مراد علی شاہ کی وفاق سے شکایات!
سندھ کا علاقہ تھر 3000 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، لیکن بجلی نیشنل گرڈ کے ذریعے فیصل آباد تک پہنچائی جاتی ہے۔ سندھ کو لوگوں کو بجلی نہیں ملتی! تھر کول پاور پراجیکٹ سے 3000 میگاواٹ بجلی تو پیدا کی جا رہی ہے لیکن سندھ کا عوام اپنی بنائی ہوئی بجلی سے محروم ہے۔ یہ بیان وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کچھ دن پہلے دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں جو بجلی پیدا کی جا رہی ہے اس سے سندھ کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ کیوں کہ تھر میں پیدا ہونے والی بجلی سندھ استعمال نہیں کرتا بلکہ قومی سطح پر وفاق استعمال کرتا ہے۔
مراد علی شاہ نے وفاق سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ جب مالی سال شروع ہوا تو ہم نے وفاقی حکومت کو بتایا کہ ہمیں سندھ حکومت کو ایک منصوبے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے لیکن وفاق نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ”درآمد کوئلے اور ایل این جی پر زیادہ لاگت کے پاور پلانٹس لگانے اور سندھ حکومت کو ونڈ اور سولر پاور پلانٹس لگانے سے روکنے کے بعد اب شمسی توانائی کی طرف رجوع کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اس وقت 40,000 میگاواٹ کے قریب بجلی پیدا کر رہی ہے، لیکن بجلی کی مہنگی قیمتیں عوام، فیکٹریوں اور تجارتی اداروں کے لیے چیلنجز کا باعث بن رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بہت سے صنعتی یونٹ اپنے بجلی کے بلوں سے نمٹنے کے لیے اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس کے باعث پیداوار اور روزگار کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔
ملک کی معیشت میں سندھ کا سب سے اہم کردار ہے اور اہم حصہ ہے، سندھ صوبہ اس وقت قومی معیشت کا 90 فیصد حصہ بناتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، وزیر اعلیٰ نے ان فیکٹریوں کو سبسڈی والی بجلی کی پیشکش کی جو اضافی شفٹوں کو چلانے کا انتخاب کرتی ہیں۔
سی ایم سندھ کا کہنا تھا کہ تھر میں کوئلے کی کان کنی اور پاور پلانٹس کے لیے سندھ حکومت کو انفراسٹرکچر کی ترقی، سرمایہ کاروں کی آمدورفت کے لیے ہوائی اڈے کی تعمیر اور پاور پلانٹس کی مشینری کی سڑک کے ذریعے نقل و حمل کے لیے سجاول پل کی تعمیر پر 2 ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔
”تھر کے کوئلے اور پاور پلانٹس کی اس سرمایہ کاری سے پوری قوم فصل کاٹتی ہے،“ صرف سندھ محروم ہے انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے تھر میں ڈاکٹر ثمر مبارک نے جو منصوبہ شروع کیا تھا وہ وفاقی حکومت کا اقدام تھا، لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ ”اب، صوبائی حکومت اپنے وسائل استعمال کر رہی ہے تاکہ وہاں پراجیکٹ کی وجہ سے چھوڑے گئے اثاثوں کی حفاظت کی جا سکے۔
مراد علی شاہ کے مطابق یہ طریقہ نہ صرف پیداوار کو فروغ دے گا بلکہ ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے روزگار کے مزید مواقع بھی پیدا کرے گا۔ بجلی کا فائدہ اٹھا کر، وفاقی حکومت پر جو اس وقت غیر استعمال شدہ بجلی کے لیے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو ادائیگیوں سے پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ پیداوار میں اضافہ برآمدات میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے، اس طرح زرمبادلہ کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبے سے سندھ کو فائدہ نہیں ہو رہا مگر وفاق کو ضرور ہو رہا ہے۔ اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سندھ کو وفاق نے کتنا محروم رکھا ہے۔ سندھ کے لوگ صرف سندھ حکومت سے مایوس نہیں ہیں مگر ساتھ ہی وفاقی پالیسیوں سے بھی مایوس ہو گئے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کے مراد علی شاہ کی بے بسی اور بے اختیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ تھر کول پراجیکٹ سے بننے والی بجلی جو قومی دارا میں تو شامل ہوتی ہے، مگر اس بجلی سے سندھ کے لوگوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
سندھ حکومت نے نوری آباد سے کراچی تک 100 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے لیے 2014 میں ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی قائم کی۔ سی ایم کے مطابق سندھ حکومت نے سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی قائم کیا ہے تاکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں چھوٹے صنعتی یونٹس کے قیام کو فروغ دینے کے لیے صوبے میں لگائے جانے والے بجلی کے منصوبوں کے ٹیرف کا فیصلہ کیا جا سکے۔
مراد شاہ نے پنجاب کے سمال انڈسٹریز ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں چھوٹی انڈسٹریل یونٹس قائم کیں جس سے مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ اس ماڈل کو دیکھ کر ہم سندھ کے ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں چھوٹی انڈسٹریل یونٹس کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں اور مقامی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے انہیں سستی بجلی فراہم کریں گے۔ اگر سی ایم سندھ حقیقت میں ایسا سوچ رہے ہیں یا اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں صنعتی پیداوار کے نتیجے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ سب سے پہلے تو انفرا اسٹرکچر کو مزید بہتر بنیا جائے تاکہ صنعتی یونٹ کے قیام عمل کے دوراں کوئی مشکل یا حادثہ نہ ہو۔ یہ مراد علی شاہ کا سندھ کے عوام کے لئے بڑا منصوبہ ہو گا۔
دوسری بات مراد علی شاہ نے کم آمدنی والے صارفین کو مفت بجلی فراہم کرنے کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ آف گرڈ رہنے والے صارفین اور 50 سے 100 میگاواٹ بجلی استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔ وزیر توانائی ناصر شاہ کے مطابق تقریباً 80,000 گھرانے ماہانہ 50 میگاواٹ بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں کے ای کے دائرہ اختیار میں 441,483، حیسکو میں 229,338، اور سیپکو میں 125,500 شامل ہیں۔ اسی طرح ماہانہ 100 میگاواٹ بجلی استعمال کرنے والے گھرانوں کی تعداد 1.9 ملین ہے، جن میں کراچی (KE) میں 1,054,000، حیدرآباد ریجن (HESCO) میں 566,427، اور سکھر ریجن شامل ہیں۔ (SEPCO) میں 356,073 گھرانے ہیں۔
دوراں اجلاس وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ میں آف گرڈ گھرانوں کو سولر پاور سسٹم ملنا چاہیے۔ سندھ میں 2.6 ملین آف گرڈ گھرانے ہیں جن میں سے پانچ لاکھ کو پہلے مرحلے میں سولر ہوم سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ ان 26 ایس ایچ ایس کی کل لاگت 25 ارب کے لگ بھگ ہوگی۔
مائیکرو گرڈز: وزیراعلیٰ نے کہا کہ چھ مائیکرو گرڈز، جن میں سے ہر ایک 75 کلو واٹ کا ہے، تمام چھ ڈویژنوں میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر 100 گھریلو کلسٹر کا احاطہ کرنے کے لیے قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ گرڈ 100 کلو واٹ گھنٹہ استعمال کرنے والے گھرانوں کو بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔
تین سولر پارکس: وزیراعلیٰ نے تجویز کے مطابق کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کو بجلی فراہم کرنے کے لیے 305 میگاواٹ کے تین سولر پارکس قائم کیے جائیں تاکہ آن اور آف گرڈ گھرانوں کو بجلی فراہم کی جا سکے۔
ایک کالم نگار اور ریسرچر کی حیثیت میں تجویز دینا چاہتا ہوں کہ سندھ میں ریلیف کے اقدامات اسی طرح نافذ کیے جائیں جیسے پنجاب میں کیے گئے ہیں، سندھ حکومت کو اس ریلیف کی پیشکش کے لیے سب سے پہلے اپنے اخراجات کو کم کرنے ہوں گے۔ اگر سندھ حکومت 14 روپے فی یونٹ ریلیف سندھ کی عوام کو دے رہی ہے تو یہ سندھ کے لوگوں کے لئے ایک اہم قدم ثابت ہو گا، خاص طور پر 500 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کو یہ ریلیف ملنا چاہیے۔
پنجاب کی طرح کا ریلیف پلان اپنانے سے سندھ کے باسیوں پر مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے اور یہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے صوبائی حکومت کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی سے عوام میں احساس محرومی بڑھ سکتی ہے۔ موجودہ معاشی صورتحال میں، اس طرح کے ریلیف کے فوائد لوگوں پر مالی دباؤ کو کم کرنے کی جانب ایک ضروری قدم ہو گا۔


نام سے واضح ہوجاتا ہے کہ تحریر کیسی ہوگی
انجینئر مراد علی شاہ کو میں این ای ڈی کے زمانے سے جانتا ہوں مزید جب ان کے والد عبداللہ شاہ وزیر اعلی تھے۔
محنتی ہونے کے باوجود ہین تو منافرت پسند شخص کہ پیپلز پارٹی کا جب تک یہ چورن بک رہا ہے دہاڑیاں لگی ہوئی ہیں۔
ایک گھر میں اگر چار بھائ ہوں اور کمائی لاکر مان کے ہاتھ پر روک رکھتے ہوں وہاں گھر میں بازار سے خریدی جانے والی چیز سانجھی ہوتی ہے۔ میری تیری نہیں ہوتی اور جب یہ آواز اٹھنے لگے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ سانجھے کی ہنڈیا سے برکت اٹھ گئی۔
مراد علی شاہ اور آپ کو تھر کے کوئلے اور اس کی بجلی سے بڑی تکلیف ہے۔ کیا خیال ہے اس کی کمائی کیا وفاق کو جاتی ہے۔ آئین کے تنظر میں کمائی تو صوبے کو جارہی ہے۔ خریدار ممکن ہے پنجاب یا وفاق ہو۔ جب بیچنے والے کو سودے کے دام مل رہے ہیں تو یہ کیسا شور کہ سندھ کے لوگوں کو بجلی نہیں مل رہی ۔ بجلی کی قیمت تو مل رہی ہے۔
کیا تربیلا اور وارسک سے پیدا ہونے والی سستی ترین بجلی خیبر پختوں خوا کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ نہیں۔ پورا ملک ملک جس میں سندھ بھی شامل ہے ایک عرصے سے استعمال کررہا ہے۔ تو کیا
بلوچستان سے نکلنے والی گیس اگر سندھ کے گھروں میں روشنی اور چولہوں میں آگ ستر سال سے لارہی ہےتو کیا یہ یاد نہیں۔ ظاہر ہے سانجھا ہے۔
کراچی بھی 1973 سے پہلے سندھ کا حصہ نہیں تھا۔ جب کراچی نہ کھپے کا نعرہ لگتا تھا۔
اب کماؤ پوت کراچی پے مال پر چلنے والی سندھ حکومت اور لوگ ۔۔۔کراچی نہ ڈیسوں کا نعرہ لگاتے ہیں۔
بلکہ کراچی کو تو اس کا اختیار دے دو۔ پھر سندھ کی بجلی کی بات کرنا۔
اور کیا خیال ہے جب تھر کے بجلی گھر سے ٹرانسمچن لائن سندھ کے دوسرے علاقوں کے لئے موجود نہیں تو وہ بجلی یہاں کیسے آئے گی۔
اسے کہتے ہیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کروا تھو تھو