ڈکیتی یا جبری وصولی؟


پچھلے ماہ 46 کمرشل یونٹ کے 3221 روپے اس ماہ 43 یونٹ کے 5205 روپے؟ 3 یونٹ 1984 روپے فی یونٹ 33۔ 661 روپے

کے الیکٹرک اور چور حکومت کی لوٹ مار
عام دکان کے الیکٹرک بل کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
ماہ اگست 2024 آخری تاریخ ادائیگی 2 ستمبر 24
کمرشل یونٹ 43 قیمت 4815 روپے 57 پیسے
فکس چارجز 1000
ویری ایبل چارجز 1659 روپے 37 پیسے
یونیفارم کورٹرلی ایڈجسمنٹ 39 روپے 83 پیسے
فیول چارجز آیڈجسٹمنٹ اگست نومبر دسمبر 131 روپے 32 پیسے
ایڈیشنل سرچارج پی ایچ ایل 138 روپے 89 پیسے
سرچارج 65 روپے 36 پیسے
الیکٹرسٹی چارجز 3034 روپے 77 پیسے
الیکٹرک ڈیوٹی 40 روپے 70 پیسے
سیلز ٹیکس 553 روپے 58 پیسے
سیلز ٹیکس ریٹیلرز 153 روپے 77 پیسے
ایکسڑا ٹیکس 153 روپے 77 پیسے
فردر ٹیکس 123 روپے 02 پیسے
ایم یو سی ٹی (کے ایم سی) 400 روپے
انکم ٹیکس 355 روپے 96 پیسے
ٹیکسیز اینڈ ڈیوٹیز 1780 روپے 80 پیسے
یور الیکٹرکسٹی چارجز فار دی پیریڈ 4815 روپے 57 پیسے

بل کی تفصیل
کیری فارورڈ بیلنس مائنیس 0 روپے 58 پیسے
پے منٹس ایڈجسٹمنٹ مائنیس 3221 روپے
بلنگ ٹیرف ایڈجسمنٹ 3610 روپے 78 پیسے
یور الیکٹرکسٹی چارجز فار دی پیریڈ 4815 روپے 57 پیسے
آؤٹ اسٹینڈنگ بیلنس 5204 روپے 77 پیسے
رقم ادائیگی وقت مقررہ 5205 روپے
لیٹ پے منٹ سرچارج 303 روپے 48 پیسے
رقم ادائیگی بعد وقت مقررہ 5509 روپے

کیا کوئی وضاحت کر سکتا ہے عام شہری یا دکاندار بجلی کے الیکٹرک سے خریدتا ہے اس کے ٹیرف یا اس کی شرائط کے مطابق صارف بجلی بیچتا نہیں ہے تو اس پر سیلز ٹیکس سیلز ٹیکس ری ٹیلرز، فردر ٹیکس ایکسٹرا ٹیکس کا اطلاق کیوں کیا جاتا ہے؟ اسی طرح جب دکان یا دکانیں جو کسی پلاٹ کا حصہ ہوتی ہے جب اس کا مالک پراپرٹی ٹیکس دیتا ہو اس پلاٹ پر کے ایم سی کے بھیجے گئے بل واٹر سیوریج مینٹینس و دیگر ادا کرتا ہو تو پھر دکان یا دکانوں سے دوبارہ ٹیکس کی وصولی کیوں کی جاتی ہے۔

اسی طرح انکم ٹیکس مالک دکان اور کرایہ دار بھی باقاعدگی سے جمع کراتا ہو تو اس سے دوبارہ انکم ٹیکس کی وصولی کیوں کی جاتی ہے یہی نہیں ان ٹیکسوں کی بار بار وصولی دیگر یوٹیلٹی بلوں میں بھی کی جاتی ہے کیا یہ وصولی جبری ظلم غیر قانونی نہیں چہ جائے کہ بلوں پر ایس آر ووز کے ریفرنس بھی دیے جاتے ہیں جو نہ صرف نا انصافی جبر ظلم کے مترادف ہیں ایک طرف حکمران اپنی مراعات سہولتیں حتی کہ رہائش دوروں کے اخراجات تک عام آدمی سے جبرا وصول کرتے ہیں کیا یہ تمام سہولتیں یا مراعات عام شہری عام دکاندار کو بھی حاصل ہیں اگر نہیں تو یہ دوہرا نظام ختم کرنے کی ضرورت ہے آئین قانون عام آدمی کو بھی وہی تحفظ اور مراعات دیتا ہے جو خاص لوگوں نے زبردستی لے رکھا ہے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کی موجودگی میں ریگولیٹری ادارے قائم کرنا بھی مملکت اور عوام کی حق تلفی ہے کیا اس پر مقتدر حلقے کوئی لائحہ عمل بنا اور رائج کر سکتے ہیں 77 برسوں میں ایک لوٹ مچی ہوئی ہے جس کا زور چلتا ہے وہ ملک اور عوام کا بیڑہ غرق کر دیتا ہے ایک یونیورسٹی بھی نہیں جہاں ملک کی ترقی عوام کی بہبود کے لیے ریسرچ کی جاتی ہو اور حکمرانوں کو تجاویز دی جاتی ہوں سوائے من پسند پروپیگنڈے اور ذاتی مفادات کے لیے تو ہر حد سے گزرا جاتا ہے مگر مملکت یا عوام کا نہ سوچا نہ اس کی بہتری کے لیے کیا جاتا ہے عوام غریب سے غریب تر اور حکمران امیر سے امیر تر ہو گئے۔

کیا 77 برس بھی کسی کام کے نہ تھے کہ آدھا ملک گنوا دیا اب ملک کا امیر ترین طبقہ ملک کے لیے اپنی دولت خرچ تک نہیں کر رہا بلکہ عوام کو نچوڑنے میں لگا ہوا ہے ملک کا پڑھا لکھا نوجوان ملکی حالات سے دل برداشتہ ہو کر باہر جا رہا ہے کیوں؟ بیر روزگاری بدامنی لاقانونیت چور بازاری مہنگائی نے ان کا جینا حرام کر دیا ہے کیا اس صورتحال پر حکمران خود کو مجرم سمجھیں گے؟ ملک قوم عوام کا سوچیں گے؟ یا وہی ذاتی مفاد کرپشن لا قانونیت آئین شکنی کی راہ پر چلتے رہیں گے کہ ملک پھر ٹوٹ جائے اور صوبے آزاد مملکت بن جائیں؟ سوالیہ نشان ہے سب کے لیے۔

Facebook Comments HS