوارہ تربیت کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جب اس عمارت میں داخل ہوئے تو عجیب طوفان ِ بد تمیزی نظر آیا۔ علمی درسگاہ کی بجائے کارپوریشن کی ایسی عمارت نظر آ رہی تھی۔ جس میں بھانت بھانت کے لوگ اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے۔

اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے تو ایک مونچھوں والے حوالدار سے واسطہ پڑا۔ جو ایک بینچ پر بیٹھا مونچھوں کو تاؤ دینے میں مصروف تھا۔ اس سے اپنے ساتھیوں کے متعلق دریافت کیا۔ روایتی پولیس والوں کی طرح وہ بھی اپنے گرد و پیش سے بے خبر تھا۔ ساتھ ہی ایک اور ٹیم قلعی چونا کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔ وہاں سے بھی کورس کرنے والے باقی لوگوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہ مل سکی۔ تھوڑا سا آگے بڑھا تو ایک انسٹرکٹر دھواں دار الفاظ میں جلدی پر لیکچر دے رہے تھے۔ آپ کہہ رہے تھے اور انسان پوری عمر جلدی میں رہتا ہے۔ جب وہ پیدا ہوتا ہے۔ تو اسے پیدا ہونے کی جلدی ہوتی ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اس کو نہلانے میں جلدی کی جاتی ہے۔ پھر اسے کچھ پلانے میں اور اس کے کانوں میں اذان دینے میں جلدی دکھائی جاتی ہے۔

ہمیں یہ لیکچر جلدی ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس لیے ہم جلدی سے آگے بڑھے اور کہا کہ جناب ہمیں اپنے ساتھیوں سے ملنے کی جلدی ہے کچھ ان کے بارے میں فرمائیے۔ پہلے تو اس دخل اندازی پر کچھ ناراضگی کا اظہار کرنے کی کوشش کی اور پھر ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے اپنے نامکمل لیکچر کو مکمل کرنے لگے۔ اب ہم اس طرف ہو لیے یہ کمروں کی ایک دو رویہ لائن تھی۔ پہلے کمرے میں جھانکا تو چھ سات چار پائیوں پر چار پائی سے چارپائی ملائے کچھ حضرات محِو استراحت تھے۔ ہم نے سوچا کہ یہ اپنے علم کو تازہ کرنے والے اساتذہ نہیں ہو سکتے۔

ایک ایک کمرے میں جھانکتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ آخری کمرے میں کلاس نام کی کوئی چیز لگی ہوئی تھی۔ جس میں عام طالب علم کی عمر سے لے کر پچاس سال کی عمروں کے طلباء تھے۔ ان سے پھر دریافت کیا تو پتہ چلا کہ پہلے کمرے میں جو لوگ محِو استراحت تھے۔ ریفریشر کورس کا اعزاز انہیں ہی حاصل ہونے والا تھا۔ کمرے میں پہنچا تو چند ایک چارپائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے۔ یا سوتا ہوا دکھائی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کی چارپائیاں کم ہیں تو سونے والے بندے زیادہ ہیں۔ جس کو چارپائی مل گئی ہے وہ اس ڈر سے وہاں سے اٹھنے کی ہمت نہیں کر رہا کہ اگر ایک بار چار پائی چھوڑ دی تو پتہ نہیں دوبارہ ملے گی بھی یا کوئی دوسرا محروم شخص اس پر قبضہ جما لے گا۔ میں ایک دن دیر سے پہنچا تھا۔ آج کے دن کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا پڑھا۔ تجربہ کار اور پرانے لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہاں پر پڑھائی کب ہوتی ہے۔ ویسے ہی وقت گزارنے کا بہانہ ہے۔ یہ لوگ پورا سال تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کچھ کارروائی ہی ڈالنا ہوتی ہے۔

گویا کہ یہ کارروائی اب ہم پر ڈالی جا رہی تھی۔ شام کو کچھ بوریت سے بچنے کے لیے اور کچھ وقت گزارنے کے لیے سیر کو نکلے اور گلگشت گارڈن میں جا بیٹھے ادھر ادھر کی گپ شب ہوتی رہی وہیں پر کھانا کھا کر واپس آئے۔ تو اقبال صاحب بہت گھبرائے ہوئے پھر رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے کمرے کو تالا لگا دیا ہے اور چابی ان کے پاس نہیں ہے۔ بلکہ چابی منشا صاحب کے پاس ہے۔ چابی تلاش کر کے کمرا کھولا گیا۔ ہم نے اپنی ایک چار پائی ایک اور کمرے میں بچھائی اور سونے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ تاکہ صبح تازہ ذہن کے ساتھ اپنے علم کو تازہ کر سکیں۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “گہوارہ تعلیم و تربیت میں حاضری

  • 06/08/2024 at 2:26 شام
    Permalink

    ترتیب ٹوٹ چکی ہے۔

    • 06/08/2024 at 2:49 شام
      Permalink

      لگتا ھے جلد ی میں لکھا گیا

    • 08/08/2024 at 9:18 شام
      Permalink

      یہ پچھلی تحریروں کا تسلسل ہے جن کے بیچ میں چند اور تحریریں آگئیں یوں ترتیب یا تسلسل ٹوٹ گیا

Comments are closed.