سیاستدان اب بھی فیض کا تذکرہ کرتے گھبراتے ہیں


پاکستان کی 77 ویں سالگرہ سے ٹھیک دو دن پہلے پاکستان کے طاقتور ترین ادارے نے اپنے ایک سابق فوجی افسر کے کورٹ مارشل کی خبر سنائی اور یہ بھی بتایا کہ وہ کرپٹ پریکٹس میں ملوث پائے گئے اور پوسٹ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے جو آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ جی جنرل فیض حمید جو کہ سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اور چیف آف آرمی سٹاف کی دوڑ میں چوتھے نمبر پر موجود تھے۔ یہ وہی افسر ہیں جن کی طاقت کا بیان کرتے ہوئے سابق پی ٹی آئی کے ممبر ندیم افضل چن جو اب پی پی پی میں ہیں، کہتے ہیں کہ عمران خان کے بعد وزیراعظم وہی تھے۔ لیکن خواجہ آصف جو اس وقت وزیردفاع ہیں ان کا ایک ٹی وی پروگرام میں کہنا تھا کہ وہ سابق چیف باجوہ صاحب کی پراکسی تھے۔ خیر یہ بیان تو مستقبل میں جانچا جائے گا۔

جنرل فیض حمید صاحب کے نام سے بہت سے سیاستدان بھی تلملا اٹھتے تھے اور کہتے تھے کہ انھوں نے سابقہ حکومت قائم کر رکھی تھی جن پر ان کا ایک جملہ بہت مشہور ہوا جب وہ جج شوکت صدیقی کے پاس گئے اور کہا کے آپ نے فیصلہ ہماری مرضی کا دینا ہے جس پر جج صدیقی انکاری ہوئے، جس پر فیض حمید کا کہنا تھا کہ ”ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائے گی“ ۔

اگر ہم لوگ اس دور کی بات کریں تو سابق وزیر اعظم عمران خان کی مماثلت لارنس آف عربیہ کے کردار فیصل کی ہے جو اپنے لارنس سے بظاہر کام لیتے ہوئے نظر آئے اور جب عربوں کی حکومت بن گئی تو لارنس کو پہچاننے سے انکار کر دیا خیر فلم میں تو لارنس کو ڈسپوز کر دیا تھا لیکن یہاں تو عمران خان کے حالیہ بیان میں انھوں نے فیض صاحب کو اپنا اثاثہ ہی کہہ ڈالا اور جب صحافی نے سوال کیا کے آپ فیض کے احتساب کے بارے کیا کہتے ہیں تو کہنے لگے کہ یہ تو فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ دوسری جانب باقی سیاستدان ابھی بھی جنرل فیض کی فوجی تحویل پر تجزیہ کرتے ہوئے گھبرا رہے ہیں اور حکومتی پارٹی کے صدر جناب میاں محمد نواز شریف نے تو یہ کہہ ڈالا کہ پارٹی کارکن اس پر بات نا کریں۔ اس پر تو ایک مشہور شاعر کا شعر یاد آتا ہے۔

گروہ عاشقاں پکڑا گیا ہے
‏ جو نامہ بر رہے ہیں ڈر رہے ہیں

بہت سے لوگوں کا خیال تھا کے فوج کی ساکھ بحال ہونے میں کافی عرصہ درکار ہو گا اور اہلِ دانش اس پر بہت سے مشورے بھی دے چکے۔ لیکن اس دفعہ فوج نے ماسٹر سٹروک کھیلا احتساب کا عمل اپنے ادارے سے شروع کیا اور سیاسی جماعتوں کو زیر اور عوام کو اپنے اس عمل سے تسخیر کر لیا۔

بقول حفیظ جالندھری صاحب کے

عرضِ ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی
چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی

Facebook Comments HS