روحانی خواب اور اوریا مقبول جان کی گرفتاری


اوریا مقبول جان وطن عزیز کے ان نابغین میں سے ہیں جو کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے بلکہ ہر فیصلہ ناپ تول کر اور وقت کی نزاکتوں کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔

اس قسم کے جوہر نایاب ”ٹائم سرور“ کہلاتے ہیں اور اگر آسان بھاشا میں کہیں تو ابن الوقت ہوتے ہیں، ان کا ہاتھ وقت کی نبض پر ہوتا ہے اور طاقت کے مدوجزر کا بغور مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔

موصوف سابقہ بیوروکریٹ ہیں اور کسی زمانہ میں اشتراکیت اور سوشلزم اور لبرل ازم کی بڑی باتیں کیا کرتے تھے لیکن آج کل خاصے بدل چکے ہیں۔ روحانیت و سلوک کی منازل طے کرتے ہوئے شنید ہے کہ لمحہ موجود میں کسی مسجد میں خطبہ جمعہ کا مقدس فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔

کہاوت ہے کہ چلے ہوئے کارتوس کی افادیت نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہے اور جو لوگ کسی طاقت ور پوسٹ سے ریٹائر ہو جاتے ہیں ان کی حیثیت چلے ہوئے کارتوس جتنی رہ جاتی ہے۔

وطن عزیز کا چلن اس حوالے سے خاصا دلچسپ ہے، یہاں طاقت ور عہدوں کی بہاروں سے لطف اندوز ہونے والے جب ریٹائر ہوتے ہیں تو وہ روحانیت کی گھنی اور پُرسکون سی چھتر چھایا میں پناہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور اپنے بڑھاپے کے لیے ایک شاندار قسم کا سامان یا بندوبست کر لیتے ہیں۔

روحانیت اور مذہب کا سودا یہاں خوب بکتا ہے بس دکان دار ذرا سا شاطر ہونا چاہیے، ان پراسرار سی راہداریوں میں ”سوال“ کا تو گزر ہی نہیں ہوتا بس ایقان و عقیدت کا سکہ چلتا ہے، ظاہر ہے جہاں سوال نہیں ہوتا وہاں بڑے بڑوں کا داؤ لگا رہتا ہے۔ آ خر روحانیت میں کچھ تو ایسا ہے نا کہ طاقت و توانائی اور جوانی کی حسین ترین منازل اور پڑاؤ سے گزر کر اور پوری طرح سے مستفید ہونے کے بعد زندگی کے پچھلے پہر سابقہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ہمارے لوگ روحانی تلقین بابے بن جاتے ہیں۔

اپنی سوانح عمری کا آغاز ہی ان جملوں سے کرتے ہیں کہ
” ایک روز سرراہ یا کسی جنگل یا محفل میں ان کا سامنا ایک بابا جی سے ہوا“

بس پھر آ گے روحانیت کا ایک نا تھمنے والا سیل رواں جاری ہو جاتا ہے جو پورا روحانی شہاب نامہ لکھوا کر ہی چھوڑتا ہے، روحانیت میں ڈوب کر لکھتے جاؤ میاں! کون یہاں پوچھنے والا ہے؟

اب ایک نجی سی روحانی و باطنی یا قلبی وارداتوں کو ٹیسٹ کرنے کا کوئی پیمانہ تھوڑے ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے سے یہ تعین کیا جا سکے کہ صاحب کتاب سچ بول رہا ہے یا جھوٹ؟

ہماری تاریخ تو اس طرح کی اساطیری پہیلیوں سے بھری پڑی ہے کہ پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ عقل و شعور کی اس بالغ صدی میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم تو سائنس و شعور سے ابھی کوسوں دور ہیں شاید ابھی بھی صدیوں کے فاصلے پر ہیں اور ہماری نسلوں کو شعور سے کوسوں دور رکھنے میں آج کے ”نسیم حجازیوں اور تلقین بابوں“ کا پورا پورا کردار ہے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

زید حامد، ہارون الرشید، لفظ طاغوت سے شہرت پانے والے ساحل عدیم، قیصر احمد راجہ اور روحانی خوابوں میں طاقت ور ترین ہستیوں کا دیدار کرنے اور ان کے متعلق پیشگوئی کرنے والے اوریا مقبول جان ایسے حلقہ نسیم حجازی کے انہی علمبرداروں میں سے ہیں جو سادہ لوح عوام کو بہکانے اور پھسلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ان کے سامنے ٹی وی کی اسکرین اور کیمرہ ہونا چاہیے بس، زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

باقی اوریا مقبول جان ہو یا کوئی بھی ہو اسے اپنی بات کہنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے، باتوں کو سننے سنانے میں حوصلہ و ظرف کشادہ ہونا چاہیے۔ زبان بندی یا نظر بندی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ مختلف افکار سے ہی معاشرتی گہما گہمی برقرار رہتی ہے۔

Facebook Comments HS