غلام محمد، جسٹس منیر اور جنرل ایوب گٹھ جوڑ


غلام محمد لاہور کے رہنے والے تھے۔ آپ کا تعلق پشتون قبیلے ککے زئی سے تھا۔ جو لاہور میں صدیوں سے آباد ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد انڈین اکاؤنٹ سروس میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کام کیا اس کے بعد ریلوے بورڈ میں ذمہ دار عہدہ پر کام کرتے رہے۔ جنگ عظیم دوم کے دوران انھوں نے کنٹرولر آف جنرل سپلائی اینڈ پر چیز کی ذمہ داریاں سر انجام دی۔ پہلی گول میز کانفرنس میں آپ نے نواب آف بہاول پور کے نمائندے کے طور پر کام کیا۔

آپ نے نظام حیدرآباد کے مشیر خزانہ کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دی۔ قیام پاکستان کے بعد آپ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے کابینہ میں مشیر خزانہ کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔ یوں آپ کو پاکستان کا پہلا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آپ نے 8 فروری 1948 کو پاکستان کا پہلا بجٹ پیش کیا۔ یہ بجٹ خسارے کا تھا۔ اس میں آدھا دفاعی خرچہ تھا۔ کیونکہ نوزائیدہ مملکت کا اپنا سکہ نہیں تھا۔ وزیرخزانہ ملک غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں یہ بھی بتایا تھا کہ قیام پاکستان یعنی 15 اگست 1947 ء سے لے کر 31 مئی 1948 ء تک کے رواں مالی سال تک حکومت پاکستان کو 23 کروڑ، 41 لاکھ روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔

لیکن آئندہ سال یعنی 1948 ء تا 1949 ء کے لیے مجموعی طور پر 10 کروڑ، 11 لاکھ کے بجٹ خسارہ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یوں اس بجٹ کی وجہ سے غلام محمد کی مقبولیت نوزائیدہ ریاست میں بڑھ گئی۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان آپ کو عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ ایک طرف آپ بے جا مداخلت کرتے اور دوسری طرف صحت بھی خراب تھی لیکن ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ ایسا نہ کرسکے۔ لیکن اکتوبر 1951 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں جلسے کے دوران گولی مار دی گئی۔

لیاقت علی خان کی وفات کے بعد خواجہ نظام الدین کو وزیراعظم جبکہ بیماری کے باوجود پاکستان کا تیسرا گورنر جنرل بنا دیا گیا۔ ملک غلام محمد ان دنوں خاصے بیمار رہتے تھے۔ انہیں بلند فشار خون کا عارضہ لاحق تھا۔ اس کے علاوہ فالج اور لقوے کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے بول بھی نہیں پاتے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ اس وقت پاکستان میں انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت گورنر جنرل براہ راست تاج برطانیہ کے نمائندے کے طور پر فرائض سرانجام دیتا تھا۔

چونکہ غلام محمد کبھی سیاست دان نہیں رہے۔ کبھی سیاست نہیں کی بلکہ سرکاری نوکری کی لہذا آپ کے دماغ پر طاقت کا نشہ سوار تھا۔ اپریل 1953 کے وسط میں خواجہ ناظم الدین نے اپنی کابینہ کے چند قابل اعتبار ارکان سے مشاورت کی اور یہ طے پایا کہ تاج برطانیہ سے گورنر جنرل غلام محمد کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جائے۔ اس مشاورت میں وزیر خزانہ چودھری محمد علی بھی شریک تھے اور انہوں نے یہ بات گورنر جنرل غلام محمد کو بتا دی۔ غلام محمد یہ بات سن کر آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے 17 اپریل 1953 کی شام کو خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کو گورنر جنرل ہاؤس میں بلا کر انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانے کا حکم دے دیا۔

مگر جب ظفر اللہ خان کے علاوہ کابینہ کے تمام اراکین اور خواجہ ناظم الدین استعفے دینے کے لیے رضامند نہ ہوئے تو گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کو یک جُنبشِ قلم برطرف کر دیا۔ خواجہ ناظم الدین پر قانون ساز اسمبلی نے ابھی دو ہی ہفتے قبل اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا تھا جب اسمبلی نے خواجہ ناظم الدین کی کابینہ کا تیار کردہ بجٹ بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب گورنر جنرل غلام محمد کو فوج کی بھی حمایت حاصل تھی۔

پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان ان کے ساتھ تھے اور انہوں نے حکومت کو رخصت کرنے کا فیصلہ ایوب خان کی معاونت ہی سے کیا تھا۔ خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے مشرقی پاکستان کی عوام میں مغربی پاکستان کے خلاف بداعتمادی کا بیج بویا۔ راتوں رات امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو واپس بلا کر پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا اور جنرل ایوب خان نے وزیر دفاع کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ملکی فوج کا سربراہ فوجی وردی میں کابینہ کے اجلاس میں بطور وزیر دفاع شامل ہوا۔

اگرچہ پاکستانی فوج ملکی سیاسی معاملات میں شروع ہی سے داخل اندازی کرتی تھی مزید اختیارات اور طاقت ہتھیانے کے لیے سرگرم تھی مگر جب پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان وزیر دفاع بن کر کابینہ میں شامل ہو گئے تو پہلی مرتبہ فوج باضابطہ طور پر سیاسی طاقت کی شراکت دار بن گئی۔ ایوب خان چونکہ ہزارہ کے ایک سیاسی ترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ کے بھائی سردار خان بہادر پاکستان کی پہلے اسمبلی کے رکن تھے۔

1954 میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی جب گورنر جنرل غلام محمد کو پتہ چلا تو آپ نے 24 اکتوبر 1954 کو پاکستان کی پہلی اسمبلی کو توڑ دیا۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار براہ راست جمہوریت پر وار تھا۔ دستور ساز اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین نے اس برطرفی کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا۔ سندھ کی اعلیٰ عدالت نے مولوی تمیزالدین کے حق میں فیصلہ دیا کہ گورنر جنرل کا فیصلہ غیر آئینی تھا اس فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تو اس کے نتیجے میں جسٹس منیر کا وہ بدنام زمانہ فیصلہ آیا جس میں گورنر جنرل کا فیصلہ جائز قرار دیا اور اسے نظریہ ضرورت قرار دیا کہ دستور ساز اسمبلی اپنی اہمیت و افادیت کھو چکی ہے۔

اس فیصلے نے پاکستان میں فوج اور بیوروکریسی کی سازشوں کا ایک نہ رکنے والا باب کھول دیا۔ جسٹس منیر نے فیصلے میں یہ احمقانہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان نے مکمل آزادی حاصل نہیں کی ہے اور اب بھی جزوی طور پر تاج برطانیہ کا حصہ ہے۔ اس رو سے دستور ساز اسمبلی گورنر جنرل کے ماتحت ہے اور گورنر جنرل کو اسے برخاست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس مقدمے میں صرف ایک غیر مسلم جج جسٹس کارنیلیس نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان مکمل طور پر آزاد مملکت ہے اور دستور ساز اسمبلی ایک خود مختار ادارہ ہے جسے گورنر جنرل برطرف نہیں کر سکتا۔

اسی مقدمے میں جسٹس منیر نے بدنامِ زمانہ نظریہ ضرورت بھی متعارف کروایا۔ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس عبدالرشید کی ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو سنیارٹی کے اعتبار سے ایک بنگالی جج جسٹس اے ایس ایم اکرام سینیئر موسٹ جج تھے۔ گورنر غلام محمد اور جنرل ایوب کو ان کی تقرری کسی صورت بھی قبول نہیں تھی سو ایک جونیئر جج جسٹس محمد منیر سے معاملات طے کیے گئے۔ جسٹس محمد منیر کے ساتھ جنرل ایوب خان کا یارانہ تھا، یہ ایک ساتھ مل کر ہینگ آؤٹ کرتے تھے، شکار کے لئے جایا کرتے تھے اور یہیں پر ان دونوں کے درمیان پاکستان کے مستقبل کا منظر نامہ طے پایا اور ملک کے وسیع تر مفاد میں جسٹس محمد منیر نے جنرل محمد ایوب کو مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

یوں غلام محمد، جنرل ایوب خان اور جسٹس منیر کا ایک گروہ بن گیا۔ جنہوں نے مل کر ملک کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ جمہوریت کو روندا، پاکستان کی پہلی اسمبلی کے ارکان جو کہ بانیان پاکستان تھے ان پر مظالم ڈالے۔ اقتدار کو طوالت دی۔ سیاسی بنیادوں پر سیاسی ورکروں پر مقدمات قائم کیے۔ یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی گٹھ جوڑ تھی۔ جس نے ملک میں جمہوریت کو پٹڑی سے اتارا اور جنرل ایوب خان نے 1958 میں باقاعدہ پہلی مارشل لاء قائم کی۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “غلام محمد، جسٹس منیر اور جنرل ایوب گٹھ جوڑ

  • 23/08/2024 at 10:33 صبح
    Permalink

    You typically penned a writeup having half truth and using right information but at a wrong place.

    Before partition Late Ghulam Mohd (GM) was not a government or a servant only. He was

    co owner of one of the largest companies then in India now known as Mahindra and Mahindra. At that time it was named Mahindra and Mohammad (GM name). M&M have blood and sweat of GM in its success.

    Since GM was also running a Chartered Accountancy firm so his services was hired by many estates
    and British Government that include services during second world war

    GM served under the Minister ship of LAK in 1946 (when LAK was Finance Minister in undivided Indian Parliament). GM was brain behind success of LAK and that why he was selected as Fin Min post independence.

    When GM opt to join Pakistan, he sold his share of M&M, and he cannot utilise that money in Pakistan in any business as he was the Fin Min. However, later M&M become one of the largest conglomerate of India using business plans of GM.

    In 1951, LAK already fired Gormani (Kashmir Minister) and given 15 days notice to GM and Khwaja Shahabuddin (younger brother of Nazim Uddin and Publication cum interior minister). Unluckily, the conspiracy against LAK turn the table.

    At that time, it is wrong as per your claim that GM was having paralysis. He was having high BP, hyper tension etc which were affecting his performance.

    You again wrongly mentioned that Ayub Khan had any hand in ouster of Nazim uddin. The decision GM made was instantaneous and Ayub was not in the city on that day. So how Ayub was behind GM.

    You also wrongly blamed Ayub that by favoring GM, Ayub was made defence minister in Bogra cabinet, when he sworn in as PM.

    The fact was that Bogra took oath in April 1953. He kep Defence Minister slot with himself.

    After some one and half year ie in October 1954, Bogra decided that he want to have all technocrats and right man for the right job type people in his cabinet so he became Foreign Minister also and induct Ayub in uniform as defence minister. Not only Ayub, but two more bureaucrats Iskander Mirza and Ch Md Ali were also inducted in Bogra cabinet.

    Placing Ayub as Defence Minister has a reason, Pakistan has made Defence pact with USA and serious complications and slow work was facing by two countries. To remove the red-tape and improve the work, Bogra place Ayub in his cabinet but after 1.5 years and not on next day.

    Seems you have soft corner for PTI and thats why you unnecessarily dragged Ayub in this writeup being Army Chief.

    Your frivolous blames on Justice Muniir also speak a lot about your respect for Judiciary. There was no constitution in Pakistan and under the rule of business GM can dissolve the assembly, be it a right decision or not.

    It is ridiculous to say
    احمقانہ فیصلہ

    to a judgement given by a court.

    There are some more wrong info, but PTI lovers will never change and write like this.

    Hanging out or drinking does not mean all friends are held responsible for something nothing to do with friendship

    Ayub Khan (same person you crib against) is grandfather of PTI head Omar Ayub
    The first cousin of Imran Khan Mr Javed Burki marry to daughter of Gen Habib Ullah
    and his another daughter marry to Ayub Khan son Gohar Ayub

    So Ayub and his children are distant relative of Imran Khan as well

    • 23/08/2024 at 11:17 صبح
      Permalink

      Your fake / half truth

       راتوں رات امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو واپس بلا کر پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا اور جنرل ایوب خان نے وزیر دفاع کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ملکی فوج کا سربراہ فوجی وردی میں کابینہ کے اجلاس میں بطور وزیر دفاع شامل ہوا۔

      Reality : Bogra took oath in April 1953 and retain def min slot with him. Ayub became Defence Minister in October 1954 and worked for 10 months only till Aug 55
      The PM Bogra himself changed rule and induct serving government servants in his cabinet, Ayub was not alone

      بوگرہ اپنی کابینہ کو اکبر کے نو رتن کہا کرتا تھا

Comments are closed.