کھلے پڑے تھے ورق، لفظ دیکھتے تھے مجھے

بہت دن پہلے جب ایک فرض شناس دوست مہدی کاظمی نے کیپٹن لیاقت علی ملک کا تذکرہ پرانے راوین کے طور پر کرایا اور بتایا تھا کہ لیاقت صاحب کی تحریر کمال کی ہے۔ پھر ایک دن عامر علوی کے گھر لیاقت علی ملک سے مڈبھیڑ بھی ہوگئی۔ ان کی سادگی اور اخلاص نے متاثر بھی کیا۔ ایک پولیس والے کے قلم سے ایسی تحریر کی اُمید نہیں تھی۔ کتاب جگ بیتی اور پنجابی زبان میں شاعری کا رنگ روحانی سا نظر آتا ہے۔ ان کی کتاب پرکچھ تبصرے تو کتاب کے اندر ہی درج ہیں۔ جس میں بابا محمد یحییٰ خان کا مضمون کیا خوب ہے یہ فکر انگیز کتاب”حاصل لا حاصل“ انہیں انسانی فطری اور نفسانی رویوں کا احاطہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ساتھ یہ گرہ بھی کھولتی ہے کہ ثبات کے اصل
”میراعہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا“ جناب تنویر ظہور کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ جناب تنویر ظہور اردو اورپنجابی کے محقق اور مصنف ہیں۔ ایک عرصہ سے پنجابی کا رسالہ”سانجھاں“ بھی نکال رہے ہیں۔ بہت طویل عرصہ تک روزنامہ جنگ لاہور سے وابستہ رہے۔ اصل میں یہ کتاب ان کی یادداشتوں اور محفوظ کیے ہوئے تراشوں کی مدد سے لکھی گئی ہے۔ ماضی کی باتیں اور گزرے لوگوں کی یادیں بھی خوب ہیں۔ صوفی غلام مصطفی تبسم کا ذکر۔ ان کی محبت اور شفقت کا احوال۔ پھر ذکر صادقین، اس کی خطاطی اور شاعری پر تبصرہ صادقین کا بڑا نفیس ہیولہ سا نظرآتا ہے۔ اپنے اشفاق خاں کا ذکر اور فکری کردار کیا مزیدار تحریر ہے۔ ہمارے منوبھائی کا تذکرہ اور جگت بھائی کی ر ونمائی بھی عہدحاضر میں خوب لطف دیتی ہے۔ سب سے مزیدار اور حیران کن انکشاف اوول کے ہیرو نامور کرکٹر فضل محمود کے حوالہ سے ہے۔ 1954ءمیں ولایت میں کسی لڑکی نے فون کیا اور فضل محمود کو کہا ”تم کو نہ بلا پکڑنا آتا ہے اور نہ گیند کرانے کا سلیقہ۔“ فضل محمود نے حوصلہ سے فون سنا اور کوئی جواب نہ دیا۔ پھر کایا پلٹی فضل محمود نے 12وکٹیں حاصل کیں اور اوول کے ہیرو ئن گئے۔ اب کی بار لڑکی کا فون پھر آیا۔ تعریف کے بعد ملنے کی درخواست کی۔ فضل محمود نے انکار کردیا۔ وہ لڑکی بعد میں بھارت کی وزیراعظم بھی بنی۔
اب آتے ہیں ایک ایسی کتاب کی طرف جو ایک عسکری دوست نے لکھی ہے۔ اگر آپ صاحب تحریر حسن معراج کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ نوجوان نیشنل کالج آف آرٹس کا طالب علم ہے۔ ظاہری شخصیت میں لاابالی اور یہ بھی تاثر نہیں ملتا کہ جناب کا تعلق سابقہ لائل پور سے ہے اور ہماری فوج کے ایک ذمہ دار عہدیدار بھی رہے ہیں۔ ان سے گفتگو میں ان کے رنگ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ بہت ہی دلچسپ بات کرنے کا طریقہ دوسرے کو غلط فہمی کا شکار بھی کردیتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کی گفتگو سے کئی لوگ گھائل بھی ہوتے ہوں گے۔ آج کل ان کا قیام لندن میں ہے اس لیے ان کی مغربی ا دب پر بھی بہت نظر ہے۔ اردو میں ڈرامہ اور نثر وہ بہت علم رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب ”ریل کی سیٹی“ جو گزشتہ سال شائع ہوئی تھی۔ اب اپنی پہچان کراتی نظر آتی ہے۔ ”ریل کی سیٹی“ اُردو ادب میں ایک منفرد کتاب ہے۔تاریخ کے تناظر میں کہانیاں ہیں اور بیانیہ بھی ایسا جیسے سب کچھ سامنے ہی ہو رہا ہے۔ کتاب کا موضوع ہجرت، تقسیم اورسفر ہے۔ فرنگی نے اپنی جاگیر ہندوستان کا بٹوارہ کیا اوردنیا کے نقشہ پر دو نئے آزاد ملک وجود میں آگئے مگر تقسیم نے لوگوں کو خون کے سمندر سے گزارا اور پنجاب میں رہنے والے مسلمان، سکھ اور ہندو ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔
”ریل کی سیٹی“ مختصر کہانیوں کی لاجواب کتاب ہے جو آپ کو عہد رفتہ میں لے جاتی ہے۔ فرنگی نے ہندوستان کو تعمیر اور ترقی سے روشناس کرایا۔ مگر اس زمین کے رہنے والے قوت برداشت سے محروم ہی رہے۔ فرنگی نے تعلیمی معاملات میں زیادہ مداخلت اس لیے نہیں کی کہ مذاہب کی تعلیمات کو ہی لوگ تعلیم تسلیم کرتے رہے۔ فرنگی نے بھی تعلیمی ادارے بنائے اور ان سے اپنے نظام کے لیے کچھ اچھے شہری بھی حاصل کیے۔ حسن معراج کی کتاب تاریخ کے ساتھ اس خطہ کے رہنے والوں کی سوچ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ حسن معراج کا مشاہدہ خوب ہے اس حوالہ سے ”صوفی اور سالار“ بہت بامعنی کہانی ہے۔ ایک اور کہانی ”منڈی اور تلونڈی“ کی آخری چند سطریں خوب حالِ دل بیان کرتی ہیں ”گردوارہ کی دیوار کے ساتھ ساتھ مسجد بھی ہے اور مدرسہ بھی۔ اب بھلے کوئی وینکوار سے آئے یا بھٹنڈہ، پورے ننکانہ صاحب ہے۔ کینیڈا سے آئی من پریت سے اس کے احساس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا ”ہم اپنی ارداس میں ہر سویرے یہ دعا مانگتے ہیں کہ گرو، اپنے گھر کے درشن کرا دے ساتھ والے مدرستہ سے آواز گونجتی”میرے مولا ُبلا لے مدینہ مجھے۔“
اس کتاب پر ناصر عباس ناصر کا تبصرہ بھی روایت کے برخلاف ایک جدت سے بھرپور ہے۔ ان کی رائے ہے ”اتنی ہی اہم اس کتاب کی نثر ہے۔ ایسی زندہ، رواں، ولولہ خیز، اختصار پسند، کہیں آئرنی، کہیں طنز، کہیں چٹکی بھرنے کا انداز، کہیں کہاوت مگر ہر جگہ معنی و بصیرت سے مالا مال نثر اردو میں کم کم ملتی ہے۔“
ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد خیال آتا ہے ہمارے ہاں کہانی کا خیال اور اعتبار دونوں گم شدہ ہیں۔ کیا ہمارے سکولوں میں استاد بچوں کو کتابوں سے روشناس کرانے کے لیے کہانی بھی سناتے ہوں گے؟ ہمارے اردگرد کہانیاں بہت ہیں مگر ان کو خبر بنا دی اجاتا ہے۔ پہلے زمانہ میں کہانی سوچنے پر مجبور کرتی تھی اور اب خبر اگر خیر کی ہو تو مناسب ورنہ فرنگی کا یہ کہنا اب بھی اہمیت کا حامل ہے no news is good news افسوس تو اس بات کا ہے لکھنے والے بھی پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہماری درس گاہوں میں کتابوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اب تو بس گمان اور قیاس پر کام چل رہا ہے۔
اک ہاتھ کو کچھ کرنے کی عادت نہیں ڈالی
جو دوسرا ہے صرف گدائی کے لیے ہے!
فقیر قوم گمان اور قیاس میں ترقی کررہی ہے اور قرضوں پر زندہ ہے اور اپنے اثاثے فروخت کررہی ہے۔ کاش کوئی کتاب ان صاحب نصاب لوگوں کو بدل سکتی۔ فیصلہ کتاب سے ہی ہونا ہے، کب سے اس کا انتظار ہے۔
(محمد ساجد خاں کی اس فکر انگیز تحریر میں مذکورہ تینوں کتابیں سنگ میل پبلشرز نے شائع کی ہیں)


