بدلے کے بغیر بدلنا ہو گا

ہماری اک دوست شانتی دیوی جو آج کل ساؤتھ افریقہ میں رہتی ہے۔ اس نے چند دن پہلے برطانیہ کے اہم فوجی عہدہ دار کی تصویر مجھے انٹرنیٹ پر میل کی۔ وہ تصویر ایک قبول صورت ناری کی ہے۔ اس نے برطانیہ کی فوج کے اعلیٰ عہدہ دار کے رینک لگائے ہوئے ہیں۔ اس عسکری خاتون کا نام لیفٹیننٹ جنرل شیرون نشیت LT GEN SHARON NISHITH ہے۔ برطانیہ کی آئندہ اعلیٰ آرمی چیف ہوں گی اور پہلی خاتون جو اس

Read more

سچ بولنا مشکل، لکھنا بہت آسان

پاکستان میں سچ اور حق کے درمیان ایک خاموش سی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اس جنگ میں جنتا کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا۔ عوام کو تقسیم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر مطلوبہ نتائج کافی حد تک مایوس کن ہیں۔ اس ساری صورت حال میں دستور پاکستان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ نامکمل قومی اسمبلی نے دستور پاکستان کو نظرانداز کر کے ایسی قانون سازی کی ہے جس سے آئین پاکستان

Read more

دل کی بے قراریوں کو بیان کریں

پاکستان میں سیاسی شطرنج کا کھیل کچھ پھنس سا گیا ہے۔ ملک سے باہر تارکین وطن اس صورت حال کے بارے میں بہت تشویش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اکثر تارکین وطن ملک کی موجودہ صورت حال سے بد گمان اور بددل ہیں۔ ان تمام کی امیدیں مایوسی میں بدل رہی ہیں۔ اکثر کا ایک ہی سوال ہوتا ہے پاکستان میں کس کی حکومت ہے۔ کیونکہ میں ابھی بھی پرامید ہوں کہ جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا

Read more

کیوں ڈریں زندگی میں کیا ہو گا!

ہماری تہذیب میں کھیل اور تماشے کو بڑی اہمیت رہی ہے۔ ہم بدل سے گئے ہیں یا ہماری تہذیب نے اپنی حیثیت بدل لی ہے۔ ہماری ثقافت میں جمہور تو بہت تھے مگر جمہوریت نہ تھی۔ افراد کی حیثیت ضرور تھی۔ مگر ان کی اہمیت نہ تھی۔ فرنگی نے بھارت پر بڑے طریقہ سے قبضہ کیا اور پھر ہندوستان کو متحدہ بھی رکھا۔ کچھ ریاستوں کو آزادی ضرور دی مگر خود مختاری نہ دی۔ پھر دو عالمی جنگوں کے بعد

Read more

میرے نا خدا وہی ہیں جو مجھے ڈبو رہے ہیں

میرا پاکستان زرد پتوں کا بن جو میری انجمن ہے اک عجیب بے بسی کے المیہ سے گزر رہے ہیں ہم کبھی کبھی یہ سوچ کر بھی اپنے رنج کم ہوتے کہ اس کٹھن سراب میں حیات کے عذاب میں، اکیلے ہم نہیں بہت ہیں لوگ اور بھی بہت ہیں اپنے ہم سفر جو بے نیاز غم نہیں اکیلے ایک ہم نہیں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے۔ وہ ناقابل یقین سا ہے۔ ملک میں جنتا

Read more

اب اس قدر بھی نا چاہو کہ دم نکل جائے

ہماری سیاسی اشرفیہ کو یک دم خیال آیا کہ اس ملک میں رائج آئین کو پچاس سال ہونے کو ہیں۔ نامکمل قومی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ ان محفوظ پچاس سالوں کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جائے۔ ”ان کو آئین کا تحفظ حاصل ہے“ ۔ یہ آئین متحدہ پاکستان کے بٹوارے کے بعد بہت ہی مشقت سے بنایا گیا تھا۔ ملک پاکستان توڑنے کی سازش میں تین نام بہت ہی نمایاں ہیں۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن مغربی

Read more

طاقت کسی کے ساتھ۔ دولت کسی کے ساتھ

ہمارے تمام سیاسی نیتا عوام کو مسلسل مایوس کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کا واحد مطالبہ صرف یہ ہے کہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کو قابل اعتبار بنایا جائے، دوسری طرف اسمبلی نامکمل ہے۔ مگر قانون سازی ہو رہی ہے۔ مگر کوئی ایسا قانون نظر نہیں آ رہا جو مہنگائی کے خلاف ہو۔ نوکر شاہی کا کردار بھی یک طرفہ سا نظر آ رہا ہے۔ آٹے کے بحران نے شہباز سپیڈ کی سپیڈ کو خراب کر دیا

Read more

لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

آپ بیرون ملک کسی بھی پاکستانی کو مطمئن نہیں پائیں گے ان کو اپنی بے بسی کا مکمل احساس ہے۔ اس وقت اس ملک میں بھی مہنگائی کا بہت ہی شور ہے۔ ایسے میں حکومت کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی میں عوام کو اخلاقی مدد سے محروم نہ کیا جائے اور ایک خاص بات جتنے بھی بڑے روزمرہ کی ضروریات کے سٹور ہیں ان پر تمام اشیا کی قیمتیں منجمد کر دی گئی ہیں۔ اگرچہ یہ وقتی حل تو

Read more

کم ظرف کو بھی اہلِ نظر کہہ دیا

یہ بات گذشتہ سال کی ہے جب پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کی قسمت بدلی اور ان کو وزیراعظم پاکستان بنا دیا گیا۔ مجھے بہت پہلے سے اندازہ تھا کہ جمہوریت کے اس کھیل میں کسی کی بھی لاٹری نکل سکتی ہے۔ یہ تمام سیاسی لوگ ایک چہرے پر کئی چہرے سجا کر رکھتے ہیں۔ پاکستان کی فوج کے کردار پر ہمارے سیاسی لوگ آئے دن تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے سیاست دانوں میں صداقت اور امانت داری کا بہت

Read more

روک سکو تو روک لو!

اس وقت پاکستان سیاست اور جمہوریت کے درمیان مشقتی بنا ہوا ہے۔ 2018 ء کے انتخابات کے بعد ملی جلی سیاسی جماعتوں کے تعاون سے عمران خان سرکار بنی تھی اس وقت بھی ہارنے والی مشہور زمانہ سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے الزام لگایا تھا کہ انتخابات شفاف نہیں تھے اور نہ معلوم اداروں نے من مانی کر کے ایسا نتیجہ دیا جس سے جمہوریت پر سیاست کرنی مشکل ہو جائے۔ کوئی بھی جماعت نامعلوم ادارے

Read more

بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاں

‎اس وقت پاکستان کے اندر سیاست اور ریاست میں ایک جنگی کیفیت نظر آ رہی ہے۔ اس جنگی کیفیت میں عسکری انتظامیہ کا کردار بہت نمایاں نظر آ رہا ہے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے جرنیل نے اعلان فرمایا تھا کہ ملک میں سیاسی لوگوں کا فوج پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد جو مخلوط سرکار بنی، اس کی کارکردگی معیشت کے حوالہ بہت ہی خراب جا رہی ہے۔ مخلوط سرکار کے وزیر اور مشیر

Read more

بے حسی شرط ہے جینے کے لیے تو

ہم کو احساس کی بیماری ہے۔ آج کل ہماری سیاست میں حساسیت بہت زیادہ نظر آ رہی ہے۔ ہماری قومی سیاست تو ایک عرصہ سے بیمار اور کمزور ہے۔ پاکستان میں سیاست ایک طرف بہت ہی مقبول کھیل تماشا ہے اور اس میں کام کرنے والے اشرافیہ کہلاتے ہیں اور خوب کماتے بھی ہیں۔ کسی بھی سیاسی پنڈت کا بیان سن کر آپ کی ہمدردی اپنے آپ سے بڑھ جائے گی۔ آپ کو جلد ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ

Read more

ووٹ کی چوری، رائے کی بے بسی

پاکستان کی مشکلات میں کمی نظر نہیں آ رہی، بین الاقوامی معاشی اور سماجی ادارے اور ان کے اعداد و شمار پاکستان کے بارے میں خوش گمان نظر آرہے ہیں، مگر اندرون ملک عوام کی سوچ اور فکر میں یکسوئی کا فقدان ہے۔ ہمارا کوئی بھی ہمسایہ ماں جایا بھی نہیں ہے، بھارت کے حکمران آپ سے سدا بہار بغض اور کینہ رکھتے ہیں۔ ایران کو آپ کے دوست پسند نہیں، چین کو حیرانی ہے کہ آپ لوگ اپنا کچھ بھی جلدی بدلنے کو تیار نہیں اور افغانستان کے ساتھ اعتماد کا فقدان ہے۔

Read more

جب اس کا کردار تمہارے سچ کی زد میں آیا

ہم میں سے کچھ لوگوں کو خطرے کا احساس ضرور ہے۔ پاکستان، پاکستان کے عوام اور پاکستان کے حکمران خطرات سے آگاہی رکھتے ہیں۔ ہماری سیاسی اشرافیہ ان خطرات کو سیاسی حوالوں سے دیکھ رہی ہے اور ہماری اہم سیاسی اور مذہبی جماعتیں شتر مرغ کی طرح گردن پروں میں چھپا کر آنکھیں بند کر کے اپنے آپ پر لاگو ان خطرات سے لاتعلق ہونے کا مصنوعی کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔

Read more

اشرافیہ کا کمال ملک بدحال

پاکستان کے جمہوری نظام نے ملکی اداروں کی ترقی میں مثبت کردار ادا نہیں کیا، روس نے پاکستان کو دوستی کے تناظر میں سٹیل مل لگا کردی اور وہ بھی اس وقت جب آپ کے مہربان دوست کو ہماری معاشی مشکلات کا حل یو ایس ایڈ بتا کر جان نثاروں کی مدد کر رہے تھے، مگر ہم مشکور ہونے والے نہیں، اس طرح کچھ شخصیات نے ادارے بنا دیے اور ان کی ساکھ بھی بنا دی۔ ہماری اشرافیہ اور اعلیٰ ملکی نوکر شاہی نے ان اداروں میں بھی نقب لگائی۔

Read more

امریکہ ہمارا ہرجائی دوست ہے

اس وبا نے دنیا کیا بدلی کہ اب تو دنیا کا امن بھی داؤ پر لگا نظر آ رہا ہے۔ ہمارا دوست اور مہربان ملک امریکہ پاکستان سے خوش نظر نہیں آ رہا۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کا دعویٰ ہے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان کی صاف گوئی نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے پھر اہم اپوزیشن کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کے سابقہ معاہدوں کی وجہ سے پابند ہے اور ان میں سب سے اہم فضائی حدود کا معاملہ ہے۔ جب افغانستان سے امریکہ نکل رہا ہے جبکہ افغانستان میں لڑنے والے گروہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فرار ہو رہا ہے۔ جو کچھ بھی ہے پاکستان امریکہ کہ باور کرانے میں ناکام رہا ہے کہ اس طرح فرار ہونا امن کے لئے خطرناک ہے۔ امریکہ میں سرکار کی تبدیلی کے بعد ۔ اب امریکی افواج اصل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ان کے نزدیک بڑی فوج والا کوئی دوسرا ملک افغانستان میں ان کی جگہ لے سکتا ہے، بڑی فوج والے ممالک میں بھارت اور چین نمایاں ہیں اور چین اس معاملہ میں مکمل خاموش ہے۔

Read more

کچھ بھی نہیں جو خواب کی صورت دکھائی دے

میں نے پہلی بار پاکستان کے ڈاک کے ٹکٹ پر پاکستانی حضرات کی تصویر دیکھی تو خاص حیرانی سی ہوئی۔ وہ سب لوگ پاکستان کی پہچان تھے اور ہیں بھی۔ مجھے کرید ہوئی کہ یہ فیصلہ کہاں ہوا اور کیوں ہوا۔ میں اس زمانہ میں پاکستان سے باہر تھا جب پاکستان سے ایک مکتوب آیا اور اس کے ٹکٹ پر نواب بہاول پور کی (شبہ) تصویر تھی۔ مجھے ٹرانٹو لابیریری بورڈ کی خاتون اخیر نے پوچھا، یہ کوئی استاد یا

Read more

ہم حالِ دِل سنائیں،مگر گفتگو نہ ہو

کمال کا معرکہ تھا، قومی اسمبلی میں ایک طرف پیپلز پارٹی کے ایسے لیڈر جن کی بلاو ل بھٹو زرداری کے نام سے پہچان کروائی جاتی ہے، نوجوان ہیں، پیپلز پارٹی کے وراثتی لیڈر ہیں، ان کے ذوق و شوق کے بارے میں میڈیا زیادہ باخبر بھی نہیں ہے۔ وہ بجٹ سیشن میں خوب گرجے برسے، اُنہوں نے اپنے نشانے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو رکھا اور قدرے کم درجے کا غصہ انہوں نے اپوزیشن کے لیڈر، سابق

Read more

ضرورتوں کا خدا تو ہے، تو فقیر ہم بھی نہیں

عمران کے دوست چلہ بھی کاٹ رہے ہیں، دعا بھی کر رہے ہیں، مگر اثر نظر نہیں آ رہا سب کے عمل میں خرابی ہے اور سب ہی معلوم کے چکر میں نا معلوم کا وظیفہ کر رہے ہیں۔ سب کچھ بدلنے کے لئے سب اکٹھے تو تھے مگر نیت کے کارن ناکام و نامراد ہیں۔ عمران کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور آپ کے پاس بنانے کو کچھ نہیں۔ وطن پرستوں پر یلغار ہے۔ وطن پرستوں کو کہہ رہے ہو وطن کا دشمن۔ ڈرو خدا سے، جو آج ہم سے خطا ہوئی یہی خطا کی سب کریں گے۔

Read more

یہ جج سوچتے بھی ہیں

کچھ ہفتے پہلے کی بات ہے۔ مجھے ایک کتاب کا تحفہ وصول ہوا۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے اور کچھ کتابوں کو اس لیے بھی پڑھا جاتا ہے کہ ان کی تشہیر مناسب ہو اور کچھ ادارے اور کتب خانے کتابوں کے بارے میں رائے بھی طلب کرتے ہیں۔ طلب کا مطلب ہے کہ آپ کو کتاب پڑھنے اور رائے لکھنے کا معاوضہ بھی ملتا ہے۔ بہت سال پہلے جب میں ٹرانٹو میں مقیم تھا تو وہاں کے ایک

Read more

سیاست کا سورج سوا نیزے پر

اس وقت میڈیا میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی بڑی ستائش ہو رہی ہے اور ستائش کا پس منظر وہ رویہ ہے جو انہوں نے امریکی سرکار کے ساتھ اختیار کیا۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں بلکہ ایک اصولی فیصلہ تھا ان کو کسی سرکاری آفیسریا ادارے نے بھی مشورہ دیا ہو گا۔ بتایا جاتا ہے کہ دو تین ماہ پہلے شایداپریل میں امریکی سرکار کے اعلیٰ عہدیدار جو سی آئی اے کے چیف بتائے جاتے ہیں پاکستان

Read more

یہ جج سوچتے بھی ہیں

کچھ ہفتے پہلے کی بات ہے مجھے ایک کتاب کا تحفہ وصول ہوا۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے اور کچھ کتابوں کو اس لیے بھی پڑھا جاتا ہے کہ ان کی تشہیر مناسب ہوا اور کچھ ادارے اور کتب خانے کتابوں کے بارے میں رائے بھی طلب کرتے ہیں۔ طلب کا مطلب ہے کہ آپ کو کتاب پڑھنے اور رائے لکھنے کا معاوضہ بھی ملتا ہے۔ بہت سال پہلے جب میں ٹرانٹو میں مقیم تھا تو وہاں کے ایک سرکاری کتب خانہ نے مجھ سے رجوع کیا اور اردو کتب کے بارے میں مشاورت کے لیے میری خدمات سے استفادہ کا عندیہ دیا اور یہ تجربہ بھی خوب رہا اور مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دفتری ملاقات میں ادارہ کی اہم رکن سے میں نے پوچھا کہ آپ کتابوں کا انتخاب کیسے کرتے ہیں۔ اس نے مجھے حیرانی سے دیکھا اور کچھ دیر سوچا۔ جب اس کو میرے چہرے پر ندامت کا احساس ہوا تو مسکرائی اور بولی۔ یہ تو ایک سرکاری راز ہے اور پھر بولی آپ کو راز دار بنایا جاسکتا ہے مجھے اس کی تاویل اچھی لگی اور وہ کہنے لگی کل کی میٹنگ کے بعد بات کریں گے۔

Read more

یہ کہاں کی دوستی ہے؟

کیا شریک کو شرک کہہ سکتے ہیں؟ یہ خاصا باریک سا نقطہ ہے اور اس پر اگر ہم کسی شریکے کا شکار ہو جائیں! پاکستان دوستی اور تعلقات کے معاملات میں اپنی زیادہ پہچان نہیں رکھتا۔ ہم دوست پسند ضرور ہیں مگر دوست نواز نہیں۔ ہم جن کو اپنا دوست خیال کرتے ہیں، وہ دوست سے زیادہ ہمارے مہربان ہیں۔ مہربانی بھی ایک طرح کی بھیک ہی ہوتی ہے جو بے بس ہو نے کی وجہ سے مانگی جاتی ہے۔

Read more

عمران خان کسی پربھی اعتبار نہیں کرتا

ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے بڑا مایوس کیا ایک تو عمران کسی پربھی اعتبار نہیں کرتا، اب تو روحانی معاملات پر شکوے شکایات کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس کو حالات کا اندازہ ہے مگر وہ کس پر اعتبار کرے۔ جب حفیظ شیخ بے چارہ بے توقیر ہوا تو اس سے ہمدردی بھی نہ کی پھر نہ جانے کہاں سے حکم آیا کہ چھوٹے وزیر کو بڑا وزیر خزانہ بنا دو، سو حکم کی اتنی تیزی سے تعمیل کی کہ دوست بھی حیران رہ گئے۔ نئے پراسرار وزیر خزانہ حماد اظہر بھی صاحب کمال ہونے والے ہیں انہوں نے فوراً ہی بھارت سے تجارت کرنے کی نوید دی۔ ان کو اندازہ تھا کہ پاک بھارت تعلقات عسکری حلقوں کی طرح نارمل ہونے جا رہے ہیں۔

Read more

میں پوچھتا ہوں مدعی عدل کچھ تو بول

ریاست میں جمہوریت اور سیاست کے درمیان ایک عجیب سی کشمکش نظر آ رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف ہمارے یہاں نہیں ہے بھارت میں بھی ایسی کیفیت ہے اور پھر امریکہ میں بھی سابق صدر ٹرمپ الزام لگا رہے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں ان کے ووٹ کو چوری کیا گیا ہے۔ اب ووٹ کی چوری کو ثابت کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں مسلم لیگ نواز، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی ایسا ہی بیانیہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں ہی سابق صدر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ موقوف کر دیا گیا ہے۔

Read more

وزیراعظم کے علاوہ حکومت میں کئی چہرے بدل سکتے ہیں

اس بے رحم وبا نے تو دنیا ہی بدل دی ہے۔ آنے والے دنوں کا نقشہ کیا ہو گا اس پر قیاس آرائی تو ہو سکتی ہے۔ مگر ابھی تک اتنی تحقیق نہیں ہو سکی کہ بدلنے کے بعد دنیا کیسی اور کن کی ہو گی۔ اس وبا کا ہمارے زرد پتوں کے بن پر کم اثر ہے۔ مگر دوسرے اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ ملک پر کسی آسیب کا سایہ لگتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہمارے وطن کے راکھیل ادارے المعروف آئی ایم ایف نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا اور مزید نوازشات سے نوازنے کا وچن بھی دے دیا ہے۔

کیا وقت تھا وزیراعظم عمران خان آئی ایم ایف کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے تھے اور جب ان کو اپنے مہربانوں کی طرف سے پاکستان میں حکومت کرنے کی اجازت ملی تو انہوں نے اسد عمر کو ملک کی معیشت کے حوالہ سے کچھ کرنے کا عندیہ دیا اور اسد عمر نے کمر کس کر بیرون ملک کا قصد کیا اور پاکستان کی بین الاقوامی امداد کرنے والے اداروں سے بات چیت شروع کی اور اپنا موقف واضح کیا۔ اسد عمر نے یہ سارا کام سنجیدگی سے کیا اور منصوبہ بندی کا آغاز کیا۔ ان کی آئی ایم ایف کے ماہرین سے بھی بات چیت ہوئی۔ وہ بظاہر اسد عمر سے متفق تھے۔

Read more

دعائیں پھونکتے رہے، دھوئیں میں ہم

سیاست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ منافقت پر مکمل یقین رکھتے ہوں۔ سیاست کرنے کے لئے جمہوریت بہترین راستہ ہے۔ ہمارے دیس میں اس وقت پر سیاست عروج پر ہے اور اپنی اپنی سیاست کو مقبول بنانے کے لئے جمہور کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ یہ المیہ صرف ہمارے وطن کا نہیں ہے، بھارت میں بھی یہ ناٹک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ مجھے اردو کے اچھے شاعر جن کی جنم بھومی پاکستان میں ہے لیکن وہ کہلاتے بھارتی ہیں، جناب گلزار کی ایک نظم یاد آ رہی ہے :

پرچیاں بٹ رہی ہیں گلیوں میں
اپنے قاتل کا انتخاب کرو
وقت یہ سخت ہے چناؤ کا!

Read more

اس سیاست پر اعتبار مشکل ہے

پاکستان میں فارغ لوگ آج کل جمہوریت کے لئے جنگی جنون میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ عوام کو تو غم روزگار سے فرصت نہیں لیکن آج کل کی سیاست میں جمہوریت ہو یا نہ ہو، اس کا تڑکا بہت ضروری ہے۔ لوگ اپنے دوستوں کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ ایک زمانہ میں ہم بھی امریکہ کے دوست تھے، دوستی کے نام پر اس نے ہمیں بہت نوازا بھی۔ ہمارے سابق وزیراعظم، جو ریکارڈ یافتہ بھی ہیں، آپ غلط سوچ رہے ہیں، ان کا ریکارڈ ہے ”تیسری بار وزیراعظم بننے تک کا“ اور یہ کام صرف جمہوریت کے پردے میں ہو سکتا تھا اور ان کو مکمل طور پر امریکہ اور ان لوگوں کی آشیرباد حاصل تھی جو ہمارے ملک میں امریکہ کے زیر اثر ہیں، کچھ لوگ تو ان کو اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں اور کچھ دوست ان کو حساس خیال کرتے ہیں۔

جنرل مشرف جب میاں نواز شریف (سابق وزیراعظم پاکستان) کی سپاہ کے کمان دار تھے تو اس زمانے کا ذکر ہے کہ امریکہ کی یوم جمہوریہ کے دن وزیراعظم پاکستان نے امریکی صدر سے ملنے کا جتن کیا اور ان پر اپنی اور اپنے خاندان کی محبت نچھاور کی۔ کشمیر میں بھارت پھنس چکا تھا، ہمارا ہمسایہ مجبور تھا سو امریکہ نے اس کی مدد بھی کی۔

Read more

‎کیا سیاست سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے!

‎پاکستان میں سیاست کی تاریخ کی عمر تقریباً 70 سال کے قریب ہے۔ آزادی کے پہلے تین سال تو مہاجرین کی آبادکاری میں ہی گزر گئے۔ آزادی کے بعد پہلا صدمہ 11 ستمبر 1948 ء کو قائداعظم محمد علی جناح کی وفات کے طور پر ملا۔ اس کے بعد 16 اکتوبر 1951 ء کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل کمپنی باغ راولپنڈی میں ہوا۔ قاتل ایک افغان سعد اکبر نامی شخص تھا جس کے خاندان نے بھارت میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی تھی۔

Read more

میں ہواؤں سے ہراساں اور دل گرفتہ

پاکستان کی سیاسی ہانڈی میں بہت ہی ابال لگ رہا ہے۔ اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس ہانڈی کو پکانے والے بہت سے لوگ ہیں۔ سب کے پاس اپنا اپنا مصالحہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی اسی سیاسی ہانڈی کی طرح بے توقیر ہو رہی ہے، جمہوریت کا بنیادی اصول برداشت ہے جس سے ہمارے سیاسی نیتا بالکل ناآشنا سے ہیں۔ پھر معاشرے میں اصول اور قواعد بدلتے جا رہے ہیں۔ آزادی سے پہلے جب گورا صاحب کی سرکار تھی اور اصول بھی ان ہی کے چلتے تھے اس زمانے میں اچھی اور بری شہرت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی شہرت کسی بھی وجہ سے خراب ہوجاتی یا داغ دار ہوتی تو ایسے سرکاری افسر کے لیے ملازمت کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک تو عام لوگ ایسے افسر کو منہ نہ لگاتے اور معاشرتی طور پر وہ ناپسندیدہ تصور کیا جاتا اور وہ کوشش کرتا کہ وہ کوئی کام سرانجام دے سکے جس سے اس کی خراب شہرت کی معافی تلافی ہو سکے۔ صرف خراب شہرت کی وجہ سے ترقی روک لی جاتی۔ مگر اب نہ شہرت کا معاملہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خوف ہے کہ کیا ہوگا؟

Read more

فکر اپنی اپنی، خطرہ سب کو

میرے ایک رہبر ہیں انہوں نے مجھ سے سوال کیا۔ نہیں سوال نہیں بلکہ ایک نکتہ اٹھایا کہ برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں نے تقریباً سو سال حکومت کی۔ انگریز پہلے پہل ایک کمپنی کی شکل میں وارد ہوئے۔ اس کمپنی میں ملے جلے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے اس کمپنی کی سرپرست مادر ملکہ کو بنایا۔ برصغیر میں آنے والے گورے کاروباری تجارتی لوگ، بدمعاش اور معالج قسم کے تھے اور وہ لوگ ایک نئی دنیا فتح کرنے نکلے تھے۔ ان سب کو اپنے دیس میں آرام و آسائش میسر نہ تھا۔ بلاشبہ پہلے پچاس سال تو قبضہ کرنے اور اپنے آپ کو منوانے میں لگ گئے۔ پھر کمپنی کو خیال آیا کہ ان محکموں کے لیے بھی کچھ کیا جائے تاکہ ان کو قابو میں رکھنا آسان ہو پھر تمام ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ پولیس کی چوکیاں بنائی گئیں۔ ہسپتال بنائے گئے اور تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی گئی اور عجائب خانے اور چڑیا گھر بھی بنائے گئے۔ برصغیر میں فوج مقامی لوگوں کی تیار کی گئی اور برطانیہ کی ایک نوآبادی قائم کی گئی۔

Read more

بحر ظلمات میں رہنے والے

پاکستان میں سیاست کی جنگ عروج پر ہے۔ مگر عوام کے نام پر سیاسی لوگ صرف اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت بہت ہی ناکام سی نظر آ رہی ہے۔ جمہوریت نے عوام کی حیثیت کو بھی مشکوک کر رکھا ہے۔ ہمارے جدی پشتی نیتا جمہوریت کو کندھے پر رکھ کر اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کا قبضہ عرصہ دراز رہا مگر عوام کے مفاد میں کسی کو قربانی دینی نہیں آئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف ایک معمولی اور حقیر سے جرم میں پاکستان کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ سے مجرم بنائے گئے اور کچھ تھوڑی سی جیل بھی دیکھی پھر ان کے مہربانوں اور دوستوں نے ان کے لئے ایسی قانونی موشگافی کا سہارا لیا جو صرف اور صرف نواز شریف کے لئے تھی اور ان کے لئے ان کے بھائی خادم اعلیٰ سابق صوبے دار پنجاب نے وعدہ دیا کہ وہ باہر سیاست نہیں کریں گے اور مال و اسباب میں سے کچھ سرکار کی نظر بھی کریں گے۔ مگر وعدے اور اصول صرف بتانے اور جتلانے کے لئے ہوتے ہیں۔ بے چار عوام کے لئے سابق وزیراعظم کا کردار بالکل صفر نظر آ رہا ہے۔ وہ عوام کو اپنے مفادات کی وجہ سے قربان کر رہے ہیں اور عوام بھی ان کے لئے قربانی کا سوچتے ضرور ہیں مگر نہ قربان ہونے اور نہ ان کے لئے نکلنے کو تیار ہیں۔

Read more

اب شاید جمہوریت ہماری مجبوری نہ رہے

سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ وبا کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ پاکستان میں وبا کا آسیب کچھ زیادہ ہی تھا۔ پھر کپتان کی سرکار کم از کم اس معاملہ پر بہت زیادہ فکرمند نظر آئی۔ لاک ڈاؤن کے مسئلہ پر بہت اختلاف نظر آیا۔ ڈاکٹر حضرات اور سندھ کے منتری جی مرکز کے اقدامات سے بالکل مطمئن نہیں تھے۔ مگر دوسری طرف داخلی خودمختاری کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی رہی اور وبا کا زور کراچی اور سندھ کبھی زیادہ اور کبھی کم ہو جاتا خیر قدرت کا ایک اپنا نظام ہے۔ اور وبا کے لئے جو اقدامات مرکزی سرکار نے کیے ان میں بہتری نظر آئی۔ شہروں میں لوگوں کو کچھ احساس بھی نظر آیا مگر دیہاتی علاقوں میں عوام کا مزاج اور طریقہ کار غیر سنجیدہ ہی رہا۔ اس وبا کا زیادہ زور شہروں میں رہا مکمل لاک ڈاؤن کو نظرانداز کر کے سافٹ لاک ڈاؤن کا طریقہ اپنایا گیا اور اس سے وبا کے پہلے حملہ میں پاکستان کامیاب ہوا ہے مگر ابھی خطرہ ٹلا نہیں اور خدشہ ہے کہ اس وبا کا ایک اور حملہ ہو سکتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل جاری رکھا جائے مگر وبا اور ہماری سیاست دونوں ہی ناقابل اعتبار ہیں۔

Read more

کپتان: اس وقت مجھے بھٹکا دینا، جب سامنے منزل آ جائے

اس وقت پاکستان کی سیاست کو کم اور پاکستان میں رائج جمہوریت کو زیادہ خطرات نظر آ رہے ہیں۔ ہمارے اپوزیشن کے تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ عمران خان سے ملک چلایا نہیں جا رہا ۔ دوسری طرف عمران خان اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ عمران خان کا ایک مسئلہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں بہت ہی تنہا ہے۔ یہ بات بہت پرانی ہے۔ اکلوتے بیٹے اور اکیلے بھائی کی حیثیت  میں عمران خان اکیلا ہی رہا۔

پھر والدہ کی علالت میں بھی عمران کو اپنی بے چارگی کا بہت ہی احساس رہا اور اس ہی وجہ سے کپتان عمران خان نے اس بیماری کے علاج کے لیے ایک بڑا ہسپتال بنایا اور اصل حقیقت یہ ہے جب اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال کا منصوبہ سوچا تو اس کو زیادہ حمایت نہ ملی۔ اسی کے اپنے کردار اور عالمی حیثیت میں ناموری کی وجہ سے ہسپتال کے لیے پلاٹ اس وقت کی سرکار نے دیا اور ان کو یقین تھا کہ یہ کام عمران خان کے لیے ممکن نہ ہوگا۔

Read more

کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

یہ بات وبا کے دنوں سے پہلے کی ہے۔ میرے دوست میاں مٹھو بڑے کاروباری ہیں اور ان کی حیثیت تجارتی اداروں میں بہت اہم ہے۔ گزشتہ سال جب انجمن تاجران کے انتخاب ہونے کو تھے مجھے تاریخ کا اندازہ نہیں، وہ کہنے لگے سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اس زمانہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عدالتی فیصلہ کے بعد جیل میں تھے اور ان کی سیاسی جانشین مریم صفدر بھی سزا کے بعد جیل میں تھیں۔ میاں مٹھو بتانے

Read more

عمران خان جمہوریت کے شہید بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں

یہ بات وبا کے دنوں سے پہلے کی ہے۔ میرے دوست میاں مٹھو بڑے کاروباری ہیں اور ان کی حیثیت تجارتی اداروں میں بہت اہم ہے۔ وہ گزشتہ سال جب انجمن تاجران کے انتخاب ہونے کو تھے مجھے تاریخ کا اندازہ نہیں، وہ کہنے لگے سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اس زمانہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عدالتی فیصلہ کے بعد جیل میں تھے اور ان کی سیاسی جانشین مریم صفدر بھی سزا کے بعد جیل میں تھیں۔

میاں مٹھو بتانے لگے کہ عنقریب میاں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل جائے گی اور میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم اور خادم اعلیٰ بھی ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ ایک بات اور بتائی کہ خادم اعلیٰ بھی ایک آنے والی مخلوط حکومت میں اہم حیثیت میں حکمرانوں کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ ایسا ہوگا مگر چند دن کے بعد ہی سابق وزیراعظم پنجاب ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد علاج کے لیے اپنے بھائی خادم اعلی شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو گئے اور ہمارے بیوپاری بھائی کی ایک اطلاع درست ثابت ہو گئی۔

Read more

امید کا سفر جاری رہتا ہے

عمران خان کی سرکار کو جمہوریت کی وجہ سے بہت ڈھارس ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ قومی اور صوبائی ممبران اسمبلی اپنی حیثیت اور اہمیت کا اندازہ رکھتے ہیں بس خرابی کیا ہے عمران خان سنجیدہ ہے اور وہ سب جو حزب اختلاف سے تعلق بتاتے ہیں رنجیدہ ہیں۔ آئے دن نفرت اور تکبر کے پرچار سے میڈیا کو اپنا دکھ سناتے ہیں۔ بے چارہ بلاول پہلے تو سابق صدر آصف علی زرداری کے زیر سایہ رہا۔ اس کو چھایا تو میسر آئی مگر اس کی سیاسی آبیاری نہ ہو سکی۔

دوسری جماعت مسلم لیگ نواز اس جنگ میں اندرون خانہ شدت سے تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ان کے خوشگوار تعلقات اپنے پرانے حریف مسلم لیگ ق کے ساتھ کسی نئے اتحاد کی بنیاد رکھتے نظر آرہے ہیں۔ ان کا جذبہ ایمانی کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ایسے میں عمران خان کو مکمل اندازہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ اس کی اس کو زیادہ فکر نہیں۔ اس سے پہلے جمہوریت کے سایہ کے نیچے دو وزیر اعظموں کو عدالت برخواست کرچکی ہے۔

Read more

پاکستان کی سیاست کے راکھیل

پاکستان کی سیاست میں ناپ تول کانظام عجیب و غریب ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ جوموجودہ اسمبلیوں میں براجمان ہیں۔ اسمبلی میں آئے دن جو مچھلی بازار نظرآتا ہے۔ اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت کواپنی زبان کا پاس نہیں ہے۔ اگر حزب اختلاف میں جو بڑے نجیب الطرفین لوگ ہیں اورووٹ کو عزتدلانے کے لیے ووٹ کی حرمت کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ان کوذرا بھی احساس نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کو ان کے جمہوری رویے سے

Read more

تمہیں خیال ذات ہے، شعور ذات ہی نہیں

اس وقت پاکستان بھی علم، عقل اور عمل کے بحران سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ 70 سالوں میں جو بھی لوگ پاکستان کے حکمران رہے ان کے پاس شور کرنے کو بہت کچھ تھا مگر شعور نہ تھا۔ جب پاکستان بنا تو یہ مسلمانوں کے شعور کی وجہ سے بنا اور اس وقت کے لوگوں کے پاس عمل تو بہت تھا مگر عقل کی کچھ کمی سی تھی اور عمل کے معاملہ میں بھی وہ یکتا نہ تھے۔ پہلے کچھ سال تو جمہوریت کا کمزور پودا ملک کا نظام چلانے کی کوشش کرتا رہا اور پاکستان سیاسی اور سماجی طور پر کمزور ہوتا گیا اور ہمارے حکمران دوسروں کے مفادات کے لئے عوام کو حقیر اور فقیر بناتے رہے اب الزام مارشل لا پر لگایا جاتا ہے کہ ایوب خان نے خود سری کی مگر ہمارے سیاسی لوگ مفادات کی جنگ میں اتنے شریک تھے کہ ملکی اداروں کو سوچنا پڑا کہ وہ ملک کو بہتر چلا سکتے ہیں، دنیا میں آزادی اور خود مختاری کے دعویدار دوست ممالک بھی اپنے مفادات کے کارن پاکستان کو خراب کرتے رہے۔ اس وقت کے عوامی نیتا ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کے نتائج پر غیر جمہوری رویہ اپنایا، اس وقت کی سیاست اور جہموریت نے پاکستان تقسیم کر دیا۔

Read more

وبا اس نظام کو بھی ختم کرتی نظر آ رہی ہے

وبا کے دن ہیں اور ہم سب کمزور ہیں، رب تعالیٰ ناراض لگتا ہے۔ لب پر درخواست اور دعا ہے۔ ”یا مولا! مجھے وہ طاقت نہ دے جس سے میں دوسروں کو کمزور کروں۔ و ہدولت نہ دے جس کی خاطر میں دوسروں کو حقیر اور غریب سمجھوں۔ وہ علم نہ دے جسے میں اپنے سینے میں چھپا کر رکھوں۔ وہ بلندی نہ دے کہ مجھے اپنے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ مجھے وہ سب کچھ دے جو میں دوسروں میں بانٹ سکوں“ ۔ یہ دعا مولانا روم سے منسوب ہے۔

Read more

عمران خان کی حکومت ختم نہ کرنے کی وجہ

اس وقت پاکستان کے سیاسی مسائل کے لئے لندن میں بھی کچھ لوگ بہت ہی مصروف ہیں۔ پاکستان معاشی طور پر عالمی اداروں کے پاس یرغمال بنا ہوا ہے۔ عمران خان نے بڑے عزم سے سوچا تھا مگر قومی مفاد کے نام پر ہمارے اہم اداروں نے عالمی معاشی اداروں کے ساتھ مل کر عمران خان کو مایوس کیا اور عمران خان کو اپنے اصولوں پر سودے بازی کرنا پڑی۔

Read more

کیا آنے والے دنوں میں عمران خان کے ساتھ کچھ ہونے والاہے؟

 پاکستان میں سیاست کا میدان جم نہیں رہا، نامعلوم اندیشے بیان کیے جارہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا اندازہے کہ تحریک انصاف کی سرکار خطرے میں ہے، ہمارے سیاسی نیتا آج کل جو بیان دے رہے ہیں ان پراعتبار کرنا مشکل لگتا ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیماری مکمل طور پر پُراسرار ہے۔ ان کی وجہ سے نواز لیگ میں کئی اور بھی بیمار ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ کوئی بھی اپنے دل کی بات بتانے کو تیارنہیں۔ ؀

Read more

سوچنے کے لئے سفر بھی اک شرط ہے

ٹوکیو میں صرف دو دن کا پڑاؤ تھا، اردو زبان کا محاورہ اونٹ کے منہ میں زیرہ، سو کچھ ایسا ہی حال اپنا تھا۔ 12 گھنٹے کی پرواز کے بعد صبح کے وقت ایئر پورٹ سے شہر کے لئے ٹیکسی لینے کا سوچا۔ ٹوکیو میں زبان اب بھی مسئلہ ہے، ایئر پورٹ پر اپنی بھاشا بولنا اور جواب میں جاپانی سننا بہت ہی اچھا لگا، دو منٹ کی گپ شپ کے بعد آخرکار انگریزی بولنے والا تیسرا بندہ نازل ہو گیا، میں نے اپنے ہوٹل کا بتایا اور ٹیکسی سروس کا پوچھا وہ جھکا اور پھر بولا: نو، نو۔ گو آن ٹرین، اٹ از گوڈ اینڈ چیپ۔ مجھے سمجھ آ گئی اور اسٹیشن کا راستہ لیا۔

Read more

جنگ اور جمہوریت

چند دن پہلے کی بات ہے شانتی دیوی نے دوردرشن سے پوچھا تھا ”کیا پا کستان میں بھی جنگی جنون ہے“ مجھے اس کی بات بالکل پسند نہ آئی بلکہ کچھ غصہ بھی آیا۔ میں سوچتا رہا کیا جواب دوں اور ایک شعر اس کی نذر کیا

یہ جو زندگی کی کتاب ہے، یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں ایک حسین سا خواب ہے، کہیں جان لیوا عذاب ہے

بس یہ ہے آج کی زندگی۔ پاکستان حالت جنگ میں تو نہیں مگر جنگ لڑنے کے لئے تیار ضرور ہے۔ ویسے تو اسلامی تاریخ جنگ و جدل سے مبرا نہیں میرے ہاں جہادِ نفس بھی جنگ ہی ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ میں تو نہیں مگر مسلمانوں کی حالیہ تاریخ میں ایک انوکھا اور عجیب سا فیصلہ سامنے آیا۔ دنیا میں زیادہ آبادی رکھنے والے دو ملک جو جمہوریت کا راگ بھی خوب الاپتے ہیں، دونوں بظاہر حالت جنگ میں ہیں ان میں پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے کئی ہزار لوگوں کی قربانی دے چکا ہے۔ اس کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو جنگ نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے کیونکہ جنگ سے جمہوریت بھی قتل ہو جاتی ہے۔

Read more

میں بروں میں لاکھ برا سہی

میں حیران تھا کہ لاہور کتنا پھیل گیا ہے۔ لاہور کی اس آبادی میں شہر کی اشرافیہ رہتی ہے۔ میرے دوست عرفان قیصر شیخ کا تعلق چنیوٹ سے ہے۔ ان کے والد اس ہی علاقہ سے حالیہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی ہیں۔ عرفان قیصر شیخ ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں۔ چیمبر آف کامرس کے صدر بھی رہ چکے ہیں اور سابق صوبیدار پنجاب میاں شہباز شریف کے قریبی حلقے کے اہم فرد تصور کیے جاتے ہیں۔ ہم دونوں کے درمیان ایک اور قدر بھی مشترکہ ہے۔ وہ بھی میرے روحانی مرشد سید سرفراز شاہ کے بہت ہی مداح ہیں۔

جب عرفان قیصر شیخ نے چند دوستوں کو ماحضر تناول پر مدعو کیا، جاتی ہوئی سردی میں بارش کافی خنکی کا باعث تھی۔ جب بارش اور لاہور کی ٹریفک کے رش میں کافی وقت گزارنے کے بعد ان کی قیام گاہ پر پہنچا تو اس وقت مجھ سے پہلے ایک اور د وست جناب رضا حیات ہراج سابق وزیر اور کامیاب کاشتکار موجود تھے۔ ان کے پاس سیاسی اور سماجی معلومات کا بڑا وسیع ذخیرہ ہے اگرچہ ان کا حلقہ ساؤتھ پنجاب میں ہے مگر وہ سنٹرل پنجاب سے جڑے نظر آتے ہیں وہ ساؤتھ پنجاب کے بھیدی بھی ہیں ان کی آج کل ساوتھ پنجاب کی سیاست پر گہری نظر ہے۔

Read more

وزیر اعظم دیر نہ ہو جائے

سرکار کو بدلے ہوئے 100 دن سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے تبدیلی کا نعرہ تنقید اور تشہیر کی زد میں ہے۔ کمال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی بھی خواہش ہے کہ کپتان عمران خان کی سرکار چلتی رہے۔ کپتان عمران خان ایک سادہ منش انسان ہے۔ اس کی زندگی بھی عجیب ہے۔ وہ اکلوتا بیٹا تھا اور اکلوتا بھائی ہے۔ اس کو تنہائی پسند ہے۔ وہ جب بھی تنہا ہوتا ہے وہ جیتنے کے لئے منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے۔ وہ کھلاڑی اور اب ایک سیاست دان بھی ہے۔

اس کی سیاست بھی عجیب ہے۔ وہ سیاسی لوگوں کی طرح وعدہ نہیں کرتا ہے اور سادگی سے اپنی رائے دے دیتا ہے۔ اس کی باتوں میں خلوص اور یقین ضرور ہوتا ہے مگر برا ہو ان سیاست دانوں کا جن کی نیت میں اکثر فتور ہی رہتا ہے۔ سیاست کی دنیا میں یہ سب کچھ ضروری ہوتا ہے۔ اس وقت جو زبان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بولی جا رہی ہے وہ نئی تو نہیں۔ ہمارے سماج میں اکثر صاحب اقتدار اورصاحب ایمان لوگ گھروں میں ایسی ہی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے اخبار، ٹی وی چینل اور اسمارٹ میڈیا پر اس زبان کا بہت چرچا ہے۔ اس زبان میں جھوٹے الزامات، غیبت اور وہم کا بہت ذکر ہوتا ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ تم کچھ نہیں کرسکتے اس کے بعد تالیاں اور شاعری۔ واہ واہ یہ ہے ہماری جمہوریت جو قابل اعتبار بھی نہیں۔

Read more

پرانے کپڑوں کا نیا بنڈل

ایک پرانی کہانی ہے شیخ چلی ایک دفعہ سڑک کے کنارے بجلی کے کھمبے کے نیچے کچھ تلاش کررہے تھے۔ کسی نے اُن سے پوچھا ”شیخ کیا تلاش کررہے ہو۔ “ انہوں نے تلاش جاری رکھی اور بولے ”بھائی میں سوئی کوڈھونڈ رہا ہوں جوگھر میں کھو گئی ہے۔ “ پوچھنے والے نے ایک بار پھر پوچھ لیا ”گھر میں گم شدہ سوئی سڑک پر کیوں ڈھونڈی جارہی ہے۔ “ شیخ چلی نے ترنت جواب دیا ”گھر میں روشنی جو نہیں۔ “ بس کچھ ایسا ہی معاملہ ہماری حاضر سرکار کا ہے۔ وہ پاکستان کو بدلنے کے لیے خوب جتن کررہے ہیں۔ کچھ کچھ بدل بھی رہا ہے۔ اب جمہوریت قومی اسمبلی میں بھرپور نظرآرہی ہے۔ جمہوریت نظام کی صورت تو کسی ملک میں نظر نہیں آتی اور اپنے ہاں تو جمہوریت تو منی کی طرح سینٹ میں بدنام ہوتی نظر آرہی ہے۔

Read more

جمہوریت۔ کھیل یا کھلواڑ

اس نے شرارتی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور سوال کیا۔ پاکستان کا آج کل مقبول اور مشہور کھیل کون سا ہے۔ میں نے غور سے اس کے چہر ے کو دیکھا۔ وہ پھر مسکرائی اور اپنے سوال کو دہرایا۔ مجھے ایک لمحہ کو غصہ بھی آیا مگر میں نے اظہار نہیں کیا۔ میں مسلسل سوچے جارہا تھا پاکستان میں کھیل تو کوئی بھی مشہور اور مقبول نہیں۔ کھلواڑ ضرور ہورہا ہے یا پھر لوگ اپنی اپنی مرضی کا کھیل کھیلنے

Read more

آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اوتار بھی

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ تاریخ ساز فیصلے کررہی ہے۔ ان فیصلوں پر عوام کا ردِعمل زیادہ تو سامنے نہیں آیا مگرجہاں بھی چیف جسٹس جاتے ہیں، قانون اور انصاف سے محروم لوگ اپنی داستانِ غم سنانے آجاتے ہیں اور ایسے میں اردو کا مشہور زمانہ محاور ہ حالات کی تفسیر بیان کرتا ہے ”ایک انار سو بیمار“۔ انار کئی بیماریوں کا شفائی علاج ہے اور کچھ ایسی ہی کیفیت ہمارے ہاں ہے۔ انصاف اور قانون کی فراہمی کے لیے چیف

Read more

وزیراعظم عمران خان کچھ نہ کچھ کرکے دکھاؤ

عجیب صورت حال ہے۔ پانی کا بحران نظر آرہا ہے۔ اس معاملہ پر کچھ عرصہ سے آواز اٹھائی جارہی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد اس خطہ میں پانی کی تقسیم پر کچھ معاہدے بھی ہوئے۔ پاک و ہند کے دونوں ممالک نے پانی کی اہمیت کے مدنظر ڈیم بنانے شروع کیے۔ بھارت نے اپنے دریاؤں پر بڑی منصوبہ بندی سے پانی کاذخیرہ کرنے کے لیے کافی ڈیم بنائے اور پاکستان ان سے لاتعلق ہی رہا۔ سندھ طاس معاہدے کے دونوں

Read more

عمران خان، یہ جنگ ہے اس جنگ میں طاقت لگائیے

تحریک انصاف آج کل بہت ہی بچت کرتی نظر آرہی ہے۔ بچت کا فلسفہ کیا ہے۔ بچت اصل میں اضافی آمدنی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اصل مسئلہ آمدنی ہے۔ دوسری طرف اخراجات کی کوئی انتہا نہیں۔ ابھی تک بچت کا معاملہ مکمل طور پر اخراجات کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔ کپتان عمران خان اپنی نجی زندگی میں بہت بچت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ فعل سب کے لئے قابل عمل بھی ہے۔ ہمارے سابق وزیر اعظم نواز شریف

Read more

عمران خان کے خلاف جادو ٹونے کا استعمال

کیا کتابیں زندگی بدل دیتی ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سارے کام ہم کتابوں کے مطابق کرتے ہیں۔ پاکستان کا دستور ہرپاکستانی کے لیے اہم اور اس کو قانونی اور اصولی تحفظ مہیا کرتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے اس دستور کو سب سے زیادہ ہمارے حکمران نظر انداز کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انتخابات کے بعد حکمرانوں کی تبدیلی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے اپنی 22 سالہ ریاضت کے نتیجہ میں پونے دو کروڑ

Read more

راستے نہیں، راہبر بچاتے ہیں

مجھے جمہوریت کا حسن خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور کے بیان سے معلوم ہوا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی شکست تسلیم کی اور کمال جرأت سے انتخابات 2018 کو شفاف بھی کہا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے مقابلہ خوب کیا۔ اس دفعہ انتخابات میں عوام کا جوش جذبہ خوب نظر آیا۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ میں تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت ہے جو کسی انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں دوسری دفعہ بھی اکثریت سے کامیاب

Read more

انتخابات سے قبل، حوصلے کی کمی

آج سے کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں انتخابات ہو رہے تھے۔ میں بھی ان انتخابات میں ایک مبصر کی حیثیت سے امریکہ گیا ہوا تھا۔ انتخابات سے ہفتہ دس دن پہلے رائے عامہ کے تمام اندازے ٹرمپ کے بارے میں منفی اشارے دیتے نظر آتے تھے اور وہاں کے میڈیا اور چینل زیادہ حمایت مسز کلنٹن کی کرتے نظر آتے تھے مگر سوشل میڈیا پر زور ٹرمپ کا نظر آتا تھا اور دو تین ریاستوں میں جانے کا موقع بھی

Read more

کتنے آسان ہیں جال پھیلانے

کراچی سے ایک دوست کا فون آیا وہ مجھ سے پوچھنے لگے آپ کے صوبہ کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ انتخابی مہم جوئی کا آغاز کراچی سے کریں۔ سابق صوبے دار صاحب بہادر کراچی میں خواص کی حیثیت سے آئے، مزار قائد پر حاضری بھی رسمی سی لگی۔ کاش وہ عوام میں آتے اور دعوے کرتے۔ انہوں نے کراچی کے عوام کو مکمل طور پر مایوس کیا۔ ان کو عبوری حکومت

Read more

کانچ جیسی کتابوں کا ذکر

میرا سوال تھا کتاب مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ وطن سے دور کینیڈا کے شہر ملٹن میں دوستوں اور مہربانوں کی منڈلی میں میرا سوال کچھ لوگوں اور دوستوں کے لئے حیران کن تھا۔ اصل میں افطاری کے بعد یہ نشست جمی تھی۔ میرے ایک مہربان کا سوال جنرل(ر) اسد درانی کی حالیہ کتاب کے بارے میں تھا۔ ان کا سوال تھا’’جنرل اسد درانی کو ایسی کتاب کیوں لکھنی پڑی‘‘۔ میں نے سب لوگوں سے پوچھا اور سوال کیا’’کتاب مشکل

Read more

کبھی ٹوٹ جاتے ہیں کبھی توڑ دیئے جاتے ہیں

میں نے فضائی میزبان سے پوچھا، جہاز کتنی دیر تک اڑان بھرے گا۔ اس کا کہنا تھا جہاز کے دم والے حصہ میں جو کچن ہے اس میں خرابی کا معلوم ہوا ہے اور عملہ اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہماری پرواز آدھا گھنٹہ کی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ ایک دفعہ پھر سفر وسیلہ ظفر ہے۔ منزل دور درشن 14گھنٹے کی دوری پر ہے۔ اک زمانہ کی بات ہے جب میں کچھ عرصہ کے لئے اقوام متحدہ

Read more

سیاسی بساط، قانون اور ہوا کا رُخ

حالیہ دنوں میں پاکستانی بری افواج کے کمان دار جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایک تصویر اخباروں کی زینت بنی ہے جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ ایک پاکستانی طالبہ کے ساتھ شطرنج کھیلتے نظر آرہے ہیں۔ آج کل ہماری افواج کا شعبہ تعلقات عامہ رابطہ کے حوالہ سے خاصا سرگرم عمل ہے۔ پاکستانی سکولوں کے طالب علم جی ایچ کیو میں جاکر افواج کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ اس تصویر میں جنرل صاحب کوئی چال چلتے نظر

Read more

دل گرفتہ ہیں جگر خون ہوئے جاتے ہیں

سنا ہے ہوا چل پڑی ہے۔ وطن عزیز اس وقت شدید سیاسی حبس سے دو چار ہے۔ملک بھر کی سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کی تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ مسلم لیگ حکمران جماعت ہے وہ اگلے سال کے بجٹ کو اس ہی اسمبلی کے سامنے رکھنے جا رہی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اگلے سال کی ترقیاتی رقوم کا فیصلہ بھی خود ہی کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ حضرات کو اتفاق

Read more