قلم ہے شمشیر میری
ڈاکٹر انیلہ کمال ہماری پیاری سی دوست ہیں۔ مدتوں دارالخلافہ کی جامعات کے حوالے سے مختلف تعلیمی و تربیتی کانفرنسوں اور میٹنگز میں ساتھ رہے۔ ایک باشعور اور حساس اُستاد ہیں۔ اپنے مضموں سائیکالوجی میں ایک ممتاز نام، راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی اولین وائس چانسلر،ظاہری اور باطنی دونوں لحاظ سے خوش اطوار! گزشتہ روز اُن کے ہاں اکیڈمک کونسل میٹنگ میں خوشگوار تحیر منتظر تھا۔
شاداب چہروں، سلیقے سے تیار کردہ ایجنڈا آئٹمز، مستعد اساتذہ کی مسکراتی ٹیم اپنی قیادت با صلاحیت کا کھلا ثبوت تھی۔ ایک نوزائیدہ جامعہ اپنے انتہائی قلیل سرمائے اور گنے چُنے وسائل کے باوجود زیر تعلیم بچیوں کو کوالٹی ایجوکیشن کی بلا تعطل فراہمی پہ اٹل نظر آئی۔ میٹنگ میں تقریباً ایک درجن ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پروگرام منظور کئیے گئے۔ اکثریت سائنسی مضامین کی تھی جن کے اجراء کے لئے ہنرمند فیکلٹی مکمل طور پہ موجود نظر آئی۔ جامعہ میں بیشتر خواتین اساتذہ مطلوبہ قابلیت کے ساتھ متعلقہ شعبوں میں جدید نظریات سے پوری طرح آشنا اور قومی صنفی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔
فیکلٹی اور انتظامیہ میں مرد اساتذہ، افسران اور اسٹاف کا عمومی رویہ مثالی لگا۔ ممبرز کی علمی مہارت اور تدریسی تحرک بھی اس جامعہ کا منفرد انداز ہے۔
کسی بھی جامعہ میں اکیڈمک کونسل ایسا فورم ہے جہاں وسیع تر تعلیمی مقاصد، ادارے کے لئے دور رس حکمت عملی اور طالبات کو گلوبل دنیا کے روز افزوں چیلنجز سے نبرد آزمائی کے لئے موثر رہنمائی کی فراہمی جیسے اہداف پہ بحث کی جاتی ہے اور لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے،میٹنگ میں بیرونی ماہرین کی رائے، اُن کے طویل پروفیشنل تجربے اور تجاویز سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔

ایچ ای سی جو یونیورسٹیوں کے لئے ایک ریگولیٹری ادارہ ہے ساتھ ہی مالی گرانٹ کا ذمہ دار بھی ہے وہاں سے آئے ممبران نے میٹنگ میں بروقت اور عمدہ تجاویز سے نوازا۔
عرصہ دراز سے پوٹھوہار کے نواحی قصبوں اور دیہی علاقے سے آئی بچیوں کے لئے یہ ادارہ، بالخصوص سائنس کے مضامین میں علم و تحقیق کا واحد مرکز رہا۔ (ایف ایس سی اور ڈگری سطح پہ)۔ بورڈنگ کی سہولت میسر ہونے کی بدولت آج اس کی فارغ التحصیل طالبات اہم تدریسی اور انتظامی شعبوں میں مصروف عمل ہیں۔ سائنس کے مضامین کے ساتھ ہی یہاں انگریزی، بزنس ایڈمنسٹریشن اور ماس کمیونیکیشن کے شعبہ جات اور ڈگری کورسز میں تعلیم دی جا رہی ہے۔
ایسے بنیادی اداروں میں مقامی سطح پہ تاریخ، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تدارک اور کامیاب اہداف کے حصول کے لئے سنٹرز/چیئرز کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ میٹنگ میں وائس چانسلر صاحبہ کی طرف سے ”محترمہ فاطمہ جناح چیئر“ کے قیام کی تجویز کافی خوش آئند لگی۔
صوبے میں پہلی بار خاتون وزیر اعلیٰ کی موجودگی اور نوجوانوں کی ترقی کا وژن رکھنے والی حکومت سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی ذمہ دار قیادت اور ہنرمند ٹیم کے جائز حقوق کی پاسداری کرے گی۔
سلام، کوہ نمک کی وادی اور پوٹھوہار کی ان تھک عورت پہ جو صدیوں سے تعلیم کے ذریعے ترقی کی راہ پہ گامزن ہے۔
کسی بڑے کا قول ہے کہ” تم مجھے بہترین مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا“


