شری گنیش کی جنم کتھا یوں بتائی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ جب شیو شنکر کیلاش پربت چھوڑ کر ہمالیہ کی کسی دور دراز چوٹی پر تپسیا (مراقبہ) کرنے گئے تو ماتا پاروتی بہت اکیلی پڑ گئیں۔ ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے انھیں خیال آیا تو وہ اشنان کرنے گئیں اور وہاں اپنے بدن کی میل اتار کر ایک پتلا بنا دیا اور پھر اپنی دیویہ شکتی سے اس کے اندر جان ڈال دی۔ وہ بچہ جس کا پتلا کوئی آٹھ نو برس کی عمر کے لڑکے کا تھا جب بولنے لگا تو اسے کہا گیا کہ تم یہاں باہر کیلاش پربت پر کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہو جب تک میرا اشنان (غسل) ختم نہ ہو جائے اندر کسی کو مت آنے دینا۔
یہ وہ دن تھے جب شیو شنکر دس برس کے بعد اپنی تپسیا ختم کر کے کیلاش پر واپس لوٹ رہے تھے۔ اب گنیش وہاں پہرہ دینے لگا اور جیسے ہی شنکر جی آئے تو اس نے انھیں نہیں پہچانا اور راستے میں کھڑا ہو گیا کہ آپ اندر نہیں جا سکتے۔ یوں وہاں بحث و تکرار ہوئی۔ گنیش نے تمام دیوتاؤں کو نہ صرف اپنی طاقت کے بل پر ہرا دیا بلکہ کسی کو بھی اندر نہیں جانے دیا۔ وہ کسی کی بات سننے تک کے لیے تیار نہ تھا۔ تبھی شنکر جی کو غصہ آیا اور انہوں نے اس بچے کا سر کاٹ دیا۔ اس کے بعد ماتا پاروتی کی دہائی اور ان کے غصے کی تاب نہ لاتے ہوئے انھیں اس بچے کا سر واپس لوٹانا پڑا لیکن انہوں نے اب اس بچے کو انسان کا نہیں ایک ہاتھی کا سر لگا دیا۔
Read more