اٹک کے اِس پر پار: دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
پاکستان مختلف قوموں اور تہذیبوں کا وطن ہے۔ تعداد کے حساب سے اس کی نصف سے زیادہ آبادی پنجابیوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ اس کے بعد پشتونوں کا نمبر آتا ہے پھر سندھیوں کا ۔ کسی زمانے میں مغربی پاکستان ون یونٹ ہوا کرتا تھا یعنی اس وقت کا پورا پاکستان ایک صوبہ تھا جس کا مرکزہ پنجاب تھا۔ اگرچہ یہ ون ہونٹ 1969 میں ختم ہو گیا تھا مگر اصلاً ایسا نہیں ہوا۔ آج بھی سابقہ این ڈبلیو ایف پی جو اب خیبر پختونخوا کہلاتا ہے ایسا لگتا ہے کہ کوئی الگ صوبہ نہیں ہے بلکہ یہ پنجاب کا کوئی حصہ ہے۔
اس لیے آج بھی اس کے تمام وسائل سیدھے پنجاب میں جاتے ہیں اور وہاں سے تقسیم ہوتے ہیں۔ بجلی جو پانی سے پیدا ہوتی ہے وہ خیبر پختونخوا سالانہ بیس ارب یونٹ پیدا کرتا ہے اس کی اپنی ضرورت دس ارب یونٹ سے بھی کم ہے۔ یہ انتہائی سستی اور ماحول دوست بجلی ہے۔ اس وقت پاکستان میں بائیس ہائیڈرو پاور سٹیشنز ہیں جن میں سے 14 خیبر پختونخوا میں ہیں۔ جن سے چھ ہزار سات سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ پنجاب میں جو ایک بڑا بجلی گھر ہے وہ غازی بروتھا ہے مگر کمال یہ کیا گیا کہ غازی گڑھی میں بننے والے بجلی گھر کو زبردستی کھینچ کر پنجاب میں لے جایا گیا یعنی یہ پانی بھی خیبر پختونخوا سے نہر نکال کر وہاں لے جایا گیا اگر اس کو بھی شامل کر لیں تو پھر نیٹ ہائیڈل بجلی اسی فیصد خیبر پختونخوا سے لی جا رہی ہے۔
جبکہ پنجاب اور سندھ میں بجلی بنانے کے لیے وہاں کے مافیاز تیل، گیس اور درآمدی کوئلہ کا استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے بجلی کی قیمت سو گنا بڑھ جاتی ہے اور وہ ماحول دوست بھی نہیں رہتی۔ اگر پاکستان کے نظام سے یہ پانی سے بننے والی سستی ترین بجلی نکال لی جائے تو پاکستان شاید ایک دن بھی اس کا بوجھ برداشت نہ کر سکے۔ مگر کمال دیکھیں کہ نہ تو اس بجلی کی اس صوبہ کو کوئی قیمت دی جاتی ہے اور نہ ہی اس صوبہ کے بیشتر علاقوں کو بجلی دی جاتی ہے۔
صوبہ کا اب بھی سات سو پچاس ارب روپے وفاق کے ذمہ بنتا ہے۔ جس کا تعین بھی وفاق نے خود کیا ہے اور یہ بہت ہی کم ترین شرح پر کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں بجلی نہ بنانے والوں کو کپیسٹی چارجز کی مد میں چھ گنا زیادہ ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ ان کو دینے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس پیسے موجود ہوتے ہیں اس لیے کہ یہ سارے پیسے ان حکمرانوں اور ان کے فرنٹ مینوں کے جیبوں میں جاتے ہیں۔
جبکہ ایک پورا صوبہ جس میں کروڑوں لوگ بستے ہیں۔ جس کو اس وقت شدید مالی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ویلینگ پالیسی آئی کہ ہر صوبہ اپنی بجلی بنا سکتا ہے اس کے خلاف تمام ڈسکوز عدالت پہنچ گئیں اور سٹے لے لیا۔ یعنی وہ جو کرپشن کریں، اپنی اجارہ داری کریں، لوگوں پر لوڈ شیڈنگ کا عذاب نازل کرتے رہیں ان کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ صوبوں کو قانون کے مطابق اپنی بجلی بنانے سے روکیں۔ اگرچہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے کہ صوبے اپنی بجلی خود بنائیں اور خود استعمال کریں۔
مگر اس کی اجازت نہ ملی اور صوبوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔ واپڈا ہاؤس لاہور میں ہے بجلی کا تمام کنٹرول لاہور میں ہے۔ خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی چار روپے کی بجلی لاہور سے واپس اس صوبہ میں آ کر اڑتالیس روپے کی بن جاتی ہے۔ پھر پنجاب میں ملی بھگت سے تیل، درآمدی کوئلہ اور درآمدی گیس سے بننے والی بجلی بنا کر اور بجلی نہ پیدا کرنے کی قیمت بھی اس صوبہ کے عوام سے لے کر ان کو دی جاتی ہے۔ یہی نہیں یہ صوبہ سب سے زیادہ قدرتی گیس بھی ملک کو دیتا ہے۔ یعنی 500 ایم ایم سی ایف ٹی۔ اس صوبہ کی ضرورت صرف 250 ایم ایم سی ایف ٹی ہے مگر وہ بھی اس صوبہ کو نہیں دی جاتی یہ ساری گیس پنجاب پہنچا دی جاتی جہاں اس سے کارخانے چلتے ہیں اور لوگوں کو سستی گیس کی سہولت ملتی ہے۔ پاکستان باہر سے جو گیس منگواتا ہے اس کی قیمت 24 ڈالر ہے اور خیبر پختونخوا سے نکلنے والی گیس کی قیمت چار ڈالر ہے۔ مگر اس گیس سے صوبہ کو کوئی پیسہ نہیں دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے آئین و قانون میں ہے کہ گیس پہلے مقامی لوگوں کو دی جائے گی اضافی باہر کے لوگوں کو ملے گی مگر خیبر پختونخوا میں اب گیس لوگوں کے لیے شجر ممنوعہ بنا دی گئی ہے۔ اور اس کی قیمت درآمدی گیس کے حساب سے اس صوبہ کے لوگوں سے بھی وصول کی جا رہی ہے۔ اس میں اس صوبہ کا کیا قصور ہے۔ درآمدی گیس کے مہنگے سودے پنجاب کرے، اس سے وہاں کی اشرافیہ کھربوں روپے بنائے اور پھر اس کی قیمت اس صوبہ سے وصول کی جائے جو اس درآمدی گیس کو استعمال ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے اپنے علاقوں کے پانچ گیس فیلڈ سے نکالنے والی گیس کا نصف سے بھی کم اس کی ضروریات کے لیے کافی ہے مگر وہ بھی اسے نہیں دی جاتی اور قیمت وہ وصول کی جاتی ہے جو قطر سے لائی گئی گیس کی ہے۔
پاکستان کے خام تیل کا 42 فیصد حصہ خیبر پختونخوا سے حاصل کیا جاتا ہے مگر کمال دیکھیں کی اس صوبہ میں ایک بھی تیل صاف کرنے کی ریفائنری نہیں ہے۔ سارے کے سارے پانچ تیل صاف کرنے والے کارخانے دیگر صوبوں میں ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تیل کی مارکیٹنگ کرنے والے اداروں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے مگر ان میں سے کسی ایک کا بھی ہیڈ آفس خیبر پختونخوا میں نہیں ہے۔ یہی نہیں پانی کی تقسیم میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ جو زیادتی ہوتی رہی ہے اور ہو رہی ہے اس کا جواز کسی کے پاس ہے کہ جب 1991 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ چاروں صوبوں کو پانی کی یکساں تقسیم اور رسائی کے لیے بڑی نہریں نکالی جائیں گی۔
یعنی چشمہ رائٹ کینال خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کو سیراب کرے گی۔ کچی کینال بلوچستان، رینی کینال سندھ اور تھل کینال پنجاب کو ۔ پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی بڑی نہریں بن گئیں اور ان صوبوں کے غیر آباد علاقے سیراب ہو گئے مگر خیبر پختونخوا کا چشمہ رائٹ کینال ابھی تک کاغذوں میں ہے اور اس پر مستقبل میں کسی کام کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ جو پانی کی تقسیم کی گئی تھی اس کینال کے نہ بننے سے وہ سارا پانی پنجاب کو مل جاتا ہے۔
کبھی کسی نے اس کا حساب کیا ہے کہ اس پانی کی کیا قیمت بنتی ہے۔ مگر پنجاب گندم منہ مانگی قیمت پر بھی سیزن میں خیبر پختونخوا نہیں آنے دیتا اور گندم روکنے کے لیے تمام راستوں پر پھاٹک بنا دیتا ہے۔ آج اگر جنوبی اضلاع میں دہشت گردی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں لوگوں کے پاس لاکھوں ایکڑ زمین تو ہے مگر وہ پانی نہ ہونے کے سبب اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اگر ان کو بروقت پانی مہیا کر کے زراعت میں مصروف کیا جاتا تو وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آلہ کار نہ بنتے۔
پاکستان سے ایکسپورٹ ہونے والا 90 فیصد تمباکو خیبر پختونخوا میں پیدا ہوتا ہے جس پر حکومت بہت ہی زیادہ ٹیکس جمع کر رہی ہے مگر اس کا فائدہ نہ تو صوبہ کو ہوتا ہے اور نہ صوبہ کے کسان کو ۔ اسی تمباکو کو آزاد کشمیر لے جا کر سگریٹ کے کارخانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو سے حاصل ہونے والے ٹیکس جس کی رقم چھ سو ارب سے زیادہ بنتی ہے اس کا کتنا حصہ اس صوبے کو دیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک میں پیدا ہونے والی معدنیات میں سب سے زیادہ حصہ بھی اس صوبہ کا ہے۔
مگر اس کا فائدہ صوبہ کو ہے ہی نہیں۔ سب سے زیادہ عمارتی لکڑی بھی اس صوبہ میں پیدا ہوتی ہے مگر اس کا استعمال پورا پاکستان کرتا ہے۔ اس پر ٹیکس وفاقی حکومت لیتی ہے۔ اس صوبے کو عملاً افغان جنگ کے لیے قربان کیا گیا۔ یہاں مجاہدین پیدا کرنے کی فیکٹریاں لگائی گئیں۔ افغانستان سے لائے گئے لوگوں کو یہاں کے مقامی لوگوں سے ہزار گنا زیادہ وسائل اور سہولیات اور ہر غیر قانونی و غیر اخلاقی کاموں کی کھلی اجازت دی گئی۔
اس صوبے کے سرحدی علاقوں کو سمگلنگ کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ پشاور شہر کے کارخانو مارکیٹ کو ہر قانون سے بالاتر ہر غیر قانونی شے کی فروخت کا مرکز بنایا گیا۔ اس صوبہ میں منشیات اور اسلحہ کو ایسا پھیلایا گیا کہ اب ہر گلی کوچے میں زندگی کی کوئی سہولت نہیں ہے مگر منشیات اور اسلحہ دستیاب ہے۔ جبکہ اسی عرصہ میں پنجاب میں صنعتی شہر بسائے گئے۔ اس صوبہ میں جتنے کارخانے تھے، ملیں تھیں ان کو پنجاب منتقل کیا گیا۔
ایک وقت تو ایسا آیا تھا کہ یہاں سے بڑے بڑے تاجروں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کریں۔ اس لیے یہاں کے شہری یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ ان کے تمام وسائل پر ان کو اختیار نہیں ہے۔ ان وسائل کا فائدہ دوسرے صوبوں کو ہوتا ہے۔ مگر دوسرے صوبوں سے اس صوبہ کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا۔ دوسرے صوبوں سے جو بھی چیز اس صوبہ میں آتی ہے وہ مہنگے داموں آتی ہے۔ اس صوبہ میں گیس اور تیل کے مزید ذخائر دریافت ہو رہے ہیں۔
معدنیات کی دریافت میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔ مگر اس کے مقابلے میں اس صوبہ کو وہ اہمیت اور وقعت نہیں دی جا رہی جو اس کو ملنی چاہیے۔ وفاق کا پی ایس ڈی پی پروگرام اٹھا کر دیکھیں وہ منصوبے جو پنجاب میں ہیں ان کو خاطر خواہ حصہ مل رہا ہے جبکہ اس صوبہ میں جو چند ایک منصوبے ہیں ان کو سالانہ حصہ جو مل رہا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مواصلات اور شہری و دیہی ترقی کے حوالے سے بھی اس صوبہ کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، ضم قبائلی اضلاع کے لیے جو اعلانات ہوئے تھے اس کا دس فیصد حصہ بھی برسوں گزرنے کے بعد ان علاقوں کو نہیں دیا گیا۔
اس صوبہ میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک حد تک خراب ہو چکی ہے مگر اس کو درست کرنے اور ان عوامل کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی جن کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ یہاں کی یونیورسٹیوں کو جان بوجھ کر تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں کے جنگلات کی کٹائی پر آنکھیں بند کی جا رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جو تباہی صوبہ کے شمالی علاقوں میں آ رہی ہے اس کے سدباب کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ۔ لاکھوں کی تعداد میں افغانی شہریوں کو یہاں رکھ کر اس کا ماحول مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ جن کی وجہ سے یہاں امن و امان خطرے میں رہتا ہے۔ منشیات اور اسلحہ اور غیر قانونی کاموں کا سلسلہ تقویت پکڑ رہا ہے۔ مذہبی اور لسانی شدت پسندی عروج پا رہی ہے۔ یہاں کے وسائل جو یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے بھی ناکافی ہیں ان پر افغانی شہریوں کا اضافی بوجھ یہاں مسائل پیدا کر رہا ہے۔ اس صوبہ میں صحت کے انتظام کے لیے سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ پشاور اور دیگر شہروں کے ہسپتالوں پر افغانی شہریوں کے بوجھ کی وجہ سے کسی بھی ہسپتال میں ایمرجنسی میں مریض کو بھی بستر دستیاب نہیں ہوتا۔
پاکستان میں ہر علاقے کے اپنے اپنے دکھ ہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا کے دکھ ان سب سے زیادہ اور تکلیف دہ ہیں۔ اس لیے کہ اس کے مالی وسائل پر اس کا اختیار نہیں ہے۔ پالیسی سازی میں اس صوبہ کا مفاد ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ اس کی ترقی کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں بنایا جاتا۔ پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں کی عیاشیوں اور کرپشن کا بوجھ اس صوبہ کے لوگوں پر ڈالا جاتا ہے اور یہاں روزگار کے تمام مواقع بند کیے جا رہے ہیں۔
یہاں کے نوجوانوں کو جان بوجھ کر شدت پسند بیانیے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے کے بجائے یہاں سے روزگار کے تمام مواقع ختم کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے کہ ون یونٹ کا حقیقی خاتمہ کیا جائے اور اٹھارہویں ترمیم کو اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ وہ وسائل جو یہ صوبہ خود پیدا کرتا ہے۔ یہاں کے شہری اس کی وہ ہی قیمت ادا کریں نہ کہ دیگر صوبوں کے مافیاز کی کرپشن کی قیمت یہاں کے لوگ چکائیں۔
تب کہیں جاکر یہاں بھی زندگی معمول پر آ سکتی ہے ورنہ یہاں جو جذبات پل رہے ہیں وہ پنجاب کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی وفاق کے حق میں ہیں۔ ظلم پر مبنی فیصلے خوشحالی کا سبب نہیں بنتے۔ بلکہ ان سے انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان تمام صوبوں کا نام ہے۔ چھوٹے صوبوں پر شفقت سے ان کی محرومیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔



The perception based on various assumptions is partly correct but who is responsible for all that sply since 11 yrs one party is ruling here except one Yr period of last Yr
Why they failed to get funds from Center sply when their own party was in chair
It’s anyhow genuine crib and I can explain and suggest a lot which need 4 to 5 writeups
Better come on roads
But avoid naming other provinces
سندھ کے شہری علاقوں کو جو گالیاں دی ہیں ان کے اپنے دکھڑے ہیں۔ جس طرح پانی آپ اپنا سمجھ رہے ہیں کیا بندرگاہ کراچی والوں کی نہیں۔ اس طرح بندرگاہ کی کمائی ان کو جانا چاہئے
شہری علاقوں کے لوگوں کا کوٹے کے نام پر 51 سال سے جو استحصال ہورہا ہے اس کا مداوا کون کرے گا
باقی قانون کے دائرے میں رہ کر صوبہ اتنا کچھ کرسکتا ہے کہ پنجاب اور وفاق کی کانپیں ٹانگ جائیں
آزمائش شرط ہے لیکن یہاں لکھ کر نہیں بتاسکتا