تاریخ سے مکالمہ، خود کفالت کی کہانی اور دخترانِ مشقت

میرے گزشتہ دو نثر پارے کئی رقیق القلب شہری احباب کو اپنے پُرکھوں کی بُھولی یاد دلانے میں مقبول و معاون رہے اور یہ چند دن سُرعت سے معدوم ہوتی گاؤں کی مٹی، خالص گیہوں، دیسی گھی میں پکے کالے حلوے کی سوندھی مہکار کے ہجر کے نوحوں سے بھر گئے۔ نصف صدی عمر کے بھائی لوگوں کو لُو بھرے موسم میں نانی اور دادی ویہڑوں کی ٹھنڈک کے فراق نے تڑپا دیا، گرم راتوں میں صحن میں بچھی چارپائیوں

Read more

محنت کش دادیاں، حلوہ کلچر اور نانی ویہڑے کی گندم

  میری گزشتہ تحریر مطالعاتِ پنجاب میں نو آبادیاتی نظام کے مدرسری رجحانات اور اُن کے جائزے کی ضرورت و اہمیت پہ تھی۔ محترم اظہار الحق صاحب کی ہمت افزائی تو دل خوش کن رہی مگر کینیڈا سے برادر عزیز فیصل سعید کے تبصرے نے تو یادوں کے در وا کر دیے۔ اُن کے تجزیے نے مشرق اور مغرب کی خواتین کے درد مشترک سے صرفِ نظر کا معاملہ اجاگر کیا۔ جو یقیناً ایک علیحدہ مضمون کا طالب ہے مگر

Read more

کیا ہماری نانیاں اور دادیاں ان پڑھ تھیں؟

صاحب عرفان اور معلم مہربان محترم رسول بخش رئیس کا تازہ کالم پیارے بابوں کے متعلق پڑھا تو خیال آیا کہ ہماری نسل اپنی بوڑھی ماؤں، نانیوں، دادیوں، خالاؤں، چاچیوں، ممانیوں اور پھپھیوں کے بارے میں کم جانتی ہے اور جو کہا جاتا ہے وہ بھی محض تقدس بھرا بیانیہ ہے، اس کے علاوہ ہم ان کی زندگیوں کو کسی اور ماڈل میں دیکھنے، سوچنے اور لکھنے میں اکثر متَامل رہتے ہیں۔ یہ گمان بھی رہا کہ ان برگذیدہ ہستیوں

Read more

اے جوانانِ عجم

پوٹھوہار کی ریکارڈڈ تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو نوآبادیاتی آقاؤں کو اپنے عسکری مقاصد کی خاطر اس خطے پہ بُری نظرِ (اور قدم) رکھنے کی وجہ یہی نظر آئے گی کہ یہاں کے باشندے تحرک پسند تھے / ہیں تبھی ولائتی سرکار نے بصرہ، فلانڈر، برما اور رنگون کے فرنگی محاذوں پہ پوٹھوہاری دیسی گندم اور گھی سے پلے نوجوان سپاہئیوں کو ”لام“ کی بھینٹ چڑھایا۔ اُن کی ہری فصلیں، بوڑھے والدین اور جوان بیوائیں دھاتی تمغوں اور انگریزی سیلوٹوں

Read more

کریں گے اھل نظر تازہ بستیاں آباد

ازل سے کائنات میں پانی انسانی زندگی کی ضمانت رھا، اگرچہ طوفان نوح نے سلسلہء زیست کو درپیش اس مہلک خطرے سے بہت عرصہ پہلے ھی آگاہ کردیا تھا مگر ناگزیر شرط زندگی کے طور پر یہ ترجیحات انسانی میں اولیں اور تابع ضرورت رھا. اور موسموں کی شدت کے ساتھ کم یا زیادہ بادوباراں کے نتیجے میں خُشک سالی اور سیلاب دونوں کو مشیتِ ایزدی سمجھتے ھوئے نبھایا گیا۔ اکیسویں صدی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے حجم،

Read more

طلسمِ خاک ہی ٹھہری ہے اب متاعِ زیست

اس ماہ خاندان کی ایک بزرگ شخصیت کو وداع کیا کیا کہ اپنا بچپن، لڑکپن اور یادوں کے کوچے سب آباد ہو گئے۔ ویسے تو فی زمانہ ”صبح گئے کہ شام گئے“ اور ”آج وہ کل ہماری باری ہے“ جیسا احوال چل رہا ہے مگر ان بوجھل اور سرد خشک دنوں کا تریاق ایک خوبصورت کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتا تھا اور کتاب بھی وہ جس کے عنوان میں ہی جدائی کا لفظ شامل ہو جی ہاں محمد

Read more

قونیہ شہر حضرت مولانا، شمس تبریزی اور درویش ہندی

اسکیشہر سے صبح گیارہ بجے کی برق رفتار ریل نے بغیر سیٹی بجائے ہمیں آن لیا۔ پلیٹ فارم چھوٹے، ”تمیزدار“ اور تقریباً خاموش تھے، شیخ الجامعہ نے اپنے مختصر قافلے کی باگ ڈور سرخ و سفید آہنی مشین کے آخری ڈبے کے حوالے کی۔ اسکیشہر سے قونیہ تقریباً چار گھنٹے کی تیز رفتار ریل کی مسافت ہے۔ قونیہ جو قدیم آئقونین کے نام سے موسوم ہے مرکزی اناطولیہ میں دارالخلافہ انقرہ کے جنوب میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً

Read more

اسکہشہر میں جامعہ عنادولہ قسط نمبر 2

استنبول سے اسکہشہر لمبی بس کے لمبے سفر نے تھکا دیا۔ کسی ملک میں شہر کوئی بھی ہو عوام الناس کو سمجھنا ہو تو گلیوں، بازار، بس اسٹاپ، ریل گاڑی کے پلیٹ فارم پہ کھڑے ہو جائیے۔ آس پاس کے مناظر مقامی سماج اور اس کی حرکیات کا پتہ بتا دیں گے۔ ہمارے ”پاسبان رہروان ترکی“ ، برادرم زاہد مجید صاحب کی تمام تر سعئی مسلسل اور محبت مسافران کے باوجود اسکشہر کے لئے تیزرفتار ٹرین کی مطلوبہ ٹکٹیں نہ

Read more

احوال سفر ترکیہ: قسط نمبر 1

فروری 2022 میں دو ہفتے قبل ہی شیخ الجامعہ نے نوید سفر مع اذن سفر و قیام کی دی۔ منزل تھی استنبول، اسکشہر و قونیہ۔ شیخ الجامعہ نہ صرف بین الاقوامی علمی رابطوں کے پرجوش داعی ہیں بلکہ فیکلٹی و تکنیکی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کے وقتاً فوقتاً انعقاد کے راست اقدام کے حامی اور خالص پیشرو بھی، دلم اور عزیزی ڈاکٹر زاھد مجید جامعہ کے ڈائریکٹر بین الاقوامی علمی روابط ہیں۔ ان کی پیہم سعی کاملہ کی بدولت

Read more

لٹ خانہ، دمشق کا قاضی اور اُردو اکادمی کوئٹہ

اس بار اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول گھٹن اور حبس کی رُت میں بھی کچھ سرد لگا۔ جملہ وجوہات میں تین روزہ میلے کی جائے وقوعہ اور نواحی آبادی کی سردمہری کو سرفہرست جانیئے۔ ایسے ہی ٹھنڈے ٹھار سیشن سے نکلتے ہوئے عثمان قاضی صاحب سے سرراہ مختصر ملاقات میلے کو یادگار بنا گئی۔ گزشتہ چار عشروں سے اس بے اعتنا شہر کی باسی ہونے کے سبب (جہاں ناموری ہی باعث عزت ٹھہر چکی ہے ) کے باوجود اس لمحے شادمانی

Read more

ہمہ یارانِ جامعہ، تلہ گنگ کا اے حمید اور بدلتا سماج – جنریشن زی

دسمبر اس لحاظ سے ثروت مند رہا کہ یکے بعد دیگرے نور احمد جانجھی صاحب بوساطت (محترمی اللہ نواز سموں ) ، تنویر ملک صاحب اور عثمان قاضی صاحب کی ’ہڈ بیتیاں‘ سرکاری قاصدوں کے ہاتھ سے وصول ہوئیں۔ گزشتہ ایک برس سے آس پڑوس والے ”کان بردوش“ ’ڈاکٹر صاحبہ کے نام ایک اور کتاب کا پارسل‘ سے بتدریج آشنا ہو رہے ہیں۔ ”دراز اور تیمو“ کے دور میں یہ بیگانگیٰ شوق! (اُن کی سرد آہیں موسم اور سماعت کو

Read more

آتش رنگ شجر، سبز بصارتیں اور اسلام آباد کے حجرے

اسلام آباد میں کم و بیش تین عشروں کے باسی اس قدر خشک دسمبر اور اولین سرما کی بارش کے بغیر گرم دنوں کی یخ رُت پہ حیران ہیں کہ موسم اب اپنی شرائط پہ بدلنے پہ مُصر ہے اور ان ہونی ہونے لگی ہے جسے سیانے ”کلائمیٹ چینج“ کہتے ہیں۔ ایسے گدلے دنوں اور اندھی شاموں میں کلیجہ منہ کو آتا ہے، ماضی و حال کے بستے کھلنے لگیں تو اندر برسات کا گُمان ہونے لگتا ہے! بقول محمد

Read more

قلم ہے شمشیر میری

ڈاکٹر انیلہ کمال ہماری پیاری سی دوست ہیں۔ مدتوں دارالخلافہ کی جامعات کے حوالے سے مختلف تعلیمی و تربیتی کانفرنسوں اور میٹنگز میں ساتھ رہے۔ ایک باشعور اور حساس اُستاد ہیں۔ اپنے مضموں سائیکالوجی میں ایک ممتاز نام، راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی اولین وائس چانسلر،ظاہری اور باطنی دونوں لحاظ سے خوش اطوار! گزشتہ روز اُن کے ہاں اکیڈمک کونسل میٹنگ میں خوشگوار تحیر منتظر تھا۔ شاداب چہروں، سلیقے سے تیار کردہ ایجنڈا آئٹمز، مستعد اساتذہ کی مسکراتی ٹیم اپنی قیادت

Read more

متراں دی مجمانی خاطر

  اسلام آباد کی ایکسپریس وے کسی جلوہ عشوہ و ناز و ادا سے کم نہیں دونوں اطراف سبزہ و گل رنگِ برسات سے شفاف ہوئے جاوت ہیں اور بند سواری میں مصنوعی ٹھنڈک حقیقی خُنکی کا احساس دلاوت ہے! ہر چند کہ فضا میں بارش کے بعد کا حبس اور زمین سے اُٹھتے بخارات سر سے پاؤں تلک ایک مسلسل تپش کا رنگ لئے ہیں۔ پاکستانی شہروں میں حالیہ برسوں میں نسبتاً نئی تعمیر اور آباد شدہ ہاؤسنگ اسکیمز

Read more

سالٹ رینج کی عورت، اسپِ تاریخ اور علم کے نخلستان

  لاہور موٹر وے پہ سفر کرتے مارگلہ ہلز آپ کے دائیں ہاتھ پہ ہوں ساون کی تپش بھری دھوپ اور ٹھنڈی چھاؤں ہو تو سرگودھا کے نواح میں سُرخ نوکیلی رتڑیاں نظر آنے تک آپ کوہِ نمک کے سبز رنگ میدانوں میں سفر کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ آج کا سفر محترم ملک مشتاق صاحب (سابق وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین پیمرا) کے شفقت آمیز حکم پہ ملک سعید احمد صاحب کی سواری میں درپیش ہے۔ ہر دو ملک صاحبان

Read more

چاند بی بی، زندگی کا جنگل اور خواب کہانی

نیم جنگل نما انتہائی راحت انگیز شیریں کُنج میں ایک خواب نُما کیفیت میں رہتے آج چوتھا دن ہے اور میں اور میری جیسی درجن بھر زندگی کے دشت سے اکتائی سکون کی متلاشی روحیں اپنی اپنی روٹین سے باہر ”کہانیاں“ لکھنے کی خواہش سمیت یہاں موجود ہیں۔ جسے ایک جھوٹی سی جنت کا نمونہ کہا جائے تو جھوٹ نہ ہو گا۔ اس ری ٹریٹ کی اطلاع ایک انسٹا گرام میسیج سے ملی اور پھر رزق حلال اور نقشِ قدم

Read more

دلوں میں بستے جنگل

جولائی کی حبس زدہ صبح دارالحکومت کی ایک کنکریٹ کی بنی سفید بے لچک سڑک پہ گاڑی چلاتے اور دونوں طرف معدوم ہوتی ہلکی سُرخ پہاڑیوں کا نوحہ پڑتے ایک ہی خیال تواتر سے آپ کے دل میں ترازو رہتا ہے کیا یہ وہی خوبصورت، پُرسکون اور سرسبز قصبہ ہے جس کا آسمان پرندوں، سبز شاخوں اور مری کی پہاڑیوں سے اُترتی خنک ہوا سے نیلگوں رہتا تھا؟ آج سے چار عشرے پہلے کا اسلام آباد شاید ہی کسی کو

Read more

سید عامر محمود کی سوغات پہ حرف نیاز

”محبت کے بغیر ہر موسیقی شور ہے اور ہر رقص محض پاگل پن ہے! درویش رومی کے مندرجہ بالا قول کی ہر دل گواہی دیتا ہے یہ سچ ہے کہ ہر بڑے کام حتی کہ عبادت کا وقوع پذیر ہونا جذبے کی شدت کے بغیر ناممکن ہے ” نفاست، بلاغت، سلاست اور سیاحت، سید عامر محمود کا ”ہنگام سفر“ انہی عناصر اربع کا مجموعہ ہے جو جمہوری پبلیکیشنز نے اسی برس شائع کیا تاریخ کا ادراک اور غیر معمولی دلچسپی،

Read more

مُرشد! گرد رنگ شجر اور روٹھے دریا

ہمیں ایک عرصے سے یہ گماں ہو چلا ہے کہ ہمارے جیسے سست روؤں کے لئے اس ملک خداداد میں کرنے کو کچھ خاص نہیں بچا۔ ماشاءاللہ ”سوشل میڈیائی ماہرین سماجیات“ ہر نوع کی نیم حکیمانہ کیمیا گری سے معاشی، سیاسی اور ذاتی مسائل کا بخوبی ادراک نہ صرف کر چکے ہیں بلکہ تمام مسائل پہ اپنی بے بسیط دانائی کا جھنڈا کب سے گاڑ چکے ہیں سو اس بے پناہ ذہنی عسرت ( بمعنی فرصت ) میں جب ہم

Read more

یاسر جواد، کتاب کہانی

یہ کتاب نہیں ہے الفاظ کا سیل آب ہے جو آنکھوں کو پہلے تو دھندلاتا ہے پھر ان میں ایک پانی کی لکیر سی امنڈ آتی ہے۔ اس ’شفاف نظری‘ کے بعد تقریباً ساٹھ ستر صفحات تک اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آبدیدہ و چشم پرنم قاری کو لکھاری نے کس سادگی اور چابکدستی سے گھیرا اور پھر مشکیں باندھ کے کس طرح سائیکل پہ ساتھ بٹھا، کبھی غلیل اڑاتے کبھی سودا لاتے، کن بھولے بسرے جہانوں کی سیر کروا

Read more

محمد اظہار الحق کی تصنیف: ”اے آسماں نیچے اتر“

گزشتہ صدی میں تو ایسا ہوتے بہت سنا اور قصوں میں پڑھا مگر کیا 2023 میں آپ ایسے کسی واہمے کا شکار ہوئے کہ جاگتی آنکھوں بہتے چشمے کی صدا سن لیں۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ اور چرخے کی گھوک سنائی دے۔ اور تو اور آنکھوں میں سبز رنگ درختوں اور ابابیلوں کے پرے کے پرے اور سرشار بچوں کی کلکاریاں گونجتی ہوں۔ سحر دم خمیدہ کمر مناجات سے لرزتے ہونٹوں کی سرگوشیاں رقص کرتی سماعتوں کو لبریز کریں اور نوجوان

Read more

وادیٔ سواں کے آخری نخلستان کا چرواہا

وادیٔ عرب کے بے مثال چرواہوں کی پیغمبرانہ ولایت اور جنت نظیر بکریوں کے ریوڑوں اور دودھ کی تقدس آمیز داستانوں سے باہم جڑے آخری نسل کے چند لوگ! اور ان سب میں قدآور مشفق اور زمین دوست فرد، منتظم اور حدی خواں جو صحرائے نجد و شام کے کاروانوں کی صداؤں کی تفہیم پہ قادر ہو، اپنے معجز نما اسم کی مانند گزشتہ چھ دہائیوں سے خلق خدا کی بھلائی کے تقریباً ہر منصوبے کا والی رہا ہو۔ چاہے

Read more

منظروں کا جدید صورت گر

اک کتاب، اک خواب، اک چراغ کی خواہش کرنے والی/ والے کا چیلنج اپنے گرد و پیش کچھ سکون آور گھنٹوں کی طلب اور حصول ہے جو اب ہماری زندگیوں کا خاصہ نہیں رہا۔ صبح برقی آلۂ چشم کشا (الارم) سے لے کر دیر شب اس صوتی و سمعی بت طناز ( موبائل فون) کے ناز و انداز اور نخرے اٹھاتے اٹھاتے اہل دیر و عجم اس قابل کہاں رہ پاتے ہیں کہ کسی دلکش سرورق کی کتاب کو دیر

Read more

تنویر ملک اور ان کی پہلی تصنیف: شہر آشوب تلہ گنگ

ایک عوامی تاریخ دل سے لکھے بھارے اکھر، صرف سنے تھے پڑھنے کا اتفاق تب ہوا جب شہر آشوب تلہ گنگ ورق ورق، فرد فرد، واٹس ایپ گروپ پہ پڑھی گئی۔ یہ اصلی نسلی قلمی جہادی گروپ شاھد سلیم مرحوم کی علمی و ادبی وراثت رہی۔ اب تنویر ملک صاحب کی قلم رو میں ہے حلقۂ ارادت جامعہ قائد اعظم کے قدیمی ہونہاران اور پاسبانان عقل و دانش پہ محیط وہ گروہ روایت و فن ہے جو وسیع تر ایشیا،

Read more