2024 متنازعہ پنجاب – سندھ لیبر کوڈ
مزدور قوانین، مزدور ضابطہ(Labour Code) یا ملازمتی قوانین سے مراد وہ قوانین ہیں جو کارکنوں، ملازمتی اداروں اور حکومت کے درمیان ثالثی انجام دیتے ہوں اور اجتماعی مزدور قوانین سے مراد وہ قوانین ہیں جو کارکنوں،آجران اور حکومت کے درمیان سہ فریقی تعلقات سے متعلق ہوں۔ ملک میں ایسے 16 درج ذیل بنیادی مزدور قوانین رائج ہیں جن پر تمام کارخانوں، صنعتی، کاروباری اور تجارتی اداروں کے لئے عملدرآمد کرنا لازمی ہے۔
1- ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ مجریہ 1976ء
2- صوبائی ملازمین سماجی تحفظ آرڈیننس مجریہ 1965ء
3- صنعتی و تجارتی ملازمت ( احکامات قائمہ) آرڈیننس مجریہ 1968ء
4- ملازمین کے بچوں کی تعلیم آرڈیننس مجریہ 1972ء
5- کم از کم اجرت آرڈیننس مجریہ 1961ء
6- اجرتوں کی ادائیگی آرڈیننس مجریہ 1936ء
7- کارکنوں کا معاوضہ ایکٹ مجریہ 1923ء
8- کارخانہ داری ایکٹ مجریہ 1934ء
9- دکانیں اور ادارے آرڈیننس مجریہ 1969ء
10- کمپنیوں کا منافع ( کارکنوں کی شرکت) ایکٹ مجریہ 1968ء
11- معذور افراد( ملازمت اور بحالی) آرڈیننس مجریہ 1981ء
12- زیر تربیتی آرڈیننس مجریہ 1962ء
13- مغربی پاکستان زچگی فوائد آرڈیننس مجریہ 1962ء
14- کارکنوں کی بھلائی کا فنڈ آرڈیننس مجریہ 1972ء
15- صنعتی تعلقات کا قانون مجریہ 2010ء
16- صنعتی تعلقات کا قانون مجریہ 2012ء
لیکن ملک میں طویل عرصہ سے جاری سیاسی عدم استحکام اور سنگین معاشی بحران کے دوران صوبہ پنجاب اور سندھ کے محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل کی افسر شاہی نے پس پردہ مفادات کے تحت موقع غنیمت جانتے ہوئے اور بد نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریبا 8 کروڑ افرادی قوت پر مشتمل محنت کش طبقے کو تر نوالہ سمجھتے ہوئے طے شدہ سہ فریقی مشاورت کے بغیر ہی بالا ہی بالا بنیادی مزدور قوانین کو مجوزہ پنجاب – سندھ لیبر کوڈ- 2024ء کے نام پر من مانے طریقے سے غیر معمولی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ملک کے کروڑوں محنت کشوں کے بنیادی حقوق سلب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جبکہ ملک کی اہم مزدور فیڈریشنوں نے لیبر کوڈ-2024 کے مسودہ پر غور و خوض کے بعد اسے سراسر مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حال ہی میں حکومت پنجاب اور حکومت سندھ کے محکمہ ہائے محنت و انسانی وسائل نے اپنے صوبوں میں رائج بالترتیب 25 اور 21 مزدور قوانین کو یکدم ختم کر کے اپنے صوبوں میں ایک نئے یکساں لیبر کوڈ کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جسے مجوزہ پنجاب لیبر کوڈ 2024 اور مجوزہ سندھ لیبر کوڈ 2024 کا نام دیا گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ دونوں صوبائی حکومتوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ محنت (ILO) ،جنیوا کے اشتراک سے یہ لیبر کوڈ تیار کیا ہے۔
مزدور قوانین کے ماہرین کے مطابق ان مجوزہ لیبر کوڈز کے دو منفی پہلو خاص طور پر اہم ہیں۔ اول، اس میں صنعتوں میں رائج بدترین استحصالی ٹھیکیداری نظام (Contractual system) کو قانونی شکل دی گئی ہے۔ دوم ،اس مسودہ قانون میں صنعتی ،کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں میں خدمات انجام دینے والے محنت کشوں کے بنیادی حقوق، ٹریڈ یونین سرگرمیوں اور اجتماعی سودے کاری ایجنٹ(CBA) کو ختم کر کے محنت کشوں کے ہڑتال کے حق کو تقریبا ختم کردیا گیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں ملک بھر کی بڑی لیبر فیڈریشنز اور محنت کش طبقے میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے ۔ کیونکہ بادی النظر میں اس مجوزہ لیبر کوڈ میں دستور پاکستان اور مروجہ مزدور قوانین کے تحت حاصل محنت کشوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پنجاب اور سندھ مجوزہ لیبر کوڈ-2024 کا مسودہ 318 صفحات ،6.6 ابواب، 440 دفعات اور 9 شیڈول پر مشتمل ہے ۔ حیرت انگیز طور پر ان دونوں لیبر کوڈز کا مسودہ انگریزی زبان میں تیار کیا گیا ہے اور اس میں استعمال ہونے والی پیچیدہ قانونی اور تکنیکی اصطلاحات کے باعث کم تعلیم یافتہ محنت کشوں کی اکثریت اس مزدور ضابطہ کے مسودہ کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں جب شعبہ محنت وفاق کے زیر انتظام تھا تو وفاقی وزارت محنت کی جانب سے شعبہ محنت کے لئے قانون سازی کرتے وقت پہلے مرحلہ پر حکومت آجران اور محنت کشوں کے نمائندوں پر مشتمل سہ فریقی اجلاس منعقد کئے جاتے تھے اور پھر ان کی سفارشات کی روشنی میں مزدور قوانین اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع کئے جاتے تھے۔ لیکن 2010ء میں ہونے والی اٹھارویں دستوری ترمیم کے نتیجہ میں شعبہ محنت صوبوں کو منتقل کئے جانے کے بعد اب یہ سلسلہ متروک ہوگیا ہے ۔
ہمیں پچھلے دنوں ملک کی ایک اہم اور منظم مزدور تنظیم پاکستان ورکرز فیڈریشن(PWF) کے جنرل سیکریٹری وقار احمد میمن کی دعوت پر ارتقاء انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کراچی میں متنازعہ مجوزہ سندھ لیبر کوڈ-2024 کے موضوع پر منعقدہ ایک آگہی نشست میں شرکت کا موقعہ ملا۔ جس میں ممتاز ٹریڈ یونین رہنماؤں اور محنت کشوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر ماہر مزدور قوانین، محنت کشوں کے بنیادی حقوق کی وکالت کرنے والے اور لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (LUMS) لاہور کے پروفیسر محمد عمر علی نے برصغیر میں مزدور قوانین کی تاریخ ، مزدور تحریک کے پس منظر اور عالمی سطح پر مزدور قوانین کے فلسفے اور رحجانات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت تفصیل کے ساتھ مزدور دشمن مجوزہ لیبر کوڈ-2024 کی ایک ایک شق کا مروجہ مزدور قوانین سے موازنہ کرتے ہوئے سیر حاصل تنقیدی جائزہ پیش کیا۔
جس کے مطابق مجوزہ لیبر کوڈز کی تیاری کے دوران عالمی مزدور قوانین کے تحت مقررہ سہ فریقی طریقہ کار کے مطابق آجران اور کارکنوں کے نمائندوں سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی ۔ جو عالمی ادارہ محنت کے 1976ء کے توثیق شدہ کنونشن C1-44 اور 1976ء کی سفارشات برائے سہ فریقی مشاورت نمبر 152 کی صریحاً خلاف ورزی ہے جس میں پاکستان سمیت تمام رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ پالیسی ساز اداروں میں حکومت اور آجران کے ساتھ ساتھ محنت کشوں کو بھی نمائندگی دی جائے اور ان سے کارکنوں کے جملہ معاملات میں لازمی طور پر مشاورت کی جائے۔
اگرچہ ملک گیر لیبر فیڈریشنز کی جانب سے اس مزدور دشمن مجوزہ لیبر کوڈ کے خلاف سخت صدائے احتجاج بلند کرنے کے نتیجہ میں حکومت پنجاب اور حکومت سندھ نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اس مسودہ کو تجاویز پیش کرنے کی غرض سے ملک کی معروف مزدور تنظیموں اور آجران کی تنظیموں کو ارسال کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود مزدور رہنماؤں کی اکثریت نے حکومت کے اس عمل پر اپنے شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کو محض ایک دکھاوا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دراصل دونوں صوبائی حکومتیں در پردہ اس متنازعہ لیبر کوڈ کے نفاذ کا تہیہ کئے بیٹھی ہیں۔
واضح رہے کہ 19،اپریل 2010ء کو ملک میں آئینی اصلاحات کے نام پر دستور پاکستان میں بلا کسی بحث و مباحثہ کے منظور ہونے والی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاق کی ہم درجہ فہرست (Concurrent list) کا خاتمہ کر کے 15 وفاقی وزارتوں محنت، تعلیم ،صحت، ترقی نسواں، امور نوجوانان، بہبود آبادی، زکٰوۃ و عشر ، سیاحت اور آثار قدیمہ کے شعبوں کو چاروں صوبوں کو منتقل کردیا گیا تھا ۔ جس کے باعث کروڑوں افراد پر مشتمل محنت کش طبقہ وفاقی اکائی سے نکل کر چاروں صوبوں میں تقسیم ہوچکا ہے جن کے پاس لاکھوں پر مشتمل افرادی قوت کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لئے نہ تو تکنیکی مہارت موجود ہے اور نہ ہی مطلوبہ وسائل دستیاب ہیں ۔ لہذاء اس آئینی ترمیم کے نتیجے میں دیگر اہم شعبوں کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے محنت کش طبقے کے مفادات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
جبکہ حکومت سندھ کے محکمہ محنت و انسانی وسائل کے مطابق مجوزہ سندھ لیبر کوڈ- 2024 متعارف کرانے کا بنیادی مقصد صوبے میں مروجہ 21 مزدور قوانین بشمول صنعتی و تجارتی ملازمت( احکامات قائمہ) آرڈیننس 1968ء، فیکٹریز ایکٹ، قانون صنعتی تعلقات اور شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ قانون کو مستحکم کر کے انہیں قانونی شکل دینا ہے ۔
لیکن اگر مجوزہ لیبر کوڈ-2024ء کے مسودہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس کی سب سے قابل اعتراض شقوں میں سے ایک اہم شق کارکنوں (Workmen) کی تعریف کو وسعت دینے کے نام پر ہر کام کرنے والے فرد کو ملازم (Employee) کا درجہ قرار دینا ہے ۔ گویا اب اس نئے مزدور ضابطہ کی رو سے ہر صنعتی ادارہ کے سپروائزر، افسران اور کارکنوں کو بھی ملازم (Employee) ہی تصور کیا جائے گا!۔۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں محنت کش اپنے حقوق کا مطالبہ آخر کس سے کریں گے اور ان کا اصل آجر (Principal Employer) کون ہوگا۔؟ کیونکہ مجوزہ لیبر کوڈ میں آجر (Employer) کی تعریف میں اصل مالک ( Principal Employer) کے ساتھ ساتھ ادارہ کو کنٹرول کرنے والے قابض فرد (Occupier) اور ٹھیکیداروں (Contractors) کو بھی شامل کردیا گیا ہے۔ یوں اس لیبر کوڈ کے نفاذ کی صورت میں کسی بھی ادارہ کا اصل مالک اپنی قانونی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے ان ذیلی عناصر کے پیچھے چھپنے میں کامیاب ہو جائے گا کہ جس سے بطور آجر (Employer)محنت کشوں کو اپنے حقوق طلب کرنے ہیں ۔
ماہرین مزدور قوانین کے مطابق مجوزہ لیبر کو ڈ-2024 اپنے بیانیے میں خود شدید تضادات اور الجھنوں کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ مروجہ مزدور قوانین، صنعتی و تجارتی ملازمت (احکامات قائمہ) مجریہ 1968ء میں محنت کشوں کی غیر مستقل اور مستقل ملازمت کی وضاحت کی گئی ہے ۔ جس کی رو سے کسی محنت کش کی ملازمت مسلسل 90 یوم تک جاری رہنے کی صورت میں وہ کارکن قانون کے مطابق ملازمت پر از خود مستقل ہوجاتا ہے ۔جبکہ مجوزہ لیبر کوڈ میں اس قانون کے برعکس کارکنوں کی ملازمت کے معاہدہ یعنی ملازمتی ٹھیکہ (Employment contract) کو محدود اور لامحدود مدت کے ٹھیکہ(Fixed-term and indefinite term contract) میں تبدیل کر کے صنعتی اداروں میں محنت کشوں کی بدترین ٹھیکہ داری نظام کے ذریعہ بھرتیوں کی راہ ہموار کی گئی ہے ۔ گویا یہ لیبر کوڈ2024 بدنام زمانہ استحصالی ٹھیکیداری نظام کے قانونی ہونے پر اپنی مہر ثبت کرتا ہے۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ دونوں صوبائی حکومتوں کے اس مزدور دشمن طرز عمل کے نتیجہ میں ملک کے صنعتی شعبہ میں نا صرف استحصالی ٹھیکیداری نظام مضبوط و توانا ہوگا بلکہ مستقبل میں کارکنوں کے لئے مستقل ملازمتیں بھی ایک خواب بن کر رہ جائیں گی۔
مزید برآں یہ مجوزہ لیبر کوڈ مروجہ مزدور قوانین کے تحت کارکنوں کے تحفظ ملازمت پر ایک اور کاری وار کرتے ہوئے روزگار فراہم کرنے والے اداروں (Employment Agencies) کا ایک نیا قانون بھی متعارف کراتا ہے جس سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں روزگار فراہم کرنے والے نجی ادارے لاکھوں محنت کشوں کو ان کے بنیادی حقوق اور استحقاق کے بر خلاف محض اپنی من مانی شرائط پر صنعتوں، کارخانوں، کاروباری اور تجارتی اور دیگر اداروں میں مطلوبہ افرادی قوت فراہم کرنے کے مجاز ہوں گے۔
مجوزہ لیبر کوڈ 2024 اپنے مسودہ میں جا بجا محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اس کے اصل آجر کے بجائے اس کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی ذمہ داری متعلقہ ٹھیکیدار پر عائد کرتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ لیبر کوڈ صنعتی، کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں میں کارکنوں کے ایک بنیادی حق ٹریڈ یونین کے کردار کو بھی کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ جس کے تحت صنعتی اداروں میں اجتماعی سودا کار ایجنٹ (CBA) کے علاوہ ادارہ میں قائم دوسری ٹریڈ یونین کو بھی صنعتی حقوق اور صنعتی تنازعات پر آواز بلند کرنے اور ہڑتال کا حق فراہم کیا گیا ہے ۔
مجوزہ لیبر کوڈ کام کی جگہ صحت و حفاظت (Health and Safety) کے قوانین کے تحت صنعتی حادثات کی صورت میں اس کی ذمہ داری بیک وقت ٹھیکہ دار، قابض فرد (Occupier) اور مشینری و پرزہ جات کے فراہم کنندگان کو قرار دے کر صنعت کے اصل مالک( Principal Employer) کو اس سے بری الذمہ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ لیبر کوڈ میں غیر رسمی شعبہ (Informal Sector) کے محنت کشوں یعنی زرعی مزدوروں، گھریلو ملازمین، گھر پر بیٹھ کر روزی کمانے والوں، تعمیراتی کارکنوں، پلیٹ فارم کارکنوں اور زیر تربیت کارکنوں کو "رسمی مزدور” کا سبز باغ دکھاتے ہوئے ان کے لئے ایک علیحدہ عدالتی نظام اور نگراں کمیٹیوں کے قیام کے نام پر اس طبقہ کو کنارے کردیا گیا ہے ۔ مجوزہ لیبر کوڈ میں سب سے بڑا ظلم ملک کے طول و عرض میں بھٹوں میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں مظلوم بھٹہ و خشت مزدوروں اور جبری مزدوروں سے لی جانے والی جبری مشقت کو باقاعدہ کر کے ان کو ادا کردہ پیشگیوں(Advances) کو ایک خاص حد تک جائز قرار دیا گیا ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ملک میں طفلی مزدور( Child Labour) اور جبری مشقت (Forced Labour) جیسے ظالمانہ نظام کے خلاف چلائی جانے والی طویل جدوجہد اور مروجہ قوانین پر کالی سیاہی پھیر دی گئی ہے۔
ایک محتاط جائزہ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 95 فیصد سے زائد کارکن اپنے صنعتی، کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں اداروں میں طویل عرصہ سے خدمات انجام دینے کے باوجود باقاعدہ تقرر ناموں (Appointment letters) سے محروم ہیں ۔ لہذاء اپنی ملازمتی دستاویزی شناخت نہ کے باعث لاکھوں کارکن اور ان کے لواحقین محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم کئے گئے وفاقی و صوبائی اداروں خصوصاً EOBI, WWF, ESSI کی تاحیات پنشن، اپنے اور اہل خانہ کے علاج و معالجہ کی سہولیات، بچوں کی تعلیم اور رہائشی سہولیات، بچیوں کے لئے جہیز گرانٹ اور وفات کی صورت میں ڈیتھ گرانٹ اور دیگر قانونی فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ اگرچہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان 8 دسمبر 2017ء کو اپنے ایک تاریخی فیصلہ میں ملک کی صنعت و حرفت کے شعبہ میں رائج بدترین ٹھیکیداری نظام یا فریق سوم (Third Party) جیسے ظالمانہ نظام کو سراسر غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور ایسے تمام آجران کو ہدایت کی گئی تھی کہ ٹھیکیداری نظام کے تحت خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو ان کی سابقہ مدت سے ان کی ملازمتوں پر مستقل کیا جائے ۔ لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس واضح فیصلہ کے باوجود انتہائی بااثر اور قانون سے بالاتر آجران برادری نے آج تک اس فیصلہ پر عملدرآمد نہیں کیا، جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
لہذا اس تشویش ناک صورت حال کے پیش نظر ملک کی 11 بڑی مزدور فیڈریشنوں نے اپنے 24 جولائی 2024ء کے اعلان لاہور کے ذریعہ پنجاب و سندھ مجوزہ لیبر کوڈ 2024ء کو یہ کہتے ہوئے یکسر مسترد کردیا ہے کہ مروجہ مزدور قوانین ٹریڈ یونین تحریک اور محنت کش طبقہ کی گزشتہ 77 برس کی طویل جدوجہد،لازوال قربانیوں ،قید و بند کی صعوبتوں اور صبر آزما قانونی جنگ کے نتیجہ میں میسر آئے ہیں اور ہم اسے کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتے ۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ ملک کے اکثر صنعتی،کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں میں ان مزدور قوانین پر بھی کما حقہ عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ لیبر فیڈریشنز کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہمارا یہ متفقہ فیصلہ ہے اور ہم واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ ہم اس مجوزہ لیبر کوڈ 2024 کو کسی قیمت پر بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ کیونکہ حکومت پنجاب اور حکومت سندھ پر دستور پاکستان اور عالمی ادارہ محنت کے منظور شدہ قوانین کی رو سے یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک میں کسی بھی نئے مزدور قوانین کے نفاذ سے قبل طے شدہ سہ فریقی مشاورت کے ذریعہ جملہ شراکت داروں آجران اور مزدور فیڈریشنوں کو ضرور اعتماد میں لیا جائے تاکہ اس کی بدولت نا صرف ملک کے کروڑوں محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے بلکہ ملک کے ہزاروں صنعتی، کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں میں صنعتی امن کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پیداواری عمل کو بھی جاری رکھا جا سکے ۔


