برج کا شیام۔ کرشن کہانیوں کی دوسری کتھا


برج ایک بستی یا گاؤں نہیں تھا۔ برج ایک پوری تہذیب تھی مہاراجا شورسین کے نام پر اسے شورسینی تہذیب کہا جاتا ہے۔ برج میں دیوکی نندن (دیوکی ماتا کے بیٹے ) کے پیروں کی رَج (دھول) پڑی تھی جسے یمنا ندی نے چوراسی کوس تک پھیلا دیا تھا۔ یوں یہ برج، برج نہیں رہا دھام ہو گیا تھا

ابھی کچھ دیر قبل ہی میں یہاں پہنچی ہوں۔ اس سفر کی طویل داستان میں کئی پڑاؤ ہیں۔ یہاں پہنچتے ہی ایک رتھ میرے سامنے دھول اڑاتا گزرا ہے، اس دھول سے اٹھتی اشٹ گندھا (آٹھ مفردات کی خوشبو) نے بتایا کہ رتھ میں بنسی والا اپنی منڈلی کے دو بالکوں کے ساتھ گزرا ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میں یہاں کیوں پہنچی ہوں؟ دراصل مجھے یہاں برسانے والی کھینچ لائی ہے۔ وہ کدم کی بیلوں اور پالاش کی لٹاؤں کے پیچھے چھپی کسی کی راہ نہارتی ہے۔ میں فی الحال اسے محو رہنے دینا چاہتی ہوں، وہ جہاں ہے اسے وہاں سے لوٹا لانا اس کی ذہنی کیفیت کو اتھل پتھل کر سکتا ہے۔ شاید یوں آپ میری بات نہ سمجھ پائیں۔ چلیے کہانی سنیے۔

کنس نے نند گاؤں اور گوکل کے سبھی بالک قتل کروا دیے تھے لیکن وہ کرشن کا بال بھی بانکا نہیں کر پایا۔ وہ جھنجھلایا رہتا اور درباریوں، ملازمین اور ان راکھشسوں پر جو اس کے ہمہ وقت غلام بنے سیوا میں موجود رہتے تھے، غصہ اور جھنجھلاہٹ نکالتا۔ چَانُور اور باناسُر جو عیاری و مکاری میں کنس سے بھی دو ہاتھ آگے تھے، کنس کے چَتُر (عیار، مکار) مشیر تھے، انہوں نے یہ اسکیم وضع کی کہ ہمیں مختلف اوقات میں، الگ الگ نوع کے راکھشسوں کو نند گرام بھیجنا چاہیے تاکہ اس ایک ماہ کے بچے کو وقت رہتے ہی ختم کیا جا سکے۔ اس تجویز کے تحت سب سے پہلے وہاں پُوتنا پہنچی۔ پوتنا ایک راکھشسی تھی جو ویش بدل سکتی تھی۔ قدیم زمانے کے رواج کے مطابق وہ للا کی دودھ پلانے والی بن کر نند گرام پہنچی، اس نے یشودھا کو اپنی میٹھی میٹھی باتوں میں الجھا کر، خود کو اُچ کوٹی کی برہمنی بتا کر، بالک کو دودھ پلوانے پر راضی کر لیا تھا۔ نند بابا کی حویلی میں خوب رونق لگی تھی، گوالنیں اپنے کام کاج چھوڑ کر کرشن کے جنم گیت گاتی رہتیں تھیں، ابھی جنم کو آٹھ روز ہی گزرے تھے۔ پوتنا نے آ کر بتایا کہ اسے کسی رشی کا آشیش حاصل ہے جس کی وجہ سے اس کی چھاتیوں سے دودھ نہیں امرت بہتا ہے۔ یوں اس نے کرشن کو گود میں بٹھا کر دودھ پلانا شروع کیا۔ لیکن بہت جلد اس کی چیخیں فضا میں بلند ہونے لگیں، لوگ باگ گھبرا گئے۔ آہستہ آہستہ وہ چیخیں وحشت ناک دھاڑ میں بدلنے لگیں، پوتنا کا بھیس بدلنے لگا وہ ایک راکھشسی بن کر فضا میں بلند ہونے لگی اور بچہ اس کی چھاتیوں سے ہی چمٹا تھا۔ یشودھا گھبراہٹ اور بے بسی سے چیخ رہی تھیں، روہینی نے نوکروں کو دوڑایا کہ وہ نند رائے جی کو ڈھونڈ کر اس واقعے کی خبر دیں۔ لوگ کرشن کی زندگی کے لیے پرارتھنائیں کرنے لگے۔ وہ فضا میں بلند ہو کر دوڑتی پوتنا کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور پھر ایک جگہ پہنچ کر پوتنا تیَزی سے زمین کی جانب گرنے لگی۔ یوں جیسے کسی نے اس کے پران پی لیے ہوں۔

جب لوگ دھرا کے اس حصے تک پہنچے جہاں وہ راکھشسی گری تھی تو کیا دیکھتے ہیں کہ کرشن اس کی چھاتی پر بیٹھے کھیل رہے ہیں اور ان کے گرد پشپوں (پھولوں ) کا ڈھیر لگا ہے۔ اس واقعے نے کرشن کو بہت خاص بنا دیا۔ اس کے بعد کنس مزید جھنجھلا گیا وہ ہر قیمت پر وشنو کے اس اوتار کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔ اس نے شری دھر برہمن کو بھیجا۔ شری دھر برہمن نے بھی یشودھا کو چکنی چپڑی باتوں میں الجھایا اور بالک کی حفاظت کی خاطر اس حویلی میں قیام کا ارادہ ظاہر کیا۔ وہ دراصل براہمن کے روپ میں چانڈال بن چکا تھا اور تنتر ودیا کے ذریعے لوگوں کے الجھے کام سنوار کے اپنی گزر بسر چلا رہا تھا۔ اس نے یشودھا کو یہی سپنا دکھا کر راضی کیا کہ وہ اپنی دھارمک شکتیوں سے اس کے بالک کی حفاظت کرے گا۔

یشودھا اور روہینی اس کے کھانے کا بندوبست کرنے رسوئی میں گئیں تو اس نے تنتر ودیا کے استعمال سے کرشن کو مارنا چاہا لیکن اس اوتاری بالک نے اپنی انگلی کے اشارے سے نجانے کیا سحر پھونکا کہ شری دَھر کو لقوہ مار گیا۔ اس کے بازو اور ٹانگ بھی مفلوج ہو گئے۔ اس کے بعد ایک ایک کر کے کاگاسُر، اندھکا سَر، کاگ اور آندھی کے بھیس میں آئے اور مارے گئے۔ نہ جانے کتنے راکھشس اور بھیانک دیو کرشن کو مارنے کے ارادے سے گوکل آتے اور مرتیو مکتی پا کر لوٹ جاتے۔

کرشن شاید تین ماہ کے ہوں گے کہ وہ پہلا واقعہ پیش آیا جس نے بال لیلا کی تاریخ میں انوکھا پن پیدا کیا۔ یہ کارتک کا مہینہ تھا۔ نرم گرم دوپہریں تھکے ہارے کسانوں کے بدن سینکتی اور خنک راتوں میں لوگ مونجی کی فصل پکنے کے انتظار میں باتیں کرتے۔ چوپالوں، تھڑوں، پیپل اور برگد کے پیڑوں تلے زندگی دوڑتی بھاگتی تھی۔ شام کو اوطاقوں میں چراغ جل اٹھتے، گائیں واپس لوٹ آتیں۔ اور ترپالوں کے نیچے بیٹھ کر جگالی کرتی رہتیں۔

یہ تھا برج دھام۔ یہاں بارہ وَن (جنگل) ، چوبیس اُپ ون (باغیچے ) ، بیس کُنڈ (تالاب) اور بے شمار گرام (گاؤں ) تھے۔ ان میں گؤکُل، نند گرام، برسانا، کوسو، گووردھن، مدھووَن، متھرا، ورنداون جانے مانے گاؤں تھے۔ کہا جاتا ہے یہاں آسمانی گؤکل لوک کے پرندے، پشو اور حشرات واس کرتے تھے۔ اس میں زمینی مخلوق بستی ہی نہ تھی۔ اور ایک دن جب دیو رشی نارد نارائن، نارائن کرتے کیلاش پہنچے تو کیلاش پتی بھگوان شنکر نے ان سے دریافت کیا، ”کیوں نارد! آج کل بڑے خوش خوش رہتے ہو، تم پر تو وجد طاری دکھائی دیتا ہے۔“ ”ہاں بھولے ناتھ! خوشی کی ہی تو بات ہے، آپ تو یوں پوچھتے ہیں جیسے بے خبر ہوں؟ آج کل دھرتی پر نارائن شری کرشن لیلا کر رہے ہیں، اس کا آنند ہی الگ ہے، میں تو انھیں دیکھ دیکھ نہارتا ہوں اور پربھو کی الوکَک (آسمانی) لیلا کا آنند لیتا ہوں۔“ شیو شنکر نے نارد جی سے کہا، نارد! ہم تو تمہیں چھیڑ رہے تھے، سچ پوچھو تو اپنے سکھا کی لیلا دیکھنے ہم خود گوکل ہی جا رہے تھے۔ ”

تو کیلاش پتی گوکل دھام جانے کے لیے نکل پڑے۔

کرشن سانولے سلونے اور نٹ کھٹ تھے، سارا دن گئیا چراتے اور یمنا کنارے، اپنی ننھی سی بانسری بجاتے رہتے۔ یوں نند گاؤں کے باسی انھیں کانہا اور شاما کہہ کر پکارتے تھے۔

Facebook Comments HS