پاک فوج کو طلبہ تحریک سے دور رکھیں
پانچ اگست دو ہزار چوبیس بنگلہ دیش کی تاریخ میں باب رقم کر گیا ہے، بنگلہ دیش میں سرکاری و نجی یونیورسٹیوں، کالجز، سکولوں اور مدارس کے طلبہ کا احتجاج جون دو ہزار چوبیس کو شروع ہوا، جس کے ابتدائی مطالبات بنگلہ دیش سے کوٹہ سسٹم کے تحت نوکریاں دینے کا سلسلہ بند کرنے، میرٹ پر نوکریاں دینے اور دو ہزار اٹھارہ میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے رضاکاروں کے بچوں کو سرکاری نوکری نہ دینے کہ قانون کو ختم کرنا تھا۔ 5 جون 2024 کو ہائی کورٹ نے کوٹے کے حق میں فیصلہ سنا یا تھا
بنگلہ دیش طلبہ تحریک نے یکم جولائی سے کلاسز بند کر کے احتجاج کرنے کا اعلان کیا جس میں سرکاری یونیورسٹیز کے اساتذہ نے نئی یونیورسل پنشن سکیم کے خلاف احتجاج میں شمولیت کی، طلبہ تحریک میں ڈھاکہ یونیورسٹی، جگناتھ یونیورسٹی، راجشاہی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان میری ٹائم یونیورسٹی، جہانگیر نگر یونیورسٹی، چٹاگانگ یونیورسٹی، راجشاہی یونیورسٹی، کومیلا یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف باریشال، نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی، انڈیپنڈنٹ یونیورسٹی بنگلہ دیش، بی آر اے سی یونیورسٹی، امریکن انٹرنیشنل یونیورسٹی۔ بنگلہ دیش، یونائیٹڈ انٹرنیشنل یونیورسٹی، احسن اللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ساؤتھ ایسٹ یونیورسٹی اور وریندر یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ شامل تھے۔
7 جولائی کو، مظاہرین نے ملک گیر بنگلہ ناکہ بندی کا اعلان کیا، دارالحکومت ڈھاکہ سمیت، چٹاگانگ، کومیلا، جیسور، رنگ پور، راجشاہی اور بوگورہ میں پہیہ جام ہڑتال شروع کیا، ہائیکورٹ کی اپیلٹ ڈویژن نے 10 جولائی کو آزادی پسندوں کا کوٹہ منسوخ کرنے کا فیصلہ معطل کیا، لیکن طلبہ کا احتجاج جاری رہا،
وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کوٹہ مخالف مظاہروں کے بارے میں متنازعہ بیانات دیے، صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی، عوامی لیگ کی طلبہ ونگ نے طلبہ پر حملے کیے اور تشدد کا نشانہ بنایا، طاقت کے نشے میں بد مست شیخ حسینہ نے بھی فوج اور پولیس کی مدد سے طلبہ تحریک کے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کروائی جس کے نتیجے میں تین سو کے قریب طلبہ، بچے اور عام شہری جان بحق ہوئے اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، اس دوران وزیر اعظم شیخ حسینہ نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور طلبہ یونین اسلامی چھاترو شبر ( اسلامی جمعیت طلبہ بنگلہ دیش ) پر ملک مخالف ہونے کا الزام لگایا، اور پابندی کا اعلان کیا۔
طلبہ اور عوام کی یہ پرامن تحریک نواجوانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ چلتی رہی، بالا آخر طلبہ نے تین اگست کو کوٹہ سسٹم کے خلاف تحریک کو حکومت ہٹاؤ تحریک میں تبدیل کرنے اور وزیر اعظم ہاؤس کی جانب جانے کا اعلان کیا۔ طلبہ کے اس اعلان کو وزیر اعظم حسینہ اور بنگلہ دیشی فوج برداشت نہ کر سکی، پانچ اگست کو بنگالی آرمی چیف نے وزیر اعظم کو 45 منٹ میں استعفیٰ دینے کا پیغام بھیجا، جس پر وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اپنی بہن اور اہلخانہ کے ہمراہ بھارت فرار ہو گئی، بھارت میں شام کو حسینہ کے ہیلی کاپٹر نے بڑی مشکلوں سے لینڈ کیا۔ کیوں کہ مغربی ممالک نے حسینہ کو لال جھنڈی دکھا دی تھی۔
طلبہ تحریک کے روح رواں قائد کی ذمہ داریاں اسلامی چھاترو شبر کے جنرل سیکرٹری ناہید السلام نے نبھائی، تمام صعوبتوں اور حکومتی جبر کا مقابلہ کیا۔ شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش سے فرار کے بعد بھی طلبہ تحریک نے امن، اور میرٹ کا نعرہ بلند کیا، خود کو سیاست سے علیحدہ رکھنے کا اعلان کیا، فوج کو حکومتی معاملات سے دور رہنے کی تلقین کی، جبکہ نامور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر یونس کو عبوری سربراہ بنانے کا کہا۔
بنگلہ دیشی طلبہ اور اساتذہ کی تحریک خالصتاً ایک انفرادی نوعیت کی تھی۔ جس میں کسی بھی سیاسی جماعت یا غیر ملکی مدد شامل نہ تھی۔ یہ کہنا کہ پاکستانی حکام یا فوج کی جانب سے کوئی مدد فراہم کی گئی ہے کسی صورت درست نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کے طلبہ کی قربانیوں کا کریڈٹ پاک فوج کو دینا، یا کسی بھی طرح لینا جائز نہیں ہے۔ بنگالی نوجوانوں میں تعلیم کی شعوری معیاری اور جذبہ حق کو سلام پیش کرنا چاہیے۔ جنھوں نے اپنے لیے اور قوم کے لیے پرعزم ہو کر احتجاج کیا اور ظالم وقت، فرعون اور طاقت کو ایک ساتھ شکست دی۔


