بے روزگاری اور تنقید
عصر حاضر میں جس مسئلے کی وجہ سے اکثر پڑھے لکھے اور بیشتر ان پڑھ نوجوان مرد اور عورتیں پریشان ہیں وہ مسئلہ بے روزگاری ہے۔ معاشیات اور اس کے تصورات ترقی یافتہ شکل میں بدل چکے ہیں لہذا بعض تصورات کی تعبیرات یا تو جدید ہو گئی ہیں یا مکمل طور پر بدل چکی ہیں۔
بعض افراد کام کاج ہونے کے باوجود خود کو بے روزگار سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کی اجرت ان کے مسائل کا ازالہ نہیں کرتی۔ ایسے میں یا تو وہ ملازمت کو جاری رکھتے ہیں یا بہتر جگہ کا انتخاب کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ ان بے روزگاروں کا ہے جو سِرے سے بے روزگار ہیں اور ان کے پاس کوئی نوکری نہیں۔
تو پھر ایسے لوگ اگر پڑھے لکھے ہیں تو کرتے کیا ہیں؟
جی! تنقید کرتے ہیں۔
مطلب ادبی تنقید یا لسانی تنقید وغیرہ۔ تو یہ کام بھی بڑا سود مند اور علمی ہے۔
نہیں! وہ ادبی یا علمی تنقید کرنے کی بجائے سسٹم اور حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔
تو کیا کسی مجلس، جلسے یا میٹنگ میں تنقید کرتے ہیں؟
نہیں۔ موبائل فون پر تنقید کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا سائٹس کے اندر پوسٹس، بلاگز یا مختلف بحثوں میں پڑے رہتے ہیں۔
تو یقیناً ان بحثوں اور تنقید کا کوئی ثمر ان کو ملتا ہو گا؟
نہیں ملتا۔
کیوں نہیں ملتا؟
کیوں کہ ایک تو جن پر وہ تنقید یا تنقیص وہ کرتے ہیں وہ لوگ اس کو پڑھتے نہیں نہ پڑھنا چاہتے ہیں دوسرا یہ تنقید نہیں ہوتی کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ تیسرا ان بے روزگاروں کو موبائل اور سوشل میڈیا سے اتنی فرصت ہی کہاں ہے کہ وہ کوئی نیا ہنر سیکھ لیں یا کوئی ڈھنگ کا کام کریں یا روزگار کے لیے خود کو قابل بنائیں۔
جب نوکریاں نہیں آئیں گی روزگار کے مواقع میسر نہیں آئیں گے تو نوجوان بے چارے فرصت کے اوقات میں کچھ تو کریں گے۔
نوکریاں نہیں آتیں؟
آتی ہیں۔ وفاق کے محکمہ تعلیم میں مردانہ و زنانہ اساتذہ کی تقرریاں آئی تھی۔ کچھ نوجوان بر سر روزگار ہو گئے کچھ پھر سے کوشش میں ہیں۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈپٹی ڈائریکٹر بنیادی سکیل سترہ کی پچاس تقرریوں کا اعلان جولائی میں ہوا۔ سی ٹی ڈی پنجاب میں ماہرِ جُرمیات (کریمنالوجسٹ) کی تقرری ہوئی۔ محمکہ صحت پنجاب میں چارج نرس کی تین ہزار تقرریاں ہونے جا رہی ہیں۔ لیکچرر بنیادی سکیل سترہ کی تقرریاں سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں مشتہر ہوئی تھیں۔ نیب کے محکمے میں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری بنیادی سکیل سولہ کی سینتیس سیٹیں آئیں۔ ہزاروں لوگوں نے امتحان دیا کوئی ایک بھی کسی تقرری کے لیے اہل ثابت نہیں ہو سکا۔
تو نوجوان تو بے روزگار تھے اور یہ بھی کہہ رہے تھے ملک میں روزگار کے مواقع نہیں تو پھر اگر وہ ٹیسٹ پاس نہیں کر پائے وہ کر کیا رہے تھے؟
جی وہ تنقید کر رہے تھے۔
کس پر تنقید کر رہے تھے؟
حکومت پر تنقید کر رہے تھے
مگر حکومت پر کیوں تنقید کر رہے تھے؟
کیوں کہ وہ کہتے ہیں حکومت ملازمتیں نہیں دیتی۔
مگر نوکریوں کا اعلان تو ہوا تھا جو سینتیس تقرریاں ابھی بھی خالی ہیں۔ اور کئی ہزار آسامیوں کے لیے آمدہ ہفتوں میں ٹیسٹ انٹرویو ہونے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔


