تھرپارکر کے جین مندر: سندھ کی قدیم تہذیب کی داستان


سندھ میں تھرپارکر ہی جین دھرم کا تعارف کرواتا ہے۔

پاکستان میں واقع سندھ، تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ایک منفرد مثال ہے۔ یہ سرزمین نہ صرف اپنی قدیم تہذیبوں کی بدولت مشہور ہے بلکہ یہاں موجود مختلف مذاہب کے آثار اور عمارتیں بھی اس کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ انہی میں سے ایک جین دھرم کے قدیم مندر ہیں جو اپنے منفرد طرز تعمیر اور فن سنگتراشی کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔

جین دھرم، جس کی بنیاد تقریباً چھ سو سال قبل مسیح میں مہاویر نامی بزرگ نے رکھی، اپنے عدم تشدد اور سادگی کے اصولوں کے لیے معروف ہے۔ اس قدیمی مذہب کے پیروکاروں نے اپنے مذہبی اعتقادات کے اظہار کے لیے جو عمارتیں تعمیر کیں، وہ آج بھی اپنی قدامت اور ہنرمندی کی مثال بنی ہوئی ہیں۔

تھرپارکر کا ضلع، جو سندھ کے جنوب مشرق میں واقع ہے، جین دھرم کے ان قدیمی مندروں کا مرکز ہے۔ مٹھی سے تقریباً سوا سو کلومیٹر دور گوڑی، ویرا واہ، بھوڈیسر اور ننگر پارکر میں موجود یہ مندر نہ صرف اپنی قدیم تاریخ کی گواہی دیتے ہیں بلکہ ان پر بنی مورتیاں اور نقش نگاری اس دور کے فن اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہیں

یہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے درمیان تعمیر کیے گئے تھے، جب جین کمیونٹی نے تجارت میں بے پناہ ترقی کی اور اپنی خوشحالی کا اظہار ان عظیم الشان مندروں کی تعمیر میں کیا۔ یہ عمارتیں نہ صرف مذہبی عقیدے کی علامت ہیں بلکہ ان پر کی گئی سنگتراشی اور نقش نگاری اس وقت کی ہنرمندی کا اعلیٰ نمونہ ہیں، جو آج کے دور میں شاید ہی دیکھنے کو ملتی ہوں۔

گوڑی کے علاقے میں جین دھرم کے دور کا ایک قدیم قبرستان بھی موجود ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ ایک وقت میں جین کمیونٹی کا اہم مرکز تھا۔

اگرچہ سندھ کی وزارت ثقافت و سیاحت اور انڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ فار ریسٹوریشن آف ہیریٹج نے ان مندروں کے تحفظ کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن تھرپارکر کے مقامی لوگ اور تاریخ دان چاہتے ہیں کہ ان مندروں کو مزید فروغ دیا جائے اور انہیں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان مندروں کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کر کے نہ صرف سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کی ثقافتی پہچان کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کروایا جا سکتا ہے۔

تھرپارکر کے جین مندر سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہیں۔ ان کا تحفظ اور فروغ نہ صرف اس خطے کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گا بلکہ یہ پاکستان میں سیاحت کو بھی نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS