نوجوانوں میں بیرون ملک جانے کا رجحان


ہر سال کی طرح اس سال بھی پوری پاکستانی قوم نے آزادی کی 77 ویں سالگرہ جوش و خروش سے منائی۔ وطن سے محبت کا شمار ان چند چیزوں میں ہوتا ہے جس پہ پورے ملک میں بسنے والے لوگوں کی رائے یکساں ہے۔ وطن عزیر میں مختلف نظریات مختلف عقائد اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں۔ لاکھ آپسی اختلافات ہوں لیکن پاکستان سے محبت پاکستان کی ترقی و خوشحالی، پاکستان کی بہتری اور پاکستان کی فلاح کے بارے میں سب کی رائے متفقہ ہے۔ ہر کوئی پاکستان کی ترقی میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے کا خواہش مند ہے۔ یہاں تک کہ کوئی ایسا فرد نہ ہو گا جو اپنی جان کو وطن کی حفاظت سے زیادہ عزیز جانتا ہو وطن عزیز کو جب بھی ضرورت پڑی ہمارے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنایا۔

اس بات میں تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان کا ہر شہری وطن سے محبت کے جذبے سے سرشار ہے مگر آج ہمارے پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کی بڑی تعداد کیوں پاکستان کی بجائے کسی دوسرے ملک جا کر کام کرنے کو ترجیع دیتے ہیں۔ کیوں کسی انجان علاقے میں اجنبی لوگوں میں کسی پردیس ملک میں جا کر محنت کر کے کمانا چاہتے ہیں؟

جی ہاں یہ ایک تلخ حقیقت ہے آج نوجوانوں سے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں سوال پوچھا جائے تو افسوس زیادہ تر نوجوانوں کا یہ ہی کہنا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کیا رکھا ہے؟ کسی دوسرے ملک جا کر کمائیں گے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے پیسہ جوڑیں گے اور باقی کی زندگی خوشحال طریقے سے گزاریں گے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک عام آدمی وطن عزیر میں رہتے ہوئے اتنا پیسہ کما سکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزا ر سکے۔ اس سوال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہمارے ملک کے معاشی حالات کو دیکھیں تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا اور اس کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری ہے۔ نوجوانوں کے ملک چھوڑنے کی ایک بنیادی اور بڑی وجہ معاشی مواقعوں کی کمی ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے تقریباً 24 کروڑ کی آبادی والے ملک میں تقریباً 64 فیصد نوجوان بستے ہیں مگر ان نوجوانوں کے لئے وطن عزیر میں نوکریوں کے اتنے موقع موجود نہیں۔

دن بہ دن بڑھتی مہنگائی اشیا خورد و نوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے آمدن سے زائد بل اور طرح طرح کے ٹیکس اور سب سے بڑھ کر گھرمیں بیٹھا ہوا بے روز گار پڑھا لکھا نوجوان۔ ان سب حالت کے چلتے ہی نوجوان آج وطن عزیز کی محبت دل میں لئے ایک بھاری دل کے ساتھ کسی پردیس ملک میں جا بستے ہیں اور پیسہ کما کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ کیا کسی کا دل کرے گا کہ اگر وطن عزیز میں ہی روزگار کمانے کے اچھے مواقعے موجود ہوں تو پھر بھی وہ اپنا وطن جہاں وہ پیدا ہو اپلا بڑھا، جہاں اس کا بچپن گزا جس ملک میں خون کے رشتے اور لاکھوں یادیں ہیں ان کو چھوڑ کر کسی انجان ملک میں جا بسے بلاشبہ کوئی بھی اپنا دیس چھوڑنے کو ترجیع نہیں دے گا ہر ایک کی یہ ہی خواہش ہوگی کہ وہ اپنے وطن میں رہتے ہوئے ہی اچھی اور پرسکون زندگی گزارے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں تقریباً 225,000 پاکستانیوں نے ملک چھوڑا، اگلے سال 2022 میں یہ تعداد تقریباً تین گنا بڑھ کر 765,000 ہو گئی۔ 2022 میں 92,000 اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد جیسے ڈاکٹر، انجینئر، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور اکاؤنٹنٹ وطن عزیر چھوڑ کسی اور ملک روزگار کے حصول کے لئے گئے۔ 2023 کے دوران 80 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک چلے گئے 2023 میں 860,000 سے زائد پاکستانی تعلیم اور ملازمتوں کی تلاش میں بیرون ملک چلے گئے۔

اتنی بڑھی تعداد میں نوجوانوں کا ملک سے چلے جانا کسی المیے سے کم نہیں اگر ان سب نوجوانوں کو یہاں بہتر روزگار میسر ہوتا تو ضرور وہ یہاں رہتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے۔ اگر ہمارے نوجوان ہمارے ملک میں رہتے ہوئے ہی محنت کریں گے تو ضرور ہمارا ملک ترقی کرے گا اور آگے بڑھے گا۔

یہ بات کہنا غلط نہ ہوگی کہ کوئی بھی اپنا ملک خوشی کے ساتھ نہیں چھوڑتا بہت سے دکھ درد برداشت کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرتا ہے وطن چھوڑ کے جانے کا اور وطن عزیز میں نوجوانوں کو فی الوقت بہت سی مشکلات درپیش ہیں جو ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتی ہیں جس میں بڑی وجہ بے روزگاری کے ساتھ ساتھ مہنگائی گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ مختلف ٹیکسوں کی بھرمار پیٹرولیم مصنوعات جیسے پیٹرول، ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں میں روز بہ روز ہوتا اضافہ اور روپے کی قدر میں تاریخی کمی جیسی وجوہات شامل ہیں اور رہی سہی کسر دن بہ دن بڑھتے چوری ڈکیتی راہزنی قتل و غارت میں اضافے جیسے واقعات نے پوری کردی۔ لوگ دیر رات کو کیا دن میں بھی باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ دن دیہاڑے کھلے عام لوگوں سے گن پوائنٹ پر واردات بھی کر لی جاتی ہے اور مزاحمت کرنے پر مار بھی دیا جاتا ہے ان سب حالات میں کمی کی بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آتا ہے جس کی وجہ سے نوجوان مزید حوصلہ شکن ہو کر ملک چھوڑنے کے خواب سجانے لگتے ہیں۔

ان سب واقعات میں اضافے کی وجہ بھی کہیں نہ کہیں بے روز گاری ہی ہے۔

اکثر وائرل ویڈیوز میں دیکھنے میں آیا ہے پڑھے لکھے نوجوان سڑک کنارے کوئی ریڑھی لگا کر چھوٹا کاروبار شروع کر لیتے ہیں اور خود بتاتے بھی ہیں کہ میں نے فلاں مشہور یونیورسٹی سے یہ تعلیم حاصل کی مگر جب کوئی اچھی نوکری نہیں ملی تو یہ کام شروع کر لیا۔ بے شک کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا پیٹ پالنے کے لئے محنت کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اتنی مہنگی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی اگر یہ سب کرنا ہے تو وقت اور پیسہ دونوں بچا کر پہلے ہی یہ کام کیوں نہ شروع کر لیا جائے۔ مزید اس طرح کے نوجوانوں کو دیکھ کر دوسرے نوجوان بھی حوصلہ ہار جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ سب کچھ کرنے کے بعد اگر ہمارا مستقبل پاکستان میں رہتے ہوئے ایسا ہی ہو گا تو وقت ضائع کیے بغیر ہم بھی کسی دوسرے ملک جا کر روزگار تلاش کرتے ہیں۔

ہمارے نوجوان دنیا بھر میں کسی سے کم نہیں ہیں زندگی کے ہر شعبے میں پاکستانی نوجوانوں نے اپنے ہنر کا لوہا منوایا ہے اور ملک پاکستان میں بسنے والے لوگوں کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ حال ہی کی بات کی جائے تو

پاکستانی جیولن تھرو ایتھلیٹ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں پاکستان کو طلائی تمغہ جتوا کر وطن عزیز میں بسنے والے ہر پاکستانی کا دل خوشی نے منور کر دیا۔ اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والی تین بہنوں سیبل، ٹوئنکل اور ویرونیکا سہیل نے جنوبی افریقہ میں منعقد پاور لفٹنگ کے مقابلوں میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ایک ہی ایونٹ میں مختلف ویٹ کیٹگریز میں پانچ پانچ گولڈ میڈلز جیت کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

اسی طرح کچھ روز قبل پاکستانی مارشل آرٹسٹ محمد راشد نسیم نے 30 سیکنڈ میں اپنے سر سے 39 کین کے ڈبے توڑ کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا اس کے ساتھ ساتھ وہ مارشل آرٹس میں ایک سو سے زائد گنیز ورلڈ ریکارڈ رکھنے والے پہلے پاکستانی بھی ہیں۔

اسی طرح 2020 میں زارا نعیم ڈار نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس کے امتحانات میں دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور دنیا بھر میں یہ پیغام دیا کہ پاکستانی یوتھ پڑھائی اور ذہانت کے میدان میں بھی کسی سے کم نہیں۔

دنیا کی سب سے کم عمر مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز 2004 میں ارفع کریم مرحوم نے صرف 9 سال کی عمر میں اپنے نام کر لیا تھا۔

یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ پاکستانی نوجوانوں نے ہمیشہ دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ اس طرح کی ان گنت مثالیں موجود ہیں جس سے ظاہر ہے کہ پاکستانی یوتھ کتنی باصلاحیت ہے اگر پاکستان میں اچھے روزگار کے مواقع ملیں تو یہ ضرور اپنے وطن کا نام ایسے ہی مزید روشن کرتے رہیں گے۔

حکومت وقت کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کرے جس سے نوجوانوں کے لئے وطن عزیر میں رہتے ہوئے روز گار کمانے کے لئے اچھے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ سب سے پہلے ہمارے تعلیمی نظام میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو پوری دنیا میں موجود تعلیمی نظام کو اپنانا ہو گا اور ہر سطح پر معیاری تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانا ہو گا۔

نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے مختلف پروگرامز کا آغاز کرنا ہو گا جن سے نوجوان کوئی اچھا ہنر حاصل کر کے بہتر نوکری کر سکیں۔

معاشی پالیسیوں کے ذریعے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں۔ طالب علموں کے لئے روزگار کے حصول کے لئے انٹرن شپ پروگرامز کا آغاز کریں۔

جب نوجوانوں کے پاس بہتر تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تنخواہ والی بہتر نوکری موجود ہوگی تو ضرور نوجوان وطن عزیر میں رہتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

ہمارے وطن کا بچہ بچہ پاکستان سے محبت کے جذبے سے سرشار ہے ہر کوئی ملک عزیز کو ترقی کرتا اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہے ہم سب کا بھی فرض ہے کہ ہر کوئی ملک پاکستان کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے ایک دن ضرور آئے گا جب پاکستان کا شمار بھی ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہو گا اور اس کے لئے ہمارے نوجوانوں کو اپنا قومی فرض نبھاتے ہوئے اپنا اپنا کردار وطن عزیز کی ترقی میں ادا کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS