نارسائی
”امی آخر کون صاحب آ رہا ہے جس کے لیے اتنا بڑا اہتمام کیا جا رہا ہے؟ سبھی بہنیں بھی آئی ہوئی ہیں کوئی بڑی دعوت ہے کیا؟“
دن بھر آوارہ گرد دوستوں کے ساتھ مٹر گشت سے لوٹ کر گھر پہنچتے ہی اکبر نے پوچھا۔
”آرے بیٹا تمھیں اپنی آوارگی سے فرصت ملے گی تو پتا چلے گا نا گھر میں کیا ہو رہا ہے کیا نہیں ہو رہا۔ نکما انسان تمھیں نہیں پتا تمھارا بھائی آ رہا ہے کراچی سے اور ان کی آمد کی خوشی میں سب لوگ گھر پہ جمع ہوئے ہیں۔“
بشارت کا دو سال پہلے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تھا اور وہ دو سال کے بعد گھر آ رہا تھا اسی لیے سب اس کے منتظر تھے۔ گھر میں یوں تو پانچ بہنیں اور چار بھائی تھے لیکن ان سب میں اعلا تعلیم حاصل کرنے والا فقط بشارت ہی تھا۔ اسی وجہ سے وہ سب کا لاڈلا تھا سب اس سے پیارے کرتے اور مستقبل کی امیدیں اس سے وابستہ رکھتے۔ آج رات وہ کراچی سے طویل سفر طے کر کے بلتستان پہنچنے والا تھا اور گھر کے سبھی افراد ان کی آمد پر خوش نظر آ رہے تھے۔
”ماشاءاللہ سے میرا پیارا بیٹا آ گیا اور تم سے مل کر میرے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچی۔ میں ہر دن تمھاری کمی محسوس کرتی تھی میرے لعل! آج تم آ گئے ہو اور مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میری زندگی کی تمام خوشیاں مجھے مل گئی ہیں۔“
بشارت کی والدہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ اس کی بہنیں، بھائی اور ابو بھی خوشی سے نہال ہو رہے تھے۔ بہنوں نے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا اور خوشی کے آنسو بھی بہائے مگر بھائیوں اور ابو کی آنکھوں سے ہی ملن کی خوشی ظاہر ہو رہی تھی مگر زبان سے اظہار نہیں کیا کسی نے بھی۔ بشارت بھی دو سال کی مسافرت کی اذیت برداشت کرنے کے بعد ماں کی گود، بہن بھائیوں اور ابو کا پیار دیکھ کر مطمئن ہوئے یوں لگا جیسے وہ کسی عافیت کے گوشے میں آ گیا ہے جہاں مسرت ہے، خوشی ہے، محبت ہے، سکون ہے۔ وہ اس ماحول میں اپنی ساری تھکاوٹ اور تنہائی کو بھول گیا۔ اس رات سبھی گھر والے بشارت سے اس کی یونیورسٹی کے ماحول کراچی کے حالات اور تعلیم کے حوالے سے پوچھتے رہے اور وہ سب کو اپنی زندگی سے جڑی کہانیاں سناتا رہا۔
بشارت کو کراچی سے آئے ہوئے ایک مہینے سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر گھر والوں کی مہمان نوازی اور لاڈ پیار میں کمی نہیں آئی۔ کبھی ایک بہن کے گھر دعوت تو کبھی دوسری کے گھر۔ کبھی بڑے بھائی نے اہتمام کیا تو کبھی ابو نے خاطر تواضع کا پروگرام بنا لیا۔ بشارت کی والدہ کا بس چلتا تو وہ ساری نعمتیں اور آسائشیں اس کے قدموں میں ڈال دیتیں۔ گھر کے سبھی افراد کی ایک ہی خواہش تھی کہ ہمارا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا افسر بنے اور امی کو افسر کی والدہ کہلانے کی تمنا تھی، بھائی چاہتے تھے کہ ان کی پہچان ان کے افسر بھائی سے ہو، بہنوں کا خواب یہی تھا کہ بھائی کے پاس بڑی سی گاڑی آ جائے۔ گھر میں کسی اور نے اتنی تعلیم حاصل نہیں کی تھی جس سے امیدیں لگائیں جا سکیں لہذا بشارت ہی واحد امید تھا۔
اکبر عمر میں بشارت سے چھوٹا تھا مگر آوارہ گرد دوستوں کی صحبت میں رہ کر بگڑ چکا تھا اسی لیے پڑھائی چھوڑ چھاڑ کر آوارگی کرتا رہتا تھا جس وجہ سے سبھی گھر والے اس سے خفا خفا سے رہتے تھے۔ گھر والوں کو اس سے کچھ خاص امید نہیں تھی اسی لیے اس کو وہ اہمیت بھی نہیں دی جاتی تھی جتنی بشارت کو ملتی تھی۔ بلکہ اکثر اوقات اس پر لعن طعن بھی کرتے اور بشارت سے اس کا موازنہ بھی کیا جاتا اور اسے شرم دلانے کی کوشش کی جاتی۔ اکبر بھی بے شرمی کی ہر حد پار کرتا لہذا اس پر کسی کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے ابو نے اس کی حرکتوں سے تنگ آ کر اس کا خرچہ پانی بند کر دیا تھا لہذا اسے اپنی فضول خرچیوں کے لیے کبھی کبھار کہیں مزدوری بھی کرنی پڑتی۔
”ابو یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اکبر پڑھائی نہیں کرتا اور دن بھر آوارگی کرتا رہتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس کا خرچہ پانی ہی بند کر دیں۔ آپ کو اس کی ضروریات پوری کرنی چاہیے۔“
بشارت اپنے چھوٹے بھائی کی وکالت کرتا ہے۔
”بیٹا تمھیں نہیں معلوم ایسے لوگوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا ان پر خرچ کرنے کا مقصد اپنے پیسے ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ میں غلط جگہ پیسے خرچ کرنے کا قائل نہیں ہوں اگر اکبر بھی تمھاری طرح محنتی اور پڑھائی کرنے والا ہوتا تو میں اس کی تمام ضروریات اور خواہشات پوری کرتا لیکن ایسے آوارہ گرد لوگوں پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔“
بشارت کی یونیورسٹی کی چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں اور جانے سے پہلے اس کے گھر والوں کی خواہش تھی کہ وہ منگنی کر کے جائے لہذا گھر والوں نے اصرار کیا کہ ”جو تمھیں پسند ہے اس سے تمھاری منگنی کرا دیں گے۔“ بشارت کئی دنوں تک سوچ و بچار کرتا رہا اور آخر میں فیصلہ کر ہی لیا محلے میں محمد طفیل کی بیٹی تھی جو گریجویشن کر رہی تھی شکل و صورت سے بھی اچھی تھی اور محمد طفیل صاحب خود لیکچرار تھے۔ رشتہ مناسب تھا لہذا گھر والوں نے بھی تاخیر نہیں کی اور بہت جلد رشتہ لے کر محمد طفیل کے گھر گئے۔ بشارت اپنے محلے کا پہلا لڑکا تھا جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اسے محلے کے لائق اور قابل طالب علموں میں شمار کیا جاتا تھا لہذا محمد طفیل اور ان کی بیٹی خدیجہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا یوں ان کی منگنی ایک ہفتے کے اندر اندر ہو گئی۔
بشارت کی والدہ نے اس کی منگنی کے ساتھ اکبر کی منگنی کا بھی کہا مگر گھر والوں نے اس پر توجہ نہیں دی کیونکہ ان کے ابو کا لگنا تھا کہ ”ایسے نکمے اور بے منزل لوگوں کو کوئی اپنی لڑکی نہیں دے گا۔“ چند دنوں بعد سبھی گھر والوں کا لاڈلا بشارت کراچی واپس چلا گیا اور اپنی پڑھائی مکمل کرنے میں لگ گیا۔ دو سال لمحوں میں گزر گئے اور اس نے ماسٹرز بھی کر لیا۔ گھر فون کر کے پاس آؤٹ ہونے کی اطلاع دی اور گھر والوں نے خوشیاں منائیں اور محلے میں مٹھائی تقسیم کی۔
خدیجہ کے لیے مٹھائی کا الگ سے ڈبہ بھیجا جس سے اس نے بخوشی قبول کیا۔ وقت بڑی تیزی سے گزرتا گیا اور ان بدلتے وقتوں کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں آتی گئیں۔ اکبر کا ایک دوست دبئی میں کام کرتا تھا اسی دورانیے میں اس دوست نے اکبر کو بھی اپنے پاس بلا لیا۔ اب اکبر وہ نکما اکبر نہیں رہا بلکہ لاکھوں میں پیسے کمانے لگے اور آہستہ آہستہ گھر والوں کی نظر میں اس کی قدر و قیمت بڑھنے لگی۔ اب کوئی اس کو نکما یا آوارہ گرد نہیں کہتا تھا بلکہ سبھی اس سے پیار کرتے اور گھریلو معاملات میں اس کی رائے لی جاتی۔
دوسری جانب بشارت کی ڈگری مکمل ہوئے دو سال کا عرصہ گزر گیا مگر کہیں کوئی اچھی یا سرکاری نوکری ملنے کی امید نہیں۔ کراچی کے کسی اسکول میں 30 ہزار سیلری میں پڑھاتا تھا اور اس سے بڑی مشکل سے اپنا خرچہ نکلتا تھا۔ گھر والے بار بار فون کر کے پوچھتے رہتے کہ تمھاری نوکری کب لگے گی؟ اور وہ ہر بار یہی کہتا کہ ”جب گلگت بلتستان کی پوسٹ آئے گی تبھی اپلائی کر سکوں گا۔“ اس کی ڈگری کے دو سال بعد بڑی مشکلوں سے ایف پی ایس سی میں لیکچرار کی پوسٹیں آتی ہیں اور وہ اس کے لیے اپلائی کر دیتا ہے۔
گھر والوں کو امید دلاتا ہے کہ ”ابھی پوسٹیں آئی ہیں اور میں نے اپلائی بھی کیا ہے اور مجھے امید ہے میں لگ جاؤں گا۔ اس پوسٹ کے لیے میں محنت بھی کروں گا۔“ چھ مہینے گزرنے کے بعد جب امتحان قریب آتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ جس پوسٹ کے لیے بشارت نے اپلائی کیا تھا اس پر عدالت سے سٹے آرڈر لے لیا ہے۔ اس کی بچی کچی امید پر بھی پانی پھیر جاتا ہے اور گھر والے بھی آہستہ آہستہ دل برداشتہ ہونے لگتے ہیں۔ ڈگری مکمل ہونے کے تین سالوں میں ایک طرف بشارت اچھی نوکری اور سرکاری نوکری کے انتظار اور کوشش میں پریشانی میں مبتلا رہا دوسری طرف اس کا بھائی جس نے میٹرک میں ہی پڑھائی چھوڑ دی تھی نے لاکھوں پیسے کمائے اور گھر والوں کو بھیجے۔
سبھی گھر والے اب اکبر کے گن گانے لگتے ہیں اور بشارت آہستہ آہستہ نظر انداز ہوتا چلا جاتا ہے۔ اب وہ اپنی زندگی میں تنہائی کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے کبھی کبھی اس کا دل کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھائی کے پاس دبئی چلا جاؤں مگر پھر زندگی کے تعلیمی سفر اور ڈگریاں آڑے آ جاتی ہیں جو اسے یہ قدم اٹھانے سے روکے رکھتی ہیں۔
بشارت اب گھر والوں، رشتہ داروں اور دوستوں کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے، لوگوں کے سوالات سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ اندر سے تنہائی، مایوسی، نارسائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ اس صدی کی نسل کا دکھ، منزل کی تلاش کی اذیت اور اس تک پہنچنے کے لیے برداشت کرنے والی اذیتیں اور صبر کا احساس فقط وہی رکھتا ہے جو اسی زمانے کی پیداوار اور اسی راستے کا مسافر ہو جس راستے پر وہ خود سفر کر رہا ہے لہذا وہ اپنی منگیتر خدیجہ کو کال کرتا ہے کیونکہ اسے امید ہے کہ وہ اس کی تنہائی اور نارسائی کو خوب سمجھتی ہے۔
”ہیلو خدیجہ دیکھو میں اس وقت منزل سے دور اور منزل کی تلاش میں مسلسل سفر میں ہوں۔ ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں نہ میں نے ابھی تک کچھ پایا ہے لیکن تم امید رکھو بہت جلد میں منزل پر پہنچ جاؤں گا اور اس کے ثمرات سب کو ملیں گے۔ بس اس سفر میں تمھیں قناعت کر کے میرے ساتھ دینا ہو گا تاکہ میں اپنے آپ کو ثابت کر سکوں۔“
”یہ وہ زمانہ ہی نہیں جس زمانے میں سفر کرنے والوں کو ہمسفر ملا کرتا تھا اب تو لوگ منزل پر ہی ملتے ہیں۔ ابھی تک آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ منزل پر پہنچیں گے یا نہیں اور اس شک میں میں آپ کا ساتھ دے کر اپنا مستقبل تباہ نہیں کر سکتی لہذا آپ جب منزل پر پہنچ جائے تبھی مجھے آواز دیں میں آپ کی ہر پکار کا جواب دوں گی۔“


