ڈاکٹر کبیر اطہر ”نم“ کا شاعر


نم میں کل 81 غزلیں ہیں۔ دیباچہ میں حرفِ آغاز کے عنوان سے ایک نظم ہے۔ دو اشعار حمد کے اور ایک نعت کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی ایک منفرد بات جو مجھ بہت اچھی لگی وہ یہ ہے کہ اس پر کسی کا بھی مضمون نہیں ہے۔ اور میرے نزدیک ہونا بھی نہیں چاہیے ہاں کتاب کا دوسرا ایڈیشن آئے لوگ پڑھ لیں پھر وہ آرا دیں خیر یہ میری ذاتی پسند بھی ہو سکتی ہے۔

”نم“ کی غزل استادانہ مہارت سے وقوع پذیر ہوئی ہے۔ اس کے اشعار ایک ماہر فنکار کے ہاتھوں سپردِ قرطاس ہوئے ہیں۔ یہ کبھی رات کے نہاں خانوں سے اپنے حصے کی چمک اٹھاتی ہے تو کبھی دن کے اجالوں میں بھی نظر انداز ہوئے رنگوں کو سامنے لا کر ایک ایسی جمالیاتی تصویر کھینچتی ہے جو اپنے ظاہر سے اپنے باطن تک کا راستہ دکھا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ دو شعر دیکھیے

ستارہ وار مجھے آنکھ مارتی ہے کبیر
یہ رات مجھ سے کوئی بھول چاہتی ہے کیا
لگتا ہے اپنے کام میں یکسو زیادہ ہے
اک پھول جس میں رنگ سے خوشبو زیادہ ہے

”نم“ اپنے سیاسی، سماجی، مذہبی، نفسیاتی اور خاص طور پر رومانوی مضامین کو جداگانہ اسلوب سے سامنے لاتی ہے۔ یہ صرف کہنے کی بات نہیں ہے آپ اس کتاب کو پڑھیں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ امیج اور خاص طور پر Abstract Image سے پیدا ہونی والی جمالیات جب پوری شعری توانائی کے ساتھ غزل کے قالب میں آتی ہے تو ان کی سرایت کا کیا عالم ہوتا ہے۔ یہ شعر دیکھیں

جب بھی چھونے کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہوں کبیر
وہ مرے سامنے رنگوں میں بکھر جاتا ہے

اردو غزل کی روایت کو ثروت مند کرنے والی اس کتاب کی اشاعت پر ڈاکٹر کبیر اطہر صاحب کو ڈھیروں مبارکباد

آخر میں کچھ اشعار کاانتخاب

کارِ غم ڈھونڈتا پھرتا ہوں کہ آنکھیں میری
خوش نہیں منصبِ گریہ سے سبک دوشی پر

ہم اس لیے بھی خدا پہ یقین رکھتے ہیں
کہ ایسے کرنے میں کچھ بھی ہمارا جاتا نہیں

یہ چاندنی کا لحاف برتا ہوا ہے سب کا
میں اپنی شب تیرے نور سے دودھیا کروں گا

ہوائیں بند کرتی کھولتی ہیں
اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے

یہ ہاتھ وہ ہیں جو ہیرے تراشتے تھے کبھی
اب ان سے مانگ تلک خوش نما نہیں بنتی

بوقتِ جرم کوئی اور شخص تھا مجھ میں
یہ جو سزا ہے، یہ میری سزا نہیں بنتی

میرے عقب میں تم تھے کنویں کی منڈیر پر
گرتے ہوئے بھی تم پہ مرا شک نہیں گیا

ضرور ہے کوئی پیغام پیڑ کا اس میں
یہ پھول شاخ سے یونہی نہیں گرا مجھ پر

ہے ساری بات تمہاری مجھ ایک مصرعے میں
عضب کا شعر ہوں جب تک تمہارے ساتھ ہوں میں

بند ہے تجھ پہ ترے دل کا دریچہ کوئی
آنکھ کا دخل نہیں ہے تری بے نوری میں

فیشن پرست دیکھتے ہیں غور سے مجھے
اتنا قدیم ہوں کہ نیا لگ رہا ہوں میں

سایہ بنا رہا ہے یہ دیوار پر مرا
تصویر ہو رہا ہوں دیے کی ضیا سے میں

میں روز تیز کرتا یوں تیغ ستم کی دھار
حالانکہ اس سے وار بھی کرنا نہیں مجھے

Facebook Comments HS