ایک ہندی اسطورہ: عقل و دانش کا دیوتا، گنیش

آپ نے شری گنیش کو دیکھا ہے؟ آپ کہیں گے بھلا ہم کیوں دیکھیں اور ہمارا بتوں سے کیا واسطہ۔ ہے ناں؟ بالکل ٹھیک۔ اچھا خدا جانتا ہے ویسے تو یہ ذکر یاد تک نا آتا لیکن محترم المقام نے خود ہی اتنی محنت کر دی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی یاد آ گیا ہے۔ گزرے برسوں کی بات ہے ہم شاید کالج میں تھے پوری دو دہائیاں قبل۔ پیس ٹی وی پر ایک بہت بڑے آڈیٹوریم کی لائیو

Read more

برج کا شیام۔ کرشن کہانیوں کی دوسری کتھا

برج ایک بستی یا گاؤں نہیں تھا۔ برج ایک پوری تہذیب تھی مہاراجا شورسین کے نام پر اسے شورسینی تہذیب کہا جاتا ہے۔ برج میں دیوکی نندن (دیوکی ماتا کے بیٹے ) کے پیروں کی رَج (دھول) پڑی تھی جسے یمنا ندی نے چوراسی کوس تک پھیلا دیا تھا۔ یوں یہ برج، برج نہیں رہا دھام ہو گیا تھا ابھی کچھ دیر قبل ہی میں یہاں پہنچی ہوں۔ اس سفر کی طویل داستان میں کئی پڑاؤ ہیں۔ یہاں پہنچتے ہی

Read more

کہانی۔ پرشالی جین

ترجمہ۔ سائرہ ممتاز اودھو۔ بھور کے پنچھی چمکیلے پر پھیلا رہے تھے، سورج ابھی ابھرا نہیں تھا۔ ہوا صاف تھی، یمنا ندی ایسی مانو شیشہ ہو، اور جھانکنے پر ندی کی تہہ نظر آتی تھی۔ اتنے میں دو جوان ایک جانب سے آتے دکھائی دیے، ایک سی چال، ایک جیسی دھوتی اور ایک جیسے انگ وستر، دیکھنے پر لگتا تھا جڑواں پکھیرو ہوں۔ ”آج ہوا کچھ زیارہ ہی ٹھنڈی ہے، ہے نا مادھو؟“ اودھو نے اپنا انگ وستر کستے ہوئے

Read more

کرشن کہانیاں : ”بھادوں کی اشٹمی“

دوستو موحد اعظم ہند کے نام پر کرشن کہانیوں کے سلسلے کی پہلی کہانی۔ آپ سب کے نام۔ اس دن بادلوں کی گرج بہت خوفناک تھی۔ یمنا کے کنارے جل سے بھر چکے تھے اور کسی بھی لمحے باڑھ آ سکتی تھی۔ دیوکی اور وسودیو بہت پریشان تھے۔ اس کاراگار (جیل) میں رہتے انھیں کئی برس بیت چکے تھے۔ یہ بھارت کے اترپردیش کا شہر مدھووَن تھا جہاں زرخیز ڈھلوانی میدانوں میں قدرت کی صناعی رنگ بھرتی تھی، جنگلات انواع

Read more

یہ حکم رواں تمہارے لیے

دل مسکرائیں آنکھ روشن رہے۔ دنیا میں خوشی پھیلے، ترنگیں گیت گاتی رہیں اور آپ سب پر سلامتی ہو۔ جب سے دنیا بنی ہے اور ابن آدم دھرتی پر آئے ہیں، خوشی اور غم ساتھ ساتھ ہیں۔ یاد رکھیے یہ دونوں دوست ہیں اور کبھی بچھڑ نہیں سکتے۔ آپ جانتے ہیں ہم خاکی مخلوق ہیں، مٹی کے بیٹے بیٹیاں ہیں، ہمارا وجود مادی ہے، مادے سے بنا ہے یہ تو ہر کوئی ہمیں بتاتا ہے بشمول سائنس۔ اور ہم پیدا

Read more

ہندی اساطیر: فلسفہ شیو اور شکتی (پرماتما ویدک گیان کی رو سے) قسط نمبر 6

یہ بات کہ جانداروں کا اورا (ہالہ) اور انرجیز ہوتی ہیں، نئی نہیں ہے۔ باقی دنیا کے لیے تو شاید یہ بات نئی ہو سکتی ہے لیکن ہندوستان والوں کے لیے یہ علوم ان کی مذہب کتب میں شامل کیے گئے تھے۔ یا اگر ہم ویدوں کو الہامی تسلیم کریں تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ۔ یہ الہامی علوم ان اقوام کو سکھائے گئے تھے۔ جن میں ایسٹرولوجی، واستو شاستر، مراقبہ، یوگا، علم النفس، آیورویدا سمیت بے شمار

Read more

ہندی اساطیر: کائنات کی ابتدا: فلسفۂ شیو اور شکتی ۔ قسط 5

سورہ ء اخلاص تو آپ نے پڑھی ہی ہوگی اور یقیناً آپ سب اس کے معنی و مفہوم سے واقف بھی ہوں گے لیکن سورہ اخلاص سے ملتے جلتے منتر، (آیات، نشانیاں ) ویدانت اور اپنشدوں میں بھی موجود ہیں۔ شریمد بھاگوت گیتا کہتی ہے ’وہ جو غیر پیدائشی ہے، ابتدا سے ہے، تمام جہانوں کے اعلیٰ رب کے طور پر جانا جا تا ہے۔ ‘ (بھگود گیتا 10 : 3 ) اور اس کے نہ والدین ہیں اور نہ

Read more

ہندی اساطیر: کائنات کی ابتدا، فلسفہ شیو اور شکتی: قسط 4

ویدوں کی رو سے کائنات کی ابتداء تقریباً ویسے ہی بتائی گئی ہے جیسے کہ دوسرے الہامی مذاہب بتاتے ہیں۔ وید ایشور کو نراکار، نرگن، بتاتے ہیں۔ جس کا کوئی روپ، آکار، کوئی صفت نہیں ہے۔ تو پھر یہ دیوی دیوتا کیا ہیں؟ اور یہ تمام علامات کیا ہیں جنھیں مختلف ناموں سے پوجا جاتا ہے۔ قارئین کرام! ان سب پر گفتگو سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ دور جدید میں آپ این ایل پی نامی ایک جن سے

Read more

ہندی اساطیر کی حقیقت ویدوں کے آئینے میں، معرفت خدا : قسط 3

محققین اور تاریخ دانوں نے آریاؤں کی برصغیر آمد اور ویدک دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
1۔ قدیم آریائی کلچر ( 1500۔ 4000 ) قبل مسیح
2۔ برہمنی عہد ( 700۔ 1200 )
3۔ جین مت اور بدھ مت کا عہد ( 400۔ 600 )

لیکن جب ہم نے اساطیر کو پڑھا اور سمجھا، ویدوں اور گیتا کا مطالعہ کیا۔ ایسٹرولوجی کی کتب پڑھیں اور ویدک ایسٹرولوجی کو مستقل چار برس تک الگ الگ اساتذہ سے پڑھا تو حقائق کو اس سے مختلف پایا۔ اس ضمن میں دیگر چند محققین کی آراء بھی بہت دلچسپ اور قابل توجہ ہیں۔ کیونکہ انہوں نے آرکیالوجی، علم بشریات وغیرہ کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس زمین پر انسان کی موجودگی ایک لاکھ سال قبل کا قصہ ہے۔ فاضل طب و الجراحت کے دوران مختلف طبی کتب کا مطالعہ جاری رہا۔

Read more

ہندی اساطیر کی حقیقت۔ ویدوں کے آئینے میں: قسط 2

تری مورتی کا یہ نظریہ بہ باطن اسلام کے نظریے سے متصادم نہیں ہے تب تک، جب تک کہ ان اوصاف خدائی کو کسی تصویری شکل / یا کسی تصوراتی شکل میں متعارف نہ کروا دیا جائے۔ اگر دیکھا جائے تو اس زمین پر تشریف لانے والے انبیاء ہمیشہ نیکی کی تعلیم اور برائی کے خاتمے کے لیے ہی نازل ہوئے ہیں یعنی کہنا حق بہ جانب ہو گا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترویج کے لیے

Read more

ہندی اساطیر کی حقیقت، ویدوں کے آئینے میں – قسط 1

ویدک الٰہیات کی رو سے خدا اپنی خالص اور اصل حقیقت میں ایسا خدا ہے جو نام و صفات سے ماورا ہے۔ اس کی صورت، صفات، نام، ہر چیز انسانی ذہن کے دائرہ کار سے باہر ہوتی ہے۔ یہ خدا کی وہ صورت ہے جس کی حالت اور کیفیت کا بیان ممکن نہیں ہے۔ اس ناقابل بیان صورت کو سنسکرت میں ”نرگن“ کہا گیا ہے۔ نرگن بمعنی جس کے گن اور اوصاف ناقابل بیان ہوں۔ جو صفات سے بھی پرے

Read more

مائتھالوجیکل اسٹوریز۔ ایک جہان حیرت۔ قسط نمبر 2

ہم گنیش جی کی بات کر رہے تھے۔ قرآن فرماتا ہے کہ دوسروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا نہ کہو۔ تو اب چاہے کوئی بت ہے یا جو بھی ہے ہمیں دوسروں کے مذہبی جذبات کا خیال کرتے ہوئے انھیں اچھی طرح مخاطب کرنا چاہیے۔ صرف ایک یہی عمل ہے جو دوسروں کے لیے ہمارے دل میں نرم گوشہ پیدا کر سکتا ہے۔

گنیش جی اپنے پریوار میں اکیلے نہیں ہیں۔ وہ پورا خاندان ہے۔ شیو شنکر، ماتا پاروتی ان کا بیٹا کارتک یا کارتکیہ (یہ ستاروں کے ایک نکھشتر اور دیسی مہینوں میں سے ایک نام ہے جو انہی سے منسوب ہے ) اور گنیش۔ یہ پریوار سچ تھا یا نہیں لیکن شیو جی تاریخی سچ ہیں۔ خیر یہ کوئی فیصلہ کن رائے نہیں ہے محققین کو اس پر مزید ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے۔

Read more

مائتھالوجیکل اسٹوریز۔ ایک جہان حیرت۔ قسط نمبر 1

شری گنیش کی جنم کتھا یوں بتائی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ جب شیو شنکر کیلاش پربت چھوڑ کر ہمالیہ کی کسی دور دراز چوٹی پر تپسیا (مراقبہ) کرنے گئے تو ماتا پاروتی بہت اکیلی پڑ گئیں۔ ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے انھیں خیال آیا تو وہ اشنان کرنے گئیں اور وہاں اپنے بدن کی میل اتار کر ایک پتلا بنا دیا اور پھر اپنی دیویہ شکتی سے اس کے اندر جان ڈال دی۔ وہ بچہ جس کا پتلا کوئی آٹھ نو برس کی عمر کے لڑکے کا تھا جب بولنے لگا تو اسے کہا گیا کہ تم یہاں باہر کیلاش پربت پر کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہو جب تک میرا اشنان (غسل) ختم نہ ہو جائے اندر کسی کو مت آنے دینا۔

یہ وہ دن تھے جب شیو شنکر دس برس کے بعد اپنی تپسیا ختم کر کے کیلاش پر واپس لوٹ رہے تھے۔ اب گنیش وہاں پہرہ دینے لگا اور جیسے ہی شنکر جی آئے تو اس نے انھیں نہیں پہچانا اور راستے میں کھڑا ہو گیا کہ آپ اندر نہیں جا سکتے۔ یوں وہاں بحث و تکرار ہوئی۔ گنیش نے تمام دیوتاؤں کو نہ صرف اپنی طاقت کے بل پر ہرا دیا بلکہ کسی کو بھی اندر نہیں جانے دیا۔ وہ کسی کی بات سننے تک کے لیے تیار نہ تھا۔ تبھی شنکر جی کو غصہ آیا اور انہوں نے اس بچے کا سر کاٹ دیا۔ اس کے بعد ماتا پاروتی کی دہائی اور ان کے غصے کی تاب نہ لاتے ہوئے انھیں اس بچے کا سر واپس لوٹانا پڑا لیکن انہوں نے اب اس بچے کو انسان کا نہیں ایک ہاتھی کا سر لگا دیا۔

Read more

اودھو

بھور کے پنچھی چمکیلے پر پھیلا رہے تھے، سورج ابھی ابھرا نہیں تھا۔ ہوا صاف تھی، یمنا ندی ایسی مانو شیشہ ہو، اور جھانکنے پر ندی کی تہہ دکھ رہی تھی۔ اتنے میں دو جوان ایک جانب سے آتے دکھائی دیے، ایک سی چال، ایک جیسی دھوتی اور ایک جیسے انگ وستر، دیکھنے پر لگتا تھا جڑواں پکھیرو ہوں۔ ”آج ہوا کچھ زیادہ ہی ٹھنڈی ہے، ہے نا مادھو؟“ اودھو نے اپنا انگ وستر کستے ہوئے کہا۔ لیکن مادھو اپنے

Read more

ٹریجڈی کوئن میناکماری کوپیدائش کے وقت ان کے والد یتیم خانے چھوڑ آئے تھے

 ممبئی:اپنی سنجیدہ اداکاری سے ناظرین کے دلوں کو چھو لینے والی عظیم اداکارہ مینا کماری حقیقی زندگی میں ’ملکہ جذبات‘ کے نام سے مشہورہوئیں۔ لیکن وہ چھ ناموں سے جانی جاتی تھیں۔ ممبئی میں یکم اگست 1932 کو ایک درمیانے طبقے کے مسلم خاندان میں مینا کماری جب پیدا ہوئیں تو باپ علی بخش انہیں یتیم خانے چھوڑ آئے کیونکہ دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد اس بات کی دعا کررہے تھے کہ اللہ اس مرتبہ بیٹے کا منہ دکھادے تبھی انہیں بیٹی ہونے کی خبرآئی اور وہ بچی کو گھر نہ لے جاکر یتیم خانے چھوڑ آئے۔

Read more

کے آصف: فلم بینوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑنے والے فلمساز

 ممبئی: بالی ووڈ میں فلم ساز کے آصف کو جن کا پورا نام آصف کریم تھا، بالی ووڈ کی دنیا میں ایک ایسی فلمی ہستی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے تین دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں فلموں کے ذریعے فلم بینوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ کے۔ آصف کا اپنا فلمی کیریئر بظاہر تین چار فلموں تک ہی محدود ہے لیکن ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ اتنی شدت سے ابھرکر سامنے آتا تھا کہ فلم بینوں کے دلوں پر نقش ہو جاتا تھا۔

Read more

سریلی آواز کی ملکہ ثریا

بالی ووڈ میں ثریا کو ایسی گلوکارہ اور اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی شاندار اداکاری اور جادوئی آواز سے تقریبا چار دہائیوں تک فلمی مداحوں کو اپنا دیوانہ بنایا۔ پنجاب کے گوجرانوالہ شہر میں 15 جون 1929 میں ایک درمیانے طبقے کے خاندان میں پیدا ہونے والی ثریا کا رجحان بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھا اور وہ پلے بیک سنگر بننا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کسی استاد سے موسیقی کی تعلیم نہیں لی تھی لیکن موسیقی پر ان کی اچھی گرفت تھی۔

Read more

پریم اور خدا

نیلے آکاش کو کاسنی رنگے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا، اور دور اُفق پر جہاں دونوں جہان ملتے ہیں، وہاں ہلکی ہلکی سفیدی تیرتی تھی۔ یہ ہرے پتوں کا موسم تھا۔ ساون تھا؛ ساون میں جھولے تھے اور ایک دن تھا۔ روشنی تھی، موتیے کی باڑھ سے پھوٹتی خوش بو تھی۔ یہ ایک دن تھا۔ دِنوں میں سے چنیدہ خاص الخاص دن؛ جب کسی منتخب پر محبت کی برسات کا پہلا چھینٹا پڑتا ہے۔ اگر وہ اپنی اصل میں سچا

Read more