سوچنے کے لئے سفر بھی اک شرط ہے

ٹوکیو میں صرف دو دن کا پڑاؤ تھا، اردو زبان کا محاورہ اونٹ کے منہ میں زیرہ، سو کچھ ایسا ہی حال اپنا تھا۔ 12 گھنٹے کی پرواز کے بعد صبح کے وقت ایئر پورٹ سے شہر کے لئے ٹیکسی لینے کا سوچا۔ ٹوکیو میں زبان اب بھی مسئلہ ہے، ایئر پورٹ پر اپنی بھاشا بولنا اور جواب میں جاپانی سننا بہت ہی اچھا لگا، دو منٹ کی گپ شپ کے بعد آخرکار انگریزی بولنے والا تیسرا بندہ نازل ہو گیا، میں نے اپنے ہوٹل کا بتایا اور ٹیکسی سروس کا پوچھا وہ جھکا اور پھر بولا: نو، نو۔ گو آن ٹرین، اٹ از گوڈ اینڈ چیپ۔ مجھے سمجھ آ گئی اور اسٹیشن کا راستہ لیا۔

Read more

جنگ اور جمہوریت

چند دن پہلے کی بات ہے شانتی دیوی نے دوردرشن سے پوچھا تھا ”کیا پا کستان میں بھی جنگی جنون ہے“ مجھے اس کی بات بالکل پسند نہ آئی بلکہ کچھ غصہ بھی آیا۔ میں سوچتا رہا کیا جواب دوں اور ایک شعر اس کی نذر کیا

یہ جو زندگی کی کتاب ہے، یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں ایک حسین سا خواب ہے، کہیں جان لیوا عذاب ہے

بس یہ ہے آج کی زندگی۔ پاکستان حالت جنگ میں تو نہیں مگر جنگ لڑنے کے لئے تیار ضرور ہے۔ ویسے تو اسلامی تاریخ جنگ و جدل سے مبرا نہیں میرے ہاں جہادِ نفس بھی جنگ ہی ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ میں تو نہیں مگر مسلمانوں کی حالیہ تاریخ میں ایک انوکھا اور عجیب سا فیصلہ سامنے آیا۔ دنیا میں زیادہ آبادی رکھنے والے دو ملک جو جمہوریت کا راگ بھی خوب الاپتے ہیں، دونوں بظاہر حالت جنگ میں ہیں ان میں پاکستان کئی سالوں سے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے کئی ہزار لوگوں کی قربانی دے چکا ہے۔ اس کے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو جنگ نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے کیونکہ جنگ سے جمہوریت بھی قتل ہو جاتی ہے۔

Read more

میں بروں میں لاکھ برا سہی

میں حیران تھا کہ لاہور کتنا پھیل گیا ہے۔ لاہور کی اس آبادی میں شہر کی اشرافیہ رہتی ہے۔ میرے دوست عرفان قیصر شیخ کا تعلق چنیوٹ سے ہے۔ ان کے والد اس ہی علاقہ سے حالیہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی ہیں۔ عرفان قیصر شیخ ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں۔ چیمبر آف کامرس کے صدر بھی رہ چکے ہیں اور سابق صوبیدار پنجاب میاں شہباز شریف کے قریبی حلقے کے اہم فرد تصور کیے جاتے ہیں۔ ہم دونوں کے درمیان ایک اور قدر بھی مشترکہ ہے۔ وہ بھی میرے روحانی مرشد سید سرفراز شاہ کے بہت ہی مداح ہیں۔

جب عرفان قیصر شیخ نے چند دوستوں کو ماحضر تناول پر مدعو کیا، جاتی ہوئی سردی میں بارش کافی خنکی کا باعث تھی۔ جب بارش اور لاہور کی ٹریفک کے رش میں کافی وقت گزارنے کے بعد ان کی قیام گاہ پر پہنچا تو اس وقت مجھ سے پہلے ایک اور د وست جناب رضا حیات ہراج سابق وزیر اور کامیاب کاشتکار موجود تھے۔ ان کے پاس سیاسی اور سماجی معلومات کا بڑا وسیع ذخیرہ ہے اگرچہ ان کا حلقہ ساؤتھ پنجاب میں ہے مگر وہ سنٹرل پنجاب سے جڑے نظر آتے ہیں وہ ساؤتھ پنجاب کے بھیدی بھی ہیں ان کی آج کل ساوتھ پنجاب کی سیاست پر گہری نظر ہے۔

Read more

وزیر اعظم دیر نہ ہو جائے

سرکار کو بدلے ہوئے 100 دن سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے تبدیلی کا نعرہ تنقید اور تشہیر کی زد میں ہے۔ کمال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی بھی خواہش ہے کہ کپتان عمران خان کی سرکار چلتی رہے۔ کپتان عمران خان ایک سادہ منش انسان ہے۔ اس کی زندگی بھی عجیب ہے۔ وہ اکلوتا بیٹا تھا اور اکلوتا بھائی ہے۔ اس کو تنہائی پسند ہے۔ وہ جب بھی تنہا ہوتا ہے وہ جیتنے کے لئے منصوبہ بندی کرتا رہتا ہے۔ وہ کھلاڑی اور اب ایک سیاست دان بھی ہے۔

اس کی سیاست بھی عجیب ہے۔ وہ سیاسی لوگوں کی طرح وعدہ نہیں کرتا ہے اور سادگی سے اپنی رائے دے دیتا ہے۔ اس کی باتوں میں خلوص اور یقین ضرور ہوتا ہے مگر برا ہو ان سیاست دانوں کا جن کی نیت میں اکثر فتور ہی رہتا ہے۔ سیاست کی دنیا میں یہ سب کچھ ضروری ہوتا ہے۔ اس وقت جو زبان قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بولی جا رہی ہے وہ نئی تو نہیں۔ ہمارے سماج میں اکثر صاحب اقتدار اورصاحب ایمان لوگ گھروں میں ایسی ہی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے اخبار، ٹی وی چینل اور اسمارٹ میڈیا پر اس زبان کا بہت چرچا ہے۔ اس زبان میں جھوٹے الزامات، غیبت اور وہم کا بہت ذکر ہوتا ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ تم کچھ نہیں کرسکتے اس کے بعد تالیاں اور شاعری۔ واہ واہ یہ ہے ہماری جمہوریت جو قابل اعتبار بھی نہیں۔

Read more

پرانے کپڑوں کا نیا بنڈل

ایک پرانی کہانی ہے شیخ چلی ایک دفعہ سڑک کے کنارے بجلی کے کھمبے کے نیچے کچھ تلاش کررہے تھے۔ کسی نے اُن سے پوچھا ”شیخ کیا تلاش کررہے ہو۔ “ انہوں نے تلاش جاری رکھی اور بولے ”بھائی میں سوئی کوڈھونڈ رہا ہوں جوگھر میں کھو گئی ہے۔ “ پوچھنے والے نے ایک بار پھر پوچھ لیا ”گھر میں گم شدہ سوئی سڑک پر کیوں ڈھونڈی جارہی ہے۔ “ شیخ چلی نے ترنت جواب دیا ”گھر میں روشنی جو نہیں۔ “ بس کچھ ایسا ہی معاملہ ہماری حاضر سرکار کا ہے۔ وہ پاکستان کو بدلنے کے لیے خوب جتن کررہے ہیں۔ کچھ کچھ بدل بھی رہا ہے۔ اب جمہوریت قومی اسمبلی میں بھرپور نظرآرہی ہے۔ جمہوریت نظام کی صورت تو کسی ملک میں نظر نہیں آتی اور اپنے ہاں تو جمہوریت تو منی کی طرح سینٹ میں بدنام ہوتی نظر آرہی ہے۔

Read more

جمہوریت۔ کھیل یا کھلواڑ

اس نے شرارتی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور سوال کیا۔ پاکستان کا آج کل مقبول اور مشہور کھیل کون سا ہے۔ میں نے غور سے اس کے چہر ے کو دیکھا۔ وہ پھر مسکرائی اور اپنے سوال کو دہرایا۔ مجھے ایک لمحہ کو غصہ بھی آیا مگر میں نے اظہار نہیں کیا۔ میں مسلسل سوچے…

Read more

آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اوتار بھی

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ تاریخ ساز فیصلے کررہی ہے۔ ان فیصلوں پر عوام کا ردِعمل زیادہ تو سامنے نہیں آیا مگرجہاں بھی چیف جسٹس جاتے ہیں، قانون اور انصاف سے محروم لوگ اپنی داستانِ غم سنانے آجاتے ہیں اور ایسے میں اردو کا مشہور زمانہ محاور ہ حالات کی تفسیر بیان کرتا ہے ”ایک انار…

Read more

وزیراعظم عمران خان کچھ نہ کچھ کرکے دکھاؤ

عجیب صورت حال ہے۔ پانی کا بحران نظر آرہا ہے۔ اس معاملہ پر کچھ عرصہ سے آواز اٹھائی جارہی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد اس خطہ میں پانی کی تقسیم پر کچھ معاہدے بھی ہوئے۔ پاک و ہند کے دونوں ممالک نے پانی کی اہمیت کے مدنظر ڈیم بنانے شروع کیے۔ بھارت نے اپنے دریاؤں…

Read more

عمران خان، یہ جنگ ہے اس جنگ میں طاقت لگائیے

تحریک انصاف آج کل بہت ہی بچت کرتی نظر آرہی ہے۔ بچت کا فلسفہ کیا ہے۔ بچت اصل میں اضافی آمدنی ہوتی ہے۔ پاکستان میں اصل مسئلہ آمدنی ہے۔ دوسری طرف اخراجات کی کوئی انتہا نہیں۔ ابھی تک بچت کا معاملہ مکمل طور پر اخراجات کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔ کپتان عمران خان اپنی نجی…

Read more

عمران خان کے خلاف جادو ٹونے کا استعمال

کیا کتابیں زندگی بدل دیتی ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سارے کام ہم کتابوں کے مطابق کرتے ہیں۔ پاکستان کا دستور ہرپاکستانی کے لیے اہم اور اس کو قانونی اور اصولی تحفظ مہیا کرتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے اس دستور کو سب سے زیادہ ہمارے حکمران نظر انداز کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں…

Read more