بنگلادیش میں عوامی انقلاب

بنگلادیش کے حالت کے باری میں ہم پاکستانی اپنا اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہیں، کسی کو یہ سب کچھ انڈیا کا کیا دھرا نظر آ رہا ہے کسی کو جماعت اسلامی پر پابندی کا نتیجہ لگ رہا ہے اور کسی کو حسینہ واجد کی غیرجمہوری حکومت کی وجہ نظر آ رہی ہے۔ مگر ہم پاکستانیوں کو بنگالیوں کے اصل مسائل کا بالکل اندازہ نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں بنگلادیش کی آزادی سے لے کر بنگلادیش میں انڈیا کا اثر رہا ہے۔ انڈیا کا اثر نہ صرف بنگال میں ہے بلک نیپال، سری لنکا میں بھی ہے۔ جیسے کبھی افغانستان میں ہمارا اثر ہوا کرتا تھا۔ ہر ملک اپنے مفاد کے لیے پڑوسی ملکوں پر انفلوئنس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے خیال میں بنگلادیش میں اس عوامی انقلاب کی وجہ صرف انڈیا کا اثر نہیں اور بھی بہت وجوہات ہے۔
بنگلادیش میں حسینہ واجد نے تقریباً 19 سال حکومت کی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں، وزیر اعظم حسینہ واجد نے بنگلادیش کو ایک نئی پہچان دی۔ بنگلادیش میں 2005 تک صرف 50 ہزار کلومیٹر کارپٹ روڈ تھا جو آج 90 ہزار کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے، بنگلادیش میں 5 انٹرنیشنل ائرپورٹ تھے اب 10 انٹرنیشنل ائرپورٹ بن چکے ہیں۔ 2005 تک بنگلادیش میں بجلی 50 فیصد تھی جو 90 فیصد کر دی گئی، ملک میں غربت 40 فیصد تھی وہ کم ہو کر 25 فیصد تک آ گئی، ملک کی جی ڈی پی پوری خطی میں بنگلادیش کی آگے ہے۔ بنگلادیش کے لوگ انڈیا سے بھی زیادہ امیر ہو گئے ہیں۔ ملک میں آبادی کی گروتھ کم ہو گئی ہے۔ جو کسی وقت میں پورے خطی میں زیادہ تھی بنگلادیش کے فارن ایسٹس $ 26815 ملین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو تاریخ کی بلند سطح ہے۔
اتنی ترقی کے بعد بھی بنگلادیش کے لوگ حسینہ واجد سے خوش کیوں نہیں تھے جو ایک بڑا سوال اور اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے کو تو بنگلادیش میں ایک جمہوری حکومت تھی مگر حقیقت میں وہ سویلین ڈکٹیٹر کا دور تھا جس میں اپوزیشن پارٹی کا رول ختم کر دیا گیا تھا، ملک میں پورے الیکشن کے نظام کو عوامی لیگ کی ونگ بنا دیا گیا تھا اور ملک میں ون پارٹی رول بنا دیا گیا تھا اس لیے حسینہ واجد کے مینڈیٹ پر بڑے سوال تھے۔ اس کے بعد فوج کو بھی اقتدار میں حصا دیا گیا تھا جو جمہوری حکومت میں بڑے سوال پیدا کر دیتا ہے اور جو ملک کی اہم پوزیشن تھی وہاں اپنے لوگوں کو لگانا اور میرٹ کا قتل بھی اہم سبب تھے۔
اب ایسے حالات میں اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے اپنے حق کے آواز اٹھانا شروع کی اور وہ ملک میں 30 فیصد کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ بنگلادیش میں 30 فیصد کوٹا فریڈم فائٹرز کے بچوں کو دیا جاتا ہے جو بنگلادیش کی آزادی میں لڑے تھے۔ یہ تقریباً 3 سے چار ہزار نوکریاں ہے جس پر انہوں نے اپنا احتجاج شروع کیا۔ جو دیکھتے دیکھتے ماس ایجیٹیشن میں تبدیل ہو گیا۔ 3 ہفتوں میں 300 نوجوان لڑکے مارے گے۔ مگر اس کے بعد بھی اسٹوڈنٹس کے احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اتوار کے دن اعلان کیا گیا کہ اسٹوڈنٹس ڈھاکہ مارچ کریں کے۔ کرفیو ہوتے ہوئے ہزاروں طلبہ جمع ہو گئے اور پولیس نے فائرنگ کر دی اور شام تک 70 لوگ قتل ہو چکے تھے مگر اس کے باوجود احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سارے یونیورسٹیوں کے بچوں نے اعلان کیا کسی بھی صورت میں سوموار کے دن ڈھاکہ پہنچے گے۔ جب ملک کی فوج نے حالات کو کنٹرول سے باہر ہوتے ہوئے دیکھا تو وزیر اعظم حسینہ واجد کو 45 منٹس کا ٹائم دیا کہ آپ ملک چھوڑ جائیں۔
حسینہ واجد لوکل ٹائم مطابق 2 بجے فوجی ہیلی کاپٹر پر ملک چھوڑ کر انڈیا چلی گئی اور اس کے آدھے گھنٹے بعد یہ خبر بھی آ گئی کہ حسینہ واجد نے استعفی دے دیا ہے۔ اس کے بعد بنگلادیش کے چیف آف آرمی اسٹاف وقار از زمان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ وزیراعظم حسینہ واجد نے استیفا دے دیا ہے اور اب ملک میں ایک انٹرم حکومت بنائی جائے گی۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ بنگلادیش میں انٹرم حکومت بن چکی ہے جس میں بنگلادیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے لوگوں کو حکومت میں شامل کیا گیا ہے مگر عوامی لیگ کے کسی فرد کو حکومت میں شامل نہیں کیا گیا۔
اب خدشہ اس بات کا ہے اگر اس عبوری حکومت نے عوامی لیگ کو کچلنا شروع کیا یا اس پر پابندی لگا دی تو بنگلادیش کے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ آپ عوامی لیگ کی لیڈرشپ سے اختلاف تو کر سکتے ہیں مگر عوامی لیگ بنگلادیش کی ایک مقبول پارٹی اگر اس کو الیکشن میں نہیں لڑنے دیا گیا تو ملک کے حالات اور خراب ہو جائیں گے۔
بنگلادیش کے حالات سے یہ بات سمجھ آتی ہے لوگوں کو ترقی کے ساتھ اپنے حقوق اور فریڈم آف ایکسپریشن بھی چاہیے اگر آپ ترقی کے نام سے لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالیں گے تو لوگ اس کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔


تو کیا ہم یہ انقلاب سندھ میں دیکھ سکتے ہیں ؟