لوگ ملک کیوں چھوڑ جاتے ہیں؟


مملکت خداداد بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ یہاں معدنیات ہیں، کھیتی ہے، کاروبار ہے مگر جس پہ بیتے وہ جانے۔ جو کسانوں سے احوال جانا جائے تو معلوم ہوتا ہے صدمات کا سمندر ہے۔ فصل کبھی ماحولیاتی تبدیلیوں کی نذر ہو جاتی ہے تو کبھی حکومتی کارندوں یا خلائی مخلوق کی۔ جو ان سب مصائب سے بچ بچا کے زندہ رہ لے تو چور بھرے ٹرک لوٹ لے جاتے ہیں۔ جو کاروباری حضرات سے جانا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انکم ٹیکس سیلز ٹیکس کے علاوہ بہت سے ٹیکسوں نے جان کھا رکھی ہے۔ انہیں بچتے بچاتے کسی طور جو منافع ہو ہی جائے تو قسمت مارے بجلی کے بل لے ڈوبتے ہیں، لیکن ان سب سے بھی بچ لیں تو بیگمات کی حق بجانب فرمائشیں اور بچوں کی ضروریات سے بچت نہیں ہو پاتی۔ تمام کاروباری افراد کا ایک فیصد ایسا ہے جو کامیاب ہے اور اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے اور اس ایک فیصد میں بڑی تعداد ان گھرانوں کی ہے جو پاکستان بننے سے پہلے کاروباری مصروفیات سے جڑے تھے۔

سوال اٹھتا ہے ان مزدور حضرات کا کیا جنہیں ہم مڈل کلاس کہتے ہیں۔ جو تنخواہ دار طبقہ ہے۔ جن کی تنخواہ مہینے کی 3 تاریخ ان کے تنخواہ والے اکاوٴنٹ میں آتی ہے اور دس تاریخ کو اْڑن چھو ہو جاتی ہے، باقی وقت کا خرچ ادھار اور دال روٹی پہ گزرتا ہے۔ یہ والا ماحول تو قریب پورے پاکستان میں ہی چل رہا ہے۔ اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ مہینے کے آخری ہفتے میں ادھار دینے والے دوست بھی ادھار دینے کے قابل نہیں رہتے۔ عموماً ادھار دینے والے دوست بھی تنخواہ دار طبقہ ہی ہوتا ہے مگر ان طبقے کو تنخواہ مہینے کی گیارہ تاریخ کو نصیب ہوتی ہے۔ اور یہ بھی مہینے کے آخری ہفتے میں ایک مٹھی چاول اور ایک مٹھی دال پہ گزارا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے میں ہر تنخواہ دار چنے چباتا دماغ سوچتا ہے کہ اس چکر سے کب نکلیں گے؟ کیسے نکلیں گے؟ کیا ہے مستقبل؟ کیا ہمیں یہ ملک چھوڑ دینا چاہیے؟ اور اس خیال کے چلتے کچھ لوگ سچ میں ملک چھوڑ جانے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ جہلم شہر اور اس سے ملحق گاوٴں، میرپور، بھمبھر، باغ، ڈھڈھیال، ڈومیلی، سوہاوہ، چکوال، منڈی بہائوالدین، کھاریاں، گجرات یہ شہر مشہور ہیں کہ یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، یا فوج میں ہیں یا پھر کسی نہ کسی طرح ملک کو چھوڑ کو کسی اور دیس میں گھر والوں کی روٹی کے انتظام کے لیے پناہ لیتے ہیں؟

یہ افراد ایسا کرنے پہ مجبور اس لیے ہیں کیونکہ یہاں نوکری کے اوّل تو مواقع نہیں ہیں اور جو گنے چنے ہیں وہ آبادی کے 2 فیصد حصے کو حصہ دار بناتے ہیں، لیبر لاء کے یکسر مختلف ماحول فراہم کرتے ہیں اور خواتین کے لیے شدید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ لیکن خواتین کے مسائل اپنی جگہ، مرد حضرات جن کے کندھوں میں خاندان کی کفالت کا ذمہ ہے وہ ایم فل پی ایچ ڈی کر کے اپنی ڈگریوں کو سائیڈ پر رکھ کر معاشی مواقع کی تلاش میں آخر کار ملک چھوڑ رہے ہیں۔

بہت سے لوگ ملک چھوڑ جانے کے لیے زمین کا ٹکڑا جسے بطور سیونگ سنبھال رکھا تھا، بیچ ڈالتے ہیں، جن کے پاس یہ سہولت نہیں ہے وہ ادھار رقم مارکیٹ سے کسی بھی شرط پہ اٹھاتے ہیں۔ اس رقم کے ذریعے وہ یا تو سیدھا سیدھا طریقہ اختیار کیے ویزا لیتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں یا دوسرا رستہ ہے ڈنکی۔ ڈنکی ایک عام اصطلاح ہے جہلم میرپور اور گجرات کے عوام کے لیے۔ ڈنکی وہ خطرناک رستہ ہے جسے وہ لوگ اپناتے ہیں جنہیں اور کوئی رستہ سجھائی نہیں دیتا۔ جانے کتنوں نے جانیں گنوا دیں ڈنکی جیسے خطرناک رستے سے ولایت جانے کے لیے۔

بات بڑی سادہ ہے۔ اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں، انہوں نے پنجاب سے مراد لاہور کے چند محلے لیے، وہیں کام کیا۔ ایک اہم کام کرنا ہمیشہ سے بھول جاتے رہے ہیں۔ 34 برس سے ملک کو نازک موڑ دیکھتے ہوئے زندگی گزر رہی ہے۔ مان لیتے ہیں میرا تعلق ایسے شعبے سے ہے جہاں چھوٹی سی کمیونٹی ہے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ مگر یہ تو میری شاید ذاتی زندگی سے جڑا فسانہ ہے۔ ان لوگوں کا کیا جو پوری محنت کرتے ہیں اور بخشش میں چند کھوٹے سکے پاتے ہیں جو نہ تو ٹھیک سے پیٹ بھر سکے ہیں نہ کوئی اور ضرورت پوری کر سکے ہے۔ اور یہ گرداب کون توڑے گا؟ کب تک لوگ مواقع کی تلاش میں باہر جاتے رہیں گے اور وہیں بیٹھ رہیں گے؟ وہ نازک موڑ جس پہ پاکستان جانے کب سے بس کھڑا ہے کب اس نازک موڑ سے نجات ملے گی؟ اور کب پاکستان کی دنیا بدلے گی؟ آج کا اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بدلاوٴ ہم دیکھ سکیں گے؟

Facebook Comments HS