شیخ حسینہ واجد کے فرار پر بنگلہ دیش میں جشن کا سماں


آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا بنگلہ دیش پر پندرہ سال سے مسلط خاتون وزیراعظم اور ملک کی جنگ آزادی کے ہیرو شیخ مجیب الرحمٰن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد عوامی احتجاج کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہوئیں۔ اور اطلاعات کے مطابق ہندوستان پہنچ گئی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ موصوفہ ہندوستان سے لندن چلی جائیں گی۔

بنگلہ دیش گزشتہ کئی دنوں سے شدید بد امنی کا شکار رہا۔ اور اسی بد امنی کے دوران جو ظلم کے پہاڑ عوام اور اسٹوڈنٹس پر توڑے گئے۔ ان کی توقع ایک جمہوری حکومت سے بالکل نہیں کی جا سکتی تھی۔ لیکن تیسری دنیا کے مسلمان حکمران طبقات کا وتیرہ رہا ہے کہ جب وہ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھتے ہیں تو انہیں وہ کرسی بہت مضبوط لگنے لگتی ہے۔ اور اپنے مستقبل کے برے انجام سے یکسر غافل ہو جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے شیخ حسینہ واجد نے نہتے عوام پر تشدد کی بدترین ہتھکنڈے استعمال کیے ۔ اور اس کی کوتاہ اندیشی دیکھئے کہ احتجاج کو مظالم سے دبانے کی کوشش کی۔ اور آخرکار اسے بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

بنگلہ دیشی عوام کی بے مثال قربانی آخر رنگ لائی اور ان کی جد و جہد کے نتیجہ میں ظالم اور بے رحم حکمران شیخ حسینہ واجد کو رخصت ہونا پڑا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تیسری دنیا کے عوام کے لئے ایسی جدوجہد بہت معانی رکھتی ہے۔ کیونکہ عوام کی طاقت کے آگے کسی سنگدل حاکم کی کوئی اوقات نہیں ہوتی۔ بشرطیکہ عوام میں جینوئن ایشوز کے اوپر اتحاد و اتفاق ہو۔ اور سب کی منزل تک رسائی ایک متفقہ نکتے پر ہو۔ تو پھر کامیابی یقینی ہوتی ہے۔ جیسا کہ بنگلہ دیش کے قضیے میں نظر آیا۔

اس وقت آرمی نے مداخلت کر کے حسینہ واجد سرکار کو رخصت کیا۔ اور اعلان کیا کہ عوام تسلی رکھیں۔ حالات جلد نارمل ہوجائیں گے۔ دوسری جانب تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں۔ کہ تنگ نظر قوم پرست حسینہ واجد کی پندرہ سال پر محیط طویل کہانی اب ختم ہو چکی ہے۔ اگر وہ دور اندیشی سے کام لیتیں، غرور اور تکبر کے بجائے تدبر سے کام لیتیں، تو آج انہیں اس قدر رسوائی اور بے سر و سامانی میں نہ بھاگنا پڑتا۔ لیکن کیا کیا جائے کہ انتہائی تنگ نظری پر مبنی اندھی اور خطرناک حد تک پر اعتماد قوم پرستی کا آخر یہی انجام ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش میں اس وقت خوشی کا سماں ہے۔ بنگلہ دیش عوامی لیگ کو چھوڑ کر دیگر پارٹیوں سمیت تقریباً ہر بنگلہ دیشی باشندہ چاہے وہ اسٹوڈنٹ ہو یا عام آدمی وہ پندرہ سالہ طویل اکتا دینے والے دور کے المناک اور شرمناک خاتمے پر بظاہر خوش دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے خوشی کے اظہار کو نوافل ادا کر کے بھی کیا۔ الغرض بنگلہ دیش کے طول و عرض میں اس وقت جشن کا سمان ہے۔

حسینہ واجد کے دور حکومت میں جماعت اسلامی والے سب سے زیادہ زیر عتاب رہے تھے۔ ان کے سرکردہ رہنماؤں نے قوم پرستوں کے ہاتھوں ذلتیں برداشت کیں۔ اور کئی رہنما تو سیدھا تختہ دار پر لٹکا دیے گئے۔

اس طرح ہزاروں مخالفین کو نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ملک کی تحریک آزادی میں حصہ لینے کے بجائے ملک کے دشمنوں کا ساتھ دیا۔ یعنی پاکستانی فورسز کے ساتھ مل کر بنگالیوں کے قتل عام میں حصہ لے کر ناقابل معافی غداری کی۔

یہاں ان کا اشارہ واضح طور پر الشمس اور البدر جیسی تنظیموں کی جانب تھا۔ جو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران وفاقی سیکورٹی فورسز کے شانہ بہ شانہ لڑ رہے تھے۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ عوامی لیگ کے تیس فیصد کوٹا سسٹم کا مقصد بھی اپنی پارٹی کے جیالوں کو نوازنا تھا تاکہ اقتدار پر اپنی پکڑ مزید مضبوط کی جائے۔ حالانکہ یہ کوٹا سسٹم اپنی ذات میں بہت ہی نا انصافیوں پر مبنی تھا۔ اپنی پارٹی کے کارکنوں کو آزادی کے ہیروز کے نام پر نوازنا اور انہیں ہر طرح کے مراعات دینا اس بدترین کوٹا سسٹم کی وجہ سے ممکن بنایا گیا جو اصل خرابی کی جڑ تھا۔

عام لوگوں کو کوٹا سسٹم پر اعتراض تھا کہ اس کا حجم بہت بڑا ہے۔ اسے انتہائی نا انصافی کر کے تیس فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔ جبکہ اسے بہت کم ہونا چاہیے۔

جب احتجاج حد سے بڑھنے لگا اور کثیر تعداد میں اموات ہوئیں۔ تب بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے مداخلت کر کے تیس فیصد کوٹا منسوخ کیا اور گھٹا کر سات فیصد کیا لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔ پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اور پر تشدد احتجاج رکنے میں نہیں آیا۔

آخر کار فوج کو مداخلت کرنا پڑی۔ شیخ حسینہ کو ڈھاکا کا اپنا آفس چھوڑنا پڑا اور ہوائی جہاز میں دھلی جانا پڑا۔

بڑے رسوا ہو کے تیرے کوچے سے ہم نکلے۔

حسینہ واجد کے بعد کے بنگلہ دیش میں کیا سیاسی صورتحال بنے گی۔ یہ آنے والے چند دنوں میں واضح ہو جائے گی۔ فی الحال لوگ خوشی سے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ احتجاج جلاؤ گھیراؤ اور تشدد پر آمادہ لوگوں جمگھٹے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ خوشی منا رہے نوجوان برادری کی ٹولیاں ہیں۔ جن کے کئی دنوں کی محنت اور قربانیاں رنگ لائیں۔ اور استبداد کی طویل رات کا خاتمہ ہوا۔

دنیا کے اور خطوں میں رہنے والے مظلوموں کے لئے بنگلہ دیش کی موجودہ انقلاب آفرین تبدیلی کے پیچھے بڑے اشارے چھپے ہیں۔ جو مظالم کا شکار اور پابند سلاسل لوگوں کو خوشخبری سناتے ہیں۔ کہ اگر ہاتھوں میں ہاتھ دے کر آہنی عزم و استقامت کی تپش پہنچائی جائے۔ تو موٹی سے موٹی فولادی زنجیریں بھی پگھل کر کٹ سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS