ریفریشر کورس 28 اپریل انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں طعام
علی الصبح اٹھے سو کر نہیں بلکہ چارپائی سے کیوں کہ ساری رات سرے سے ہی نیند نہیں آئی تھی۔ اور مچھروں سے لڑتے بھڑتے رات گزری تھی۔ طبیعت بہت بوجھل تھی۔ سردرد اور ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ گرم پانی سے نہایا جائے۔ تلاش حمام میں آدھ گھنٹہ صرف کیا۔ لیکن ناکام رہے ناچار واپس آ کر منہ ہاتھ دھویا ناشتہ کر کے دوبارہ لیٹ گئے اور فوراً ہی آنکھ لگ گئی۔ ساڑھے آٹھ بجے باہر سے آنے والے لوگوں کے شور سے آنکھ کھل گئی۔
اور ہم بھی اٹھ کر کلاس روم میں جا بیٹھے۔ حسب معمول نذیر وقت کو دھکا لگانے کی ناکام کوشش میں مصروف تھے۔ اب تو فنکشن کا نام سن کر ہی چڑ آتی تھی۔ کیوں کہ یہ موضوع بہت دنوں سے زیر بحث تھا۔ اور ہم اس سے اکتا چکے تھے۔ دس پندرہ منٹ بعد لوگوں نے کمرہ تدریس سے کھسکنا شروع کیا۔ نذیر صاحب بھی وہاں سے اٹھ کر باہر آ گئے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے دروازے پر کھڑے ہو کر کسی نے باہر آنے کا اشارہ کیا باہر آ کر دیکھا۔ تو راؤ سلیم مع اپنی مونچھوں اور ایک عدد ٹیچر کے موجود تھے۔
ان سے گپ شپ ہوتی رہی اور انٹر کانٹی نینٹل میں آ کر پانی وغیرہ پیا گیا۔ اس کی وضاحت کرتا ہوں کہ کالج کے بالکل سامنے ایک ہوٹل ہے۔ یہ ہوٹل ایک عدد تنگ کوٹھڑی آٹھ دس کرسیوں، دو بینچوں جو باہر دھوپ میں پڑے ہوتے ہیں۔ اور چند ایک میل خوردہ برتنوں پر مشتمل ہے۔ ہمارا دوپہر کا کھانا اور صبح کا ناشتہ یہیں ہوتا ہے۔ کیوں کہ اور کوئی ہوٹل قریب نہیں۔ البتہ رات کو ہم گول چوک جاکر وہاں سے ایک ہوٹل سے کھانا کھاتے ہیں۔
پانی پی کر واپس آئے تو طبیعت مبارک صاحب سے گپ شپ لگانے کو مچل رہی تھی۔ انہیں ڈھونڈ کر راؤ سلیم سے ملوایا گیا۔ اور ساتھ ہی ہم شور مچا رہے کہ تمہارا مہمان آیا ہے۔ چلو اس کو پانی وغیرہ پلاؤ۔ لیکن اس شور سے ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جب وہ راؤ سلیم کو لے کر جا رہا تھا۔ تو میں نے بھی تین چار بندوں کے ساتھ ہمراہ چلنے کی کوشش کی مگر مبارک صاحب اس بات پر مصر تھے کہ وہ صرف راؤ سلیم کو ہی پانی پلائیں گے ہمیں نہیں۔ بہر حال ہم اپنے کمرے میں جا بیٹھے۔
دوسرا پیریڈ افتخار صاحب کا تھا۔ کچھ طبیعت کی گرانی کچھ تھکاوٹ اور سست بیداری کے اثرات اور کچھ بیالوجی کا مضمون اور می ادسس کا موضوع ان سب باتوں نے مل کر ہمیں انتہائی سست بنا دیا تھا۔ ہم اپنی سیٹ پر شلوار کے پائنچے اوپر اٹھائے قمیض کے بٹن کھولے ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھے کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ افتخار صاحب نے ہمیں ٹوکا۔ اور کہا کہ دوران لیکچر نوٹس لینا لازمی ہیں۔ ہمارے پاس پن بھی نہیں تھا۔ پیچھے سے کسی سے پن مانگا اور بورڈ پر بنی ہوئی اوٹ پٹانگ قسم کی شکلیں بنانے کی ناکام کوشش کرنے لگے۔
سیل ڈویژن پہ بات ہو رہی تھی۔ جب سیل کے تقسیم ہونے کا مرحلہ آیا تو سر نے دریافت فرمایا کہ کون کون سے کروموسومز کس کس طرف جائیں گے۔ اب ہماری بلا جانے ہم نے ادھر اُدھر بیٹھے ہوئے لوگوں کی کاپیوں پر نظر دوڑائی معلوم ہوا کہ وہ بھی ہماری طرح نہلے ہی ہیں۔ شاید افتخار صاحب ہماری کیفیت بھانپ چکے تھے۔ وہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ سیل کو تقسیم کر کے بتاؤ۔ ہمارے منہ سے کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ خاموشی سے پن کاپی پر رکھے ہونقوں کی طرح بیٹھے تھے۔
پروفیسر موصوف فرمانے لگے کہ۔ آپ تو ویسے بھی نیم خوابیدگی کی حالت میں ہیں۔ شلوار اوپر اٹھائی ہوئی ہے۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے کرسی سے ٹیک لگائے معلوم ہوتا ہے کہ پیریڈ پڑھنے نہیں بلکہ سونے آئے ہیں۔ اور ہم تھے کہ تمام کلاس کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے اس بات پر پچھتا رہے تھے کہ ہم نے بیالوجی کا مضمون رکھنے کی بے وقوفی کیوں کی تھی۔ بہر حال پروفیسر صاحب آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔ وہ بڑے پیار سے لوگوں کی مٹی پلید کرتے تھے۔
باقی تمام پیریڈ ہم ذہنی طور پر ویسے ہی اپ سیٹ رہے۔ پیریڈ ختم ہونے کے بعد کمرے میں آ کر سو گئے۔ شام کو آنکھ کھلی تو طبیعت میں ہنوز گرانی تھی۔ نہا کر سیر سپاٹے کو نکل گئے۔ وہاں سے کھانا وغیرہ کھا کر آئے اور حسب معمول چھت پر بیٹھ کر گپ شپ شروع ہو گئی۔ زریں خان صاحب نے سعودی لوگوں کے متعلق ہماری معلومات میں خاصا اضافہ کیا اور رات گیارہ بجے اپنے کمرے میں آ کر سو گئے۔



اب بھی ریفریشر کورسز کا یہی حال ہوتا ہوگا۔ بلکہ جو بے چارے بورڈ پر کھڑے ہوتے ہونگے ان کی داستان غریب حمزہ کچھ اور ہوتی ہوگی۔