سیکولر ازم کی حقیقت

میرے خیال میں مسلم معاشرے میں جس لفظ کو سمجھنے میں بڑی غلطی کا ارتکاب کیا گیا ہے، وہ ہے سیکولر ازم۔ سیکولر کا لفظ سنتے ہی ہمارے تخیلات کے گھوڑے دور دور تک دوڑنے لگتے ہیں۔ اس لفظ سے وابستہ جو خیالات ذہن میں آتے ہیں، وہ کچھ اس طرح ہوتے ہیں :
ایک ایسا معاشرہ جس کی بنیاد لادینیت پر ہوگی۔
ایسا معاشرہ جہاں الحاد کا دور دورہ ہو گا۔
ایسا معاشرہ جہاں مذہب پر پابندی ہوگی۔
ایسا معاشرہ جو بے راہ روی کا شکار ہو گا۔
ایک سیکولر معاشرے کے بارے میں یہ تاثرات انتہائی لاعلمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ سیکولر ازم کے تصور کو سمجھا جائے اور اس احساس کو فروغ دیا جائے کہ اگر قوموں کی صفوں میں آگے بڑھنا ہے تو اسلامی دنیا، بشمول پاکستان، کو ایک سیکولر سوچ اپنانی ہو گی۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ سیکولر نظام کی کیا تعریف ہے؟ پھر یہ کہ ایک سیکولر ریاست ایک مذہبی ریاست سے کس طور مختلف ہو گی؟
ایک سیکولر معاشرے کی بنیاد اس اصول پر رکھی جاتی ہے کہ مذہب کا سٹیٹ سے تعلق نہیں ہو گا۔ ایک سیکولر ملک میں ہر شخص کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔
کسی مذہب یا مسلک کو دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں ہوتی۔
مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ خاص سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔
ہر شخص کو اپنے مذہبی تہوار منانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔
ریاست کے قوانین خالصتاً عوام کی بہتری کے لیے بنائے جاتے ہیں اور اس میں مذہب کا کردار کم سے کم ہوتا ہے۔
مذہبی رہنماؤں کا سیاسی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
تعلیم میں مذہب کا کردار صرف دینیات کے مضمون تک محدود ہوتا ہے۔
اس تعریف کی روشنی میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ سیکولر ازم کا مقصد لادینیت اور الحاد کو فروغ دینا ہرگز ہرگز نہیں۔
یوں تو کامیاب سیکولر ممالک کی بہت سی مثالیں ہیں لیکن میں یہاں امریکہ کی مثال پیش کرتا ہوں۔ جب اٹھارہویں صدی کے آخر میں امریکی آئین مرتب کیا جا رہا تھا تو جو بنیادی اصول طے کیا گیا اس کے مطابق مذہب کا ریاستی معاملات میں کوئی دخل نہیں ہو گا اور ہر شخص کو اپنے مذہبی عقائد کی روشنی میں زندگی گزارنے کا مکمل اختیار ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اصول اس وقت طے کیے گئے جب امریکہ کی تقریباً ساری آبادی عیسائی مذہب پر مشتمل تھی۔ یہ ضرور تھا کہ عیسائی مذہب کے بہت سے فرقے موجود تھے۔
امریکہ کی تمام تاریخ میں مذہبی آزادی ملکی قوانین کی جڑوں میں موجود رہی ہے۔ نہ صرف عیسائی مذہب کے تمام فرقوں کو بلکہ دوسرے تمام مذاہب کے لوگوں کو ہر دور میں اپنی مذہبی روایات، عبادات اور تہوار منانے کی مکمل آزادی رہی ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکہ کے ہر بڑے اور چھوٹے شہر، جہاں مسلمان آباد ہیں، مسجدیں موجود ہیں جہاں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا انتظام ہے اور جہاں جمعہ اور عید کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں جن کی سہولت کاری میں حکومت کردار ادا کرتی ہے۔
اس سیکولر معاشرے میں جس چیز کی اجازت نہیں اور جو قانونی جرم سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ کوئی ادارہ مذہب کی بنیاد پر ملازمت میں بھرتی کرنے کا مرتکب ہو۔ یا یہ کہ کوئی مذہبی گروہ کسی دوسرے مذہبی گروہ کے خلاف نفرت کا فروغ کرتا پایا جائے یا کوئی مذہبی گروہ اپنے عقائد کی روشنی میں اپنے سے مختلف کسی دوسرے مذہبی گروہ کے افراد کو قابل سزا تصور کرے۔ امریکہ کی طرح یورپی اور دوسرے ممالک نے سیکولر ازم کو اپنے آئین کی بنیاد قرار دیا۔
سیکولر ممالک میں مذہبی رواداری کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے بہت سے مذہبی رہنما جو خود کو اپنے ملکوں میں محفوظ نہیں سمجھتے، ان ممالک میں بلا دھڑک اور کسی خوف کے بغیر اپنی علمی اور تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان میں وہ رہنما بھی شامل ہیں جو ان سیکولر ممالک کی آزاد فضا میں بڑی شد و مد کے ساتھ اسلامی دنیا میں اسلامی ریاست کے تصورات کی آبیاری کرتے نظر آتے ہیں۔ سیکولر سوچ کے مخالفین کے لیے یہ ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ اگر کسی ملک میں آپ بحیثیت اقلیت قیام پذیر ہوں، تو آپ کی سوچ کیا ہوگی۔ انڈیا کی مثال سامنے ہے۔ انڈیا میں ہندو اکثریت ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں۔ جس طرح ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں، اگر اسی طرح انڈیا اپنے ملک کو ہندو ریپبلک آف انڈیا بنانے کا اعلان کردے اور امریکہ کرسچن ریپبلک آف امریکہ بن جائے تو ہمیں کتنا مضحکہ خیز لگے گا۔ سب سے پہلے تو ہم ان ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے فکر مند ہو جائیں گے۔ ہمارا تصور ہو گا کہ مسلمان ان ممالک میں دوسرے درجے کے شہری ہوں گے۔ ذرا سوچیں کہ موجودہ دور میں بھارت میں جس مذہبی جنونیت کا دور دورہ ہے، وہ پاکستان جیسے ملک میں کس قدر تکلیف دہ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف بھارت میں جب بھی سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پاکستانی حکومت اور عوام بے چین ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ملک میں سیکولر ازم کا لفظ بھی ناقابل برداشت ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں۔
ایسا معاشرہ جس میں جمہوریت ہو اور ہر شخص کو برابر حقوق حاصل ہوں۔
ایسا معاشرہ جس میں تعلیمی نظام کا مقصد ایک آزاد سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ ہو۔
ایسا معاشرہ جس میں ہر شخص دوسرے کے عقائد کا احترام کرتا ہو۔
ایسا معاشرہ جس میں وقت کی ضرورت کے مطابق قوانین بنائے جاتے ہوں نہ کہ ان ہزاروں سال پرانی روایات کی بنیاد پر جو آج کے تقاضوں سے کسی طور ہم آہنگ نہیں۔
ایسا معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ایک سیکولر سوچ اپنانی ہو گی۔ مثلاً ایک مذہبی مملکت جمہوری اقدار نہیں اپنا سکتی۔ مذہب سے وابستہ راست بازی کی سوچ کی موجودگی میں جمہوری اقدار فروغ نہیں پا سکتیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دنیا میں اٹھاون اسلامی ممالک ہیں لیکن جمہوریت اپنی صحیح روح کے ساتھ کہیں موجود نہیں۔ کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں جہاں ایک مناسب مدت تک وقت پر ایسے انتخابات ہوتے رہے ہوں جن کے نتائج جیتنے اور ہارنے والے، دونوں کے لیے قابل قبول ہوں۔
اب آتے ہیں پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کی طرف۔
مذہبی ریاست کے حق میں جو دلیل بڑی شد و مد سے دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مذہبی ریاست انسانی اقدار کی ضامن ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ نماز، ناظرہ قرآن، قرآت، حدیثیں، یہ سب ایک ایماندار، انصاف اور رواداری سے بھرپور معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن کیا ایسا ہے کہ اسلامی ممالک ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس میں انسانی اقدار فروغ پا رہی ہوں۔ جہاں جھوٹ بولنا سب سے مکروہ فعل سمجھا جاتا ہو، جہاں کے منصفوں کے فیصلے کسی شک سے بالا تر ہوں۔ جہاں سب شہریوں کو ان کے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔ صورت حال تو یہ ہے کہ یہ انسانی اقدار سیکولر معاشرے میں تو موجود ہیں لیکن اسلامی معاشرے ان سے عاری نظر آتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکولر معاشرے کی کیوں ضرورت ہے۔
مذہبی سوسائٹی ان روایات پر قائم ہوتی ہے جو ہزاروں سال پرانی ہیں۔ ان روایات نے ذہن پر تالے ڈالے ہوتے ہیں۔ سائنسی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے بھی سیکولر معاشرے کا قیام ضروری محسوس ہوتا ہے۔ ایک سائنسی سوچ کے مطابق اس کائنات میں ہونے والے ہر واقعے کی سائنسی توجیہہ موجود ہے۔ جن واقعات یا مشاہدات کی اس وقت سائنسی توجیہہ موجود نہیں ان کو سوسائٹی ایک معجزہ قرار دینے کی مجاز نہیں بلکہ یہ سوچ موجود ہونی چاہیے کہ سائنسی قوانین کی بہتر سمجھ کے ساتھ ان واقعات کی وضاحت ممکن ہو جائے گی۔ یہ سوچ معاشرے میں سائنسی ترقی کے لیے اشد ضروری ہے۔
پاکستان جیسی اسلامی مملکت میں سائنسی سوچ کا پنپنا اس لیے مشکل نظر آتا ہے کیونکہ معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی طرح تعلیم کے اہم شعبے میں بھی مذہبی رہنماؤں کا خوب عمل دخل ہے۔ کوئی تعلیمی پالیسی ان کی مداخلت کے بغیر تشکیل دینا ناممکن نظر آتا ہے۔
اس کی ایک اہم مثال یہ تحقیق ہے کہ ہم اپنے اردگرد جو کائنات دیکھتے ہیں وہ ساری کائنات کے پانچ فیصد سے بھی کم ہے، باقی پچانوے فیصد ہماری نگاہوں سے اس طور اوجھل ہے کہ ہمارے سائنسی آلات اس کی پیمائش کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مذہبی ماحول میں یہ تصور کرنا بہت مناسب لگتا ہے کہ ہم اس اس پچانوے فیصد کائنات کے لیے مذہبی تاویلیں دینا شروع کر دیں۔ لیکن سائنسی سوچ سے مزین معاشروں میں پچھلے کئی سالوں سے یہ معلوم کرنے کی سر توڑ کوشش جاری ہے کہ آخر اس پوشیدہ مادے اور توانائی کی نوعیت کیا ہے۔ یہ معاشرے کائنات کے ان اسرار کو سمجھنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ ایسا ان معاشروں میں ممکن ہے جہاں مذہب کا کردار محض ذاتی زندگی تک محدود ہو اور جن کی بنیادیں سیکولر سوچ پر قائم ہوں۔
ذرا تصور کریں کہ کیا پاکستان جیسے اسلامی ملک میں کائنات کے اسرار سمجھنے کی کوششوں کے لیے ایک خطیر رقم مختص کی جا سکتی ہے۔ سب سے بڑی مخالفت تو ان مذہبی رہنماؤں کی طرف سے آئے گی جو سائنس کو قرآن کے تابع سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج تک کوئی اسلامی ملک کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی کوششوں میں حصہ نہیں ڈال سکا ہے۔ ایسے اسلامی ممالک جن کے پاس بے تحاشا دولت ہے ٹیکنالوجی کے پروجیکٹ میں تو دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں لیکن بنیادی سائنسی قوانین کی تلاش میں کوئی منصوبہ سازی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان معاشروں میں یہ وقت اور پیسوں کا ضیاع ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے کو ٹیکنالوجی میں تو دلچسپی ہو سکتی ہے لیکن بنیادی سائنس میں نہیں۔ یہ کیا وجہ ہے کہ کہ کسی اسلامی ملک میں ہبل ٹیلی سکوپ جیسا پروجیکٹ تشکیل نہ پا سکا حالانکہ اسلامی سنہری دور میں فلکیات کے شعبے میں ابن کثیر الفرغانی، ابن موسیٰ الخوارزمی، نصیرالدین طوسی اور ابوریحان البیرونی جیسے اپنے وقت کے عظیم ترین ماہرین فلکیات پیدا ہوئے۔ اسی طرح نئے بنیادی پارٹیکلز کی دریافت یا gravitational wave detection جیسے کسی پروجیکٹ میں، جن کا مقصد محض کائنات کے اسرار کو سمجھنا ہو اور کچھ نہیں، یہ کام صرف ان ممالک میں ممکن ہو سکا ہے جہاں مذہبی رہنماؤں کا تعلیم اور سائنس کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ ایک سیکولر معاشرے میں ہی ممکن ہے۔
پاکستان جیسے اسلامی ممالک کا حال تو یہ ہے کہ اس میں ایک بہت بڑی تعداد میں بچے مدرسوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ان مدرسوں سے ایک دن ایک بڑا سائنسدان یا ریاضی دان یا ماہر معیشت یا جدید علم کے کسی دوسرے شعبے میں بڑا عالم پیدا ہو گا۔ ایک سیکولر نظام تعلیم میں ان مدرسوں کی گنجائش نہیں۔ وہاں تو یہ تصور ہے کہ ایسی تعلیم ہر بچے کا حق ہے جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ ایک مخصوص طبقے کی خواہش پر ان بچوں کے جدید تعلیم کے حق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو انسانی حقوق کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔
اس مضمون کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ایک سیکولر سوچ کس طرح جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اگر ہمیں اس دنیا میں ایک قابل عزت مقام حاصل کرنے کی تمنا ہے تو اس موضوع پر ایمانداری سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مذہبی بالادستی پر موجود، موجودہ نظام نے جن بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے، اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔

