دی ریویو ود مہوش: سنگ مر مر میں تشدد اور راستبازی کے دعوے ساتھ ساتھ

ہم سب میں سے جو لوگ سنگ مر مر دیکھ رہے ہیں ان کو پچھلے ہفتے کی قسط جذباتیت سے بھرپور لگی ہوگی۔ اس قسط میں دل برداشتہ ہو کر شیریں نے گلستان خان کے سامنے اپنے نہ کیے ہوئے گناہوں کا اعتراف کیا جس کے بعد گلستان خان کی بیوی، جو کہ ہر وقت دوسروں کو اچھا بننے کا درس دیتی تھی، شیریں کی طرف بڑھتی ہے اور اسے زور دار تھپڑ رسید کرتی ہے۔ منٹوں بعد بانو بھی شہ پا کے شیریں کو مارنا پیٹنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک منٹ کو اورنگ اس کو بچانے کے لئے اٹھتا ہے مگر اس کی بیوی، پلوشہ، اسے روک دیتی ہے اور وہ واپس بیٹھ جاتا ہے۔ اس سین میں شیریں کے پٹنے کے دکھ سے کہیں زیادہ دکھ ان انسانیت اور انصاف کے الم برداروں کی منافقت پہ ہوا جو پچھلی کئی اقساط سے گلستان خان کی جلاد صفت کو کوستے تھے۔ مگر انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی گلستان خان سے کم نہیں۔ بلکہ گلستان خان کو تو شاید اپنے کیے پہ پچھتاوا بھی ہوا، مگر یہ سب تو اتنی اچھائی کا دعویٰ کرنے کے بعد اتنے کھوکلے نکلے۔
شاید یہ بھی ایک بہت بڑا سبق ہے ہم سب کے لئے کہ خود کا تحفظ کرنے میں کبھی کبھی ہم کس قدر حیوان بن جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو بچانے کے لئے انسان کبھی کبھی اپنے تمام اصولوں کا سودا کتنی آسانی سے کر لیتا ہے۔
اس قسط پر دیکھئے میرا تفصیلی ریویو:

