پاکستان سے رشتہ کیا
53 سال قبل جس سرزمین پر پاکستان کا پرچم سرنگوں ہو گیا تھا اور پاکستان کا نام لینا ’’غداری‘‘ کے زمرے میں آتا ہو آج ایک بار پھر اس کی فضاؤں میں ’’پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا ﷲ‘‘ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی شیخ مجیب الرحمٰن جسے ’’ بنگلہ بندھو‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا بنگالیوں نے اسی بابائے بنگلہ دیش کا نام و نشان مٹا دیا جس نے 53 سال قبل انہیں آزادی دلوائی تھی نصف صدی سے زائد عرصہ ہی گذرنے پایا تھا اس کے مجسموں کو اکھاڑ کر پھینک دیا اس طرح کے واقعات بہت کم ملکوں میں دیکھنے میں آئے ہیں جہاں ملک کی بنیاد رکھنے والوں کا وجود ہی ختم کر دیا گیا بھارت کی عسکری قوت سے پاکستان دو لخت ہوا تو اندرا گاندھی نے طنزیہ انداز میں ’’دو قومی نظریہ‘‘ کے ختم ہونے کی پھبتی کسی تھی آج سونار بنگلہ کی فضائیں دو قومی نظریہ کے زندہ ہونے کی تصدیق کر رہی تھیں۔
5ا اگست 2024ء کو 300 سے زائد بنگالیوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی حسینہ واجد کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا اسے حسن اتفاق کہیں یا کچھ اور شیخ مجیب الرحمٰن 55 سال کی عمر میں 15اگست1975ء کو اپنی ہی فوج کے افسران کے ہاتھوں مارے گئے اب ان کی صاحبزادی حسینہ واجد کا 16سالہ اقتدار فوج نے ختم کر دیا بظاہر حسینہ واجد عوام کے ووٹ سے برسراقتدار آئیں لیکن اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے تمام آمرانہ اور فاشسٹ ہتھکنڈے استعمال کئے پاکستان کو دولخت کرنے کی راہ میں حائل ہونے والے محب وطن پاکستانیوں کو چن چن کر تختہ دار پر لٹکاتی رہیں جماعت اسلامی ، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت ہر اس جماعت پر پابندی عائد کردی جو اس کی فاشسٹ حکومت کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اس کی قیادت کو جیل میں ڈال دیا یا پھر سزائے موت دے دی حسینہ واجد کو نہ صرف فوج اور عدلیہ کی حمایت حاصل رہی بلکہ بھارت کی مکمل آشیر باد حاصل تھی بھارتی ہائی کمشنر "وائسرائے بنگلہ دیش” بن کر ہندوستان کی ایک کالونی کے طور پرحکمرانی کر رہا تھا۔
گو بنگلہ دیش ایک آزاد ملک ہے لیکن نصف صدی سے بھارت کے محکوم ملک کی حیثیت سے ہر معاملہ پر رہنمائی کے لئے دہلی سرکار کی طرف دیکھ رہا تھا مجھے مارچ 1994ء میں سارک ممالک کے پریس کلبز کی کانفرنس منعقدہ ڈھاکا میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب جو اب نیشنل پریس کلب کہلاتا ہے کے صدر کی حیثیت سے شرکت کرنے کا موقع ملا ہے اگرچہ اس وقت خالدہ ضیاء کی حکومت تھی لیکن 30 سال قبل بھارت کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کو 6 شوگر پلانٹس فروخت کرنا چاہتا تھا جس میں سے 2 پلانٹس گفٹ کے طور پر دینے کی پیشکش کی لیکن بھارت کا اتنا اثر و رسوخ تھا کہ اس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ڈیل نہیں ہونے دی ۔
میں کم و بیش ایک ہفتہ تک بنگلہ دیش رہا اس دوران میں نے پروفیسر غلام اعظم ، صلاح الدین چوہدری اور کرنل فاروق سمیت ان بنگالیوں سے ملاقاتیں کیں جنہوں نے سقوط ڈھاکہ کے وقت متحدہ پاکستان کی حامی قوتوں کا ساتھ دیا تھا۔ میں نے البدر اور الشمس کی باقیات سے بھی ملاقاتیں کیں، شیخ مجیب الرحمٰن کی ہلاکت کے بعد بننے والے صدر مشتاق کھنڈکر سے بات ہوئی، ڈھاکہ یونیورسٹی دیکھنے کا موقع ملا عوامی لیگ نے اس یونیورسٹی میں بنگالی دانشوروں کے قتل عام کا الزام عائد کیا، پلٹن میدان جانا ہوا جس کی جگہ اب پلازے بن گئے ہیں، چھاؤنی میں مقیم کرنل فاروق سے ملاقات کی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے انہوں نے شیخ مجیب کی حکومت کا تختہ الٹتے وقت شیخ مجیب الرحمٰن کو گولی ماری تھی کرنل فاروق جو کاکول کے تربیت یافتہ تھے نے ایک بار میری دعوت پر راولپنڈی اسلام آباد میں میٹ دی پریس پروگرام میں شرکت کی تھی کبھی شیخ مجیب الرحمٰن کو مارنے کا اعتراف نہیں کیا ان کو حسینہ واجد نے تختہ دار پر لٹکا دیا اسی طرح حسینہ واجد نے صلاح الدین چوہدری اور ملا قادر سمیت متعدد بنگالیوں کو پاکستان سے محبت کے جرم میں تختہ دار پر لٹکا دیا میں نے بنگال میں پاکستان کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو مجھے جگہ جگہ جہاں پاکستان سے محبت کرنے والوں سے بات چیت کرنے کا موقع ملا وہاں 1971ء میں پیش آنے واقعات میں زخمی دل بھی ملے جنہوں نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ۔
میں نے یہ بات محسوس کی کہ 1971ء میں کی جانے والی زیادتیوں کے باوجود بنگلہ دیش میں ’’پاکستانیوں ‘‘ کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں میں نے ایسے بنگالیوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن کے دلوں میں 1971ء کو پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے پاکستان کے لئے کوئی محبت نہ تھی۔ میں نے 30 سال قبل بھی بنگالیوں میں بھارت مخالف جذبات کو دیکھا تھا حسینہ واجد تین پارلیمان میں قائد حزب اختلاف اور چار بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں ان کا اقتدار 16 سالوں پر محیط ہے بر صغیر پاک و ہند میں طویل عرصہ تک بر سر اقتدار رہنے کا ریکارڈ قائم کرنے والی خاتون کا اقتدار 45منٹ کے فوج کے سربراہ کے نوٹس پر ختم ہو گیا اور وہ فوجی ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر بھارت فرار ہو گئیں پارلیمنٹ تحلیل ہو گئی ہے عبوری حکومت بھی قائم ہو گئی ہے اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیاء سمیت ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کر دیا گیا ہے جنہیں حسینہ واجد کے حکم پر پابند سلاسل کیا گیا تھا حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں طلبا تحریک کا کلیدی کردار ہے طلبہ تحریک کی قیادت کی کال پر لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ طلباء تحریک کی کال پر لاکھوں افراد کے ڈھاکا کی طرف احتجاجی مارچ کے نتیجے میں حسینہ واجد کو عجلت میں وزیر اعظم ہاؤس سے فرار ہونا پڑا جسے بنگالی نوجوانوں نے مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا ۔
شیخ مجیب الرحمٰن میوزیم پر دھاوا بول دیا ، بنگلہ دیش کے بانی کا قد آدم مجسمہ توڑ دیا اور عوامی لیگ کا دفتر جلا دیا ۔بظاہر طلبہ کی یہ تحریک کوٹہ سسٹم کے خلاف تھی جس میں ’’مکتی باہنی‘‘ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے لئے سرکاری ملازمتوں میں 50 فیصد تک کوٹہ مقرر کیا گیا حسینہ واجد اس غیر منصفانہ کوٹہ کی مخالفت کرنے والوں کو طنزیہ ’’رضا کار‘‘ کہتی تھیں ان کی 14 جولائی 2024 کی اس تقریر نے پورے ملک میں آگ لگا دی جس میں انہوں نے ایجی ٹیشن کرنے والوں کو ’’رضا کار‘‘ کا نام دیا تھا۔
پھر ان ہی’’رضا کاروں‘‘ نے حسینہ واجد سے ان کا تخت چھین لیا جو ان کے والد نے پاکستان کی مسلح افواج سے لڑتے ہوئے بنایا تھا بنگالی زبان میں ’’رضا کار‘‘ اس کو کہا جاتا ہے جس نے 1971 کی جنگ میں بنگلہ دیش کی مملکت سے غداری کی اور پاکستان کی مسلح افواج سے البدر اور الشمس کے پلیٹ فارم سے تعاون کیا اور پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ایجی ٹیشن نے جولائی کے مہینے میں شدت اختیار کر لی گلی گلی کوچے کوچے میں نوجوان طلبہ و طالبات کی زبان پر ایک ہی نعرہ ان کی شناخت بن گیا’’تم کون رضا کار، ہم کون رضا کار، ہم سب رضاکار، رضا کار زندہ باد۔
یہ وہ نعرہ ہے جو پورے بنگلہ دیش میں گونج رہا ہے 30 لاکھ بے روز گار بنگالی نوجوانوں نے حسینہ واجد کو نہ صرف وزارت عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا بلکہ ملک چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیا انہیں الوداعی تقریر تک کرنے کا موقع نہیں ملا ۔بظاہر یہ ایجی ٹیشن سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ کے خلاف تھی در حقیقت وہ لاوہ اچانک پھٹ پڑا جو بھارت نواز حکومت کے خلاف سالہا سال سے پک رہا تھا اس میں جہاں شیخ مجیب الرحمٰن کے خاندان کے خلاف نفرت کا اظہار تھا وہاں بھارت کی حکمرانی (عوامی لیگ کی حکومت) کے خلاف اعلان بغاوت بھی ہے (جاری ہے )


