افضل علی امان: ایک اور عہد تاریخ ہوا
ریاست چترال کے دور میں جب دو نوجوان، فرنگی لباس میں ملبوس، چترال میں داخل ہوئے تو ہر کوئی مہتر چترال تک یہ پیغام پہنچانے میں مصروف ہو گیا کہ چترال میں فرنگی لباس پہنے دو جوان داخل ہوئے ہیں، جو کسی بھی طور چترالی نہیں لگ رہے ہیں۔ ان کے لباس میں پینٹ شرٹ شامل تھی۔ مہتر چترال نے فوراً اپنے کارندوں کو ان کا پیچھا کرنے کے لیے بھیجا۔ ان جوانوں کو مہتر کے دربار میں پیش کیا گیا۔ مہتر چترال کی حیرانی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ دونوں جوان فرنگی لباس میں ملبوس ہیں اور بڑے اطمینان اور تحمل سے مہتر چترال کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں۔ ان دو جوانوں میں سے ایک فوراً مہتر چترال کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا جبکہ دوسرا جوان خاموشی سے کھڑا یہ ساری گفتگو سن رہا تھا۔ مہتر چترال نے نظر اٹھا کر اس خاموش کھڑے نوجوان کی طرف دیکھا اور کہا، ”آپ کیوں نہیں بولتے، خاموش کیوں ہو؟“ تو اس کے جواب میں سامنے کھڑے خاموش جوان نے کہا، ”حضور، آپ میرے بڑے بھائی سے مخاطب ہیں، آپ کی گفتگو اور نظر میرے بھائی پر ہے، اس لیے خاموش ہوں۔ حضور، اب آپ مجھ سے مخاطب ہوئے ہیں۔“ مہتر اس جوان کی اندازِ گفتگو اور لہجے کی نرمی سے متاثر ہوئے اور کہنے لگے، ”چترال میں بھی جلد ہی بمبئی کی طرح ایک اچھے درس گاہ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔“
خاموش کھڑا جوان افضل علی امان تھا۔
افضل علی 1934 میں افضل امان کے گھر پیدا ہوئے۔ ننھیال آپ کا غذر، چھشی میں تھا۔ 1946 میں چترال میں تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے بمبئی چلے گئے۔ بمبئی سے واپسی پر جامعہ کراچی سے فارسی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1952 میں مرحوم افضل علی کے والد نے بونی میں پہلے اسکول کا قیام عمل میں لایا۔ افضل علی اور سردار علی امان نے تقریباً 9 سال تک اسی اسکول میں اپنے علاقے کے بچوں کو تعلیم دی اور خواتین کو بھی تعلیم دینے کی ذمہ داری اٹھائی۔ تعلیم کی راہ، خاص طور پر خواتین کو تعلیم دینے کے حوالے سے کچھ چیلنجز کا سامنا بھی ہوا، مگر علم کا سفر جاری رہا۔
1961 میں افضل علی بطور سیکرٹری, اسماعیلی کونسل میں خدمات سرانجام دیتے رہے اور چار مرتبہ اسماعیلی ریجنل کونسل کے صدر بھی رہے۔ چترال میں آغا خان ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر فلاحی کاموں کا جال بچھایا۔ وہ آغا خان رورل ڈویلپمنٹ پروگرام کے بورڈ ممبر بھی رہے جبکہ چترال میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امن کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے بھی بہترین خدمات سر انجام دیں۔ 1970 میں انہوں نے بالائی لیگ کے نام سے ایک مقامی سیاسی تحریک میں بطور سیکرٹری کام کیا۔ اس تحریک میں انہوں نے چترال کے بنیادی حقوق اور مسائل کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور ہر پلیٹ فارم پر ہر مکتبہ فکر کے افراد کے ساتھ مل کر مسلکی اور سماجی مسائل کو مثبت انداز میں اجاگر کرتے رہے۔ وہ ایک مثبت کردار کے حامل شخصیت تھے۔ 1982 میں چترال میں بین المسالکی تنازعے کے حل میں افضل علی کا کردار بہت مثبت رہا۔ وہ امن کے داعی تھے۔
تعلیم سے انہیں خاص لگاؤ تھا اور اس کا منہ بولتا ثبوت پامیئر پبلک سکول بونی کا قیام ہے، جو مرحوم افضل علی کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ اس درس گاہ کی تعمیر کے لیے مرحوم افضل علی نے اپنی ذاتی زمین بھی وقف کی۔ اس درس گاہ سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات آج پاکستان کے بہترین اور معتبر اداروں میں ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ خواتین کی تعلیم پر بھی وہ بہت زور دیتے تھے۔ جب بھی کسی محفل میں بات کرنے کا موقع ملتا تو تعلیم اور علم حاصل کرنے کی تلقین کرتے۔
چترال کے مسائل کو مزید بہتر انداز میں حل کرنے کی غرض سے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے قسمت آزمائی کی اور اپنا منشور چترالی قوم کے سامنے پیش کیا، مگر سیاسی قسمت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی اور باخبر رہتے تھے۔
زندگی کے آخری ایام میں مرحوم سے آخری ملاقات ان کی والدہ مرحومہ کے مرقد پر حاضری کے دوران چھشی جاتے وقت ہرچین میں ہوئی۔ خاموش، کم گو، نرم لہجہ، علمی سوچ، با اصول شخصیت۔ افضل علی واقعی میں افضل تھے۔ 90 سالہ افضل علی نے بھرپور اور شاندار زندگی گزاری۔


