مختار مسعود
شہر سیالکوٹ کئی خصوصیات کی بنا پر جانا جاتا ہے۔ صاف ستھرا چھوٹا سا شہر ہے۔ کاروباری مراکز سے بھرا ہوا ہے کاروباری برادری نے اپنی مدد آپ کے تحت ائرپورٹ بنوا لیا۔ علامہ اقبال اور فیض احمد فیض جیسے قادر الکلام شعرا کی جنم بھومی ہے۔
مگر کم لوگوں کے علم میں ہو گا شہرِ سیالکوٹ میں 15 دسمبر 1926 کو ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس نے تاریخ کے اوراق کو مجبور کر دیا کہ جلی حروف میں اس کا نام لکھا جائے۔ جی ہاں شیخ عطاء اللہ کے ہاں سیالکوٹ میں دسمبر 1926 کو مختار مسعود نے جنم لیا۔ علی گڑھ، مینار پاکستان، آواز دوست اور بے مثال اور انفرادی ادبی اسلوب جن کے معتبر حوالے ہیں۔
ان کے والد شیخ عطاء اللہ علی گڑھ کالج اور ما بعد مسلم یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر تھے۔ پھر قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے اور ہیلی کالج میں ملازمت کی۔ شیخ عطاء اللہ اسلامیہ کالج چنیوٹ کے بانی ممبران میں شامل تھے اور اس کالج کے پہلے پرنسپل بھی رہے۔ کتاب بینی اور کتاب نگاری مختار مسعود کو ورثے میں ملی تھی۔ شیخ عطاء اللہ کئی کتب کے مصنف تھے۔ اقبال کے خطوط دو جلدوں میں ”اقبال نامہ“ کے عنوان سے شائع کیے جو آج تک شیخ عطاء اللہ کی پہچان بنے ہوئے ہیں اور اس کے متعدد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اقبال کے خطوط کا یہ پہلا مجموعہ ہے جو 1946 میں مرتب ہوا۔ مرتب موصوف نے خوب چھان بین اور تحقیق سے اقبال کے خطوط کی جمع بندی کی۔ دیگر کتب میں ”پنجاب کی معیشت اور تحریک امداد باہمی“ اور اسلامیہ کالج کے میگزین کی ادارت شامل ہے۔ ڈاکٹر منیر اے شیخ کے مطابق آپ نے اورنگ زیب عالمگیر کے خطوط کا ترجمہ بھی کیا تھا۔
مختار مسعود نے 1942 میں فرسٹ ڈویژن میں میٹرک اور 1944 میں اعزازی نمبروں سے انٹر پاس کیا۔ انٹر کے امتحان میں معاشیات اور فارسی میں سکالر شپ حاصل کی۔ بی اے کے امتحان میں معاشیات میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اس امتحان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ تمام ریکارڈز ظاہر کرتے ہیں کہ مختار مسعود زمانہِ طالب علمی سے محنتی اور ذہین طالب علم تھے۔
قیام پاکستان کے بعد آپ اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے مگر دو چیزیں عمر بھر آپ کے ساتھ رہیں۔ ایک علی گڑھ دوسرے سر سید احمد خان۔ ان کی روحانی تشکیل میں ان دونوں عناصر کا بنیادی کردار ہے۔ پاکستان آنے کے بعد وہ مقابلے کے امتحان سی ایس ایس میں شامل ہونے والے سب سے کم عمر امیدوار تھے۔ سی ایس ایس کا پہلا امتحان 1948 میں منعقد ہوا جس کے اصول و ضوابط برطانوی سول سروس امتحان جیسے ہی تھے۔ مختار مسعود یہ امتحان پاس کر کے بیوروکریٹ منتخب ہوئے۔ مختار مسعود کی۔ ملازمت کا طویل دورانیہ تقریباً 39 سالوں پر محیط ہے جس میں سے 15 سال سروس کی اعلیٰ ترین سطح یعنی سیکرٹری پاکستان کے طور خدمات سر انجام دیں۔ آپ بطور اے سی اور ڈی سی خوشاب، ملتان، لاہور اور بہاولپور میں رہے۔ معروف ناول نگار ای ایم فوسٹر سے آٹوگراف ملتان ہی میں دوران سروس لیے تھے۔ بطور کمشنر لاہور مینار پاکستان کی تعمیر ایک ایسا اعزاز ہے کہ جب تک مینار پاکستان موجود ہے بطور صدر تعمیری کمیٹی آپ کا نام بھی زندہ رہے گا۔ پہلے مینار پاکستان کا نام ”یادگار پاکستان“ تجویز کیا گیا تھا جسے مختار مسعود نے یہ کہ کر ”مینار پاکستان“ میں تبدیل کروا دیا کہ یادگار تو مرنے والوں کی ہوتی ہے پاکستان تو زندہ رہے گا۔ آوازِ دوست کے آغاز ہی میں مینار پاکستان کے متعلق لکھتے ہیں۔
”اس برِعظیم میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا وہ مینارِ قراردادِ پاکستان ہے۔ یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں لیکن ان کے درمیان یہ ذرا سی مسافت جس میں سکھوں کا گردوارہ اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہیں تین صدیوں پر محیط ہے“
آپ نے اپنی زندگی میں تین کتب تحریر کیں۔
آوازِ دوست
سفر نصیب
لوحِ ایام
مختار مسعود کو ادیب کے طور پر زندہ رکھنے کے لیے آوازِ دوست ہی کافی تھی مگر آپ نے منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران سفر نصیب لکھی اور 1978 میں جب آر سی ڈی کا ادارہ وجود میں آیا تو آپ بطور جنرل سیکرٹری آر سی ڈی ایران چلے گئے۔ وہاں کے انقلاب ایران کی جو داستان آپ نے ”لوحِ ایام“ میں بیان کی ہے دوسری کوئی کتاب اس قدر خوبصورت اور دلآویز پیرائے میں اسے بیان نہیں کر سکتی۔
چوتھی کتاب ”حرفِ شوق“ ہے جو بعد از مرگِ 2017 میں اشاعت پذیر ہوئی۔ مختار مسعود ان ادیبوں کی صف کے امام ہیں جن کی تحریر پڑھنے والے کو اپنے کنٹرول میں کر لیتی ہے اور قاری آپ کے لفظوں، جملوں اور تشبیہات و استعارات سے حظ اٹھاتا اوراق الٹتا چلا جاتا ہے۔سچ ہے کہ ایسے ذی احتشام ادیب صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔



