سانحہ بھابڑہ


Ihsan Ullah Khan

سال 1919 میں سکھوں کی ایک بڑی تعداد رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کے لیے امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے۔ پنجاب کے ثقافتی تہوار بیساکھی کے شرکا بھی یہاں موجود تھے۔ جنرل ڈایئر نے ان پر فائرنگ کا حکم دے دیا، جس کے نتیجے میں گیارہ سو سے زائد سکھ جان سے گزر گئے۔

یہ تاریخ دوسری بار تئیس اپریل انیس سو تیس میں دہرائی گئی۔ برطانوی حکومت کے خلاف چلنے والی سول نافرمانی تحریک کے موقع پر باچا خان کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ لوگ باچا خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہوئے تو ایک موقع پر قصہ خوانی بازار میں جمع ہوئے۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر سر میٹکاف کے حکم پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں چار سو سے زائد خدائی خدمت گار اور دوسرے شہری قتل ہوئے۔

یہی تاریخ تیسری بار قیام پاکستان کے بعد 1948 میں 12 اگست کو دوہرائی گئی۔ ہزاروں خدائی خدمت گار خان عبد الغفار خان باچا خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے چارسدہ کے علاقے بھابڑہ میں جمع ہوئے۔ صوبہ سرحد کے وزیر اعلی صاحبزادہ عبدالقیوم خان کے حکم پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں، جس کے نتیجے میں چھ سو سے زائد خدائی خدمت گار جان سے گزر گئے۔

یہاں آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور آ رہا ہو گا کہ خدائی خدمت گار کیا ہے؟ خدائی خدمت گار بر صغیر کی سیاسی و سماجی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ یہ باچا خان کی تحریک تھی جس کی بنیاد اتمان زئی میں پشتون بزرگوں نے رکھی تھی۔ نام سے ہی واضح ہے کہ اس کا مطلب تھا خدا کی خدمت گزاری۔ مگر خدا کی خدمت گزاری کیسے ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے باچا خان کہتے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا کو خوش کیا جائے تو اس کے بندوں کی خدمت کی جائے۔ بندوں کی خدمت دراصل خدا کی خدمت ہے۔

خدمت کی اس تحریک کا پہلا منشور عدم تشدد تھا۔ خدائی خدمت گار کسی سطح کے تشدد کی قائل نہیں تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جب کانگریس نے برطانوی اتحاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو باچا خان نے عدم تشدد کی اسی فلاسفی کی بنیاد پر کانگریس سے ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدم تشدد یا بالفاظ دیگر امن کو باچا خان اپنا عقیدہ کہتے تھے۔ انہوں نے ہندوستان سے برطانوی حکومت کے انخلا کے لیے استقامت کے ساتھ تحریک چلائی۔ خدائی خدمت گاروں کے قائم کردہ سکولوں کو تباہ کیا گیا، خدائی خدمت گاروں کو سزائے موت ہوئی، باچا خان اور ان کے رفقا کو بار بار جیلوں میں رکھا گیا، سرخ لباس اور ٹوپی پہننے پر جرمانے عائد ہوئے مگر خدائی خدمت گاروں کی طرف سے جسمانی، ذہنی یا زبانی کلامی تشدد کا ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔

اس مختصر تعارف کو سننے کے بعد آپ کو سانحہ بھابڑہ کے پیچھے موجود ایک ریاستی بدنیتی کی طرف لے کر چلتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد میں خدائی خدمت گاروں کی حکومت تھی۔ اس حکومت کو بغیر کسی سیاسی اور جمہوری پراسس کے برطرف کیا گیا۔ ایسے ہی جیسے قیام پاکستان کے اگلے ڈھائی سالوں میں تقریباً بیس اسمبلیاں توڑی اور بنائی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ، پنجاب اور مشرقی پاکستان کی اسمبلیاں بار بار توڑتے وقت کہا گیا کہ وہاں کے وزرائے اعلی کرپشن اور ملک دشمن اقدامات میں ملوث ہیں۔ یعنی کرپشن اور ملک دشمنی والے الزامات جو آج ہماری سیاست میں موجود ہیں، اس کی بنیاد انیس سو اڑتالیس میں ہی رکھ دی گئی تھی۔ تب جن پر یہ الزامات لگائے گئے تھے ہماری تاریخ انہیں بانیان پاکستان بھی کہتی ہے۔

صوبہ سرحد کی حکومت برطرف ہوئی تو صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو وزیر اعلی لگایا۔ اسی عرصے میں باچا خان کی کراچی میں قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں باچا خان نے قائد کو سرحد آنے کی دعوت دی۔

کچھ عرصے بعد قائد پشاور گئے تو باچا خان نے انہیں خدائی خدمت گاروں کی ایک تقریب میں شمولیت کی دعوت دی۔ باچا خان کہتے ہیں، اس بار قائد بہت ہچکچا رہے تھے۔ بعد میں یہ بات واضح ہو گئی کہ صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے انہیں بتایا تھا کہ خدائی خدمت گاروں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا ہے۔ تب مواصلات کے ذرائع آج جیسے نہیں تھے۔ چنانچہ قائد کے پاس قیوم خان کی تجویز پر عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اگلا مختصر عرصہ باچا خان پر مشکل تھا۔ باچا خان نے سیاسی بزرگوں کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی نامی ایک سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ جون میں باچا خان کو سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ جولائی میں پبلک سیفٹی آرڈیننس کے تحت سرحد حکومت نے خدائی خدمت گار تحریک پر پابندی لگا دی۔ گرفتاری اور پابندی پر پر امن رد عمل دیتے ہوئے باچا خان کے بھائی اور صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالجبار خان کی قیادت میں خدائی خدمت گار بھابڑہ میں جمع ہوئے، جن پر سٹریٹ فائر چلائے گئے اور چھ سے زائد افراد جان سے گزر گئے۔ مسلسل چلتی ہوئی گولیاں روکنے کے لیے عورتیں قرآن مجید لے کر اپنے گھروں سے نکلیں اور پولیس کو قرآن کے واسطے دے کر فائرنگ روکنے کی التجا کی۔ التجا سننے کی بجائے بندوقوں کا رخ ان عورتوں کی طرف کر دیا گیا۔

ایک گولی جلوس میں موجود گوہر تاج بی بی نامی ایک خاتون کو لگی، جنہیں تاجو بی بی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ خاتون امید سے تھیں۔ اس مشکل حالات میں اس خاتون نے لوگوں کے لیے مرہم پٹی کا کام کیا۔ اگلے سال مارچ کے کے مہینے میں اس جری خاتون کی زچگی ہوئی۔ ایک زندگی کو جنم دیتے ہوئے تاجو بی بی کی اپنی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس موقع پر خاتون کا شوہر جیل میں تھا۔ جس بچے نے اس کی کوکھ سے جنم لیا، اس کا نام اسفندیار ولی خان رکھا گیا، جو آج عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ہیں۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔

خدائی خدمت گاروں پر تشدد کا الزام لگا کر معاملات کو الجھانے والے قیوم خان نے بارہ اگست کی خوں آشام قسم کی شام اپنی تقریر میں کہا، شکر کرو ہمارے جوانوں کے پاس گولیاں ختم ہو گئی تھیں ورنہ آج خدائی خدمت گاروں کی نسل مٹا دی جاتی۔

اس اندوہناک واقعے کے بعد بھی خدائی خدمت گار اپنے عدم تشدد والے واقعے پر جمے رہے۔ انہوں نے چپ چاپ اپنے عزیزوں کو دفنا دیا، اپنے پیاروں کی مرہم پٹی کی اور گولیاں چلانے والوں کا کچھ بھی برا نہیں چاہا۔ احرار کبھی ترک روایت نہ کریں گے۔

Facebook Comments HS