ارشد ندیم ریاستی ہیرو یا پروپیگنڈہ ہیرو
بلوچستان میں تاریخ میں پہلی مرتبہ عام لوگوں کا جمِ غفیر سڑکوں پر نکل آیا ہے اور اس جم غفیر میں غالب تعداد عام خواتین کی ہے۔ تحریک پاکستان سے لے کر اب تک شاید یہ پہلا موقع ہے جب خواتین پاکستان جیسی ریاست میں اتنی بڑی تعداد میں اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ ریاست کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ چونکہ اس بار جم غفیر خواتین پہ مشتمل ہے تو ریاست کے لیے مشکل ہے کہ انھیں ریاستی دہشت گرد کہہ کر یا ہندوستانی سازش کا بیانیہ بنا کر غیر متعلقہ کر دیا جائے۔ دوسری طرف گوادر میں عام لوگ اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر ہیں اور مولانا ہدایت الرحمان کی حق دو تحریک کو ریاست مخالف کہہ کر انھیں پابند سلاسل کیا جا چکا ہے مگر بے یقینی پھر بھی وہیں کی وہیں ہے۔ تحریک طالبان اکثر خیبر پختونخواہ میں کہیں دھماکہ کرتی ہے تو کہیں سیکورٹی فورسز پہ حملہ کر دیتی ہے دوسری طرف کاروباری حضرات سے بھتہ خوری کی خبریں گردش میں ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے عام لوگ عزم استحکام کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور انھوں نے اس آپریشن کو مسترد کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں کہ ریاست غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہے اور اس بار چیلنج عام لوگ ہیں۔ کرم ایجنسی اور پارا چنار ایک بار پھر مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا ہے مگر ریاست وہاں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پنجاب میں کسان مختلف جگہوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور نہیں بھی کر رہے تو تحریک کے لیے پر تول رہے ہیں۔ حال ہی میں بنگلہ دیش میں آنے والے انقلاب کے بعد ریاست اضطراب میں ہے اور اس اضطراب کی وجہ پاکستانی طلباء کا تحریک چلانے کا اعلان ہے۔ پنجاب میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے، رینجرز کو پنجاب میں بلا لیا گیا ہے، لوگ بجلی کے بلوں پہ آگ بگولہ ہیں، تحریک انصاف آئے روز ریلیاں نکال رہی ہے اور بھارت پھر سے دھمکیاں دے رہا ہے۔ جبکہ ریاست کے پاس کسی بھی محاذ پہ نمٹنے کے لئے کوئی خاطر خواہ منصوبہ نہیں ہے اور اپنی تمام تر کاوشوں اور جبر کے باوجود ریاست ان تمام چیلنجز پہ قابو پانے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے۔
یعنی ریاست شش جہت سے بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ معاشی دیوالیہ پن کا خوف سر پہ منڈلا رہا ہے بلکہ کچھ وزیر تو دبے لفظوں میں دیوالیہ ہونے کا اقرار کر چکے ہیں۔ فوج آئے دن نئی پریس کانفرنس کرتی ہے اور ہر دفعہ اسے ایک شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس ساری غیر یقینی صورتحال میں ارشد ندیم نامی ایک شخص جو پیرس اولمپکس میں دیگر چھ کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا اچانک ہیڈ لائن بن جاتا ہے۔ یہی اولمپک سکواڈ جس کے ساتھ رانا ثنا اللہ اور دیگر چوبیس ریاستی معاونین کے جانے کی وجہ سے تنقید کی جا رہی تھی یکایک ریاست کی آنکھ کا تارا بن جاتا ہے۔ پورا کا پورا سماجی میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، اخبارات، ریاستی بیانیہ یعنی فوج، حکومت، واپڈا سب کے سب ادارے ارشد ندیم کے قومی ہیرو ہونے کے بیانیہ پر جٹ جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے جیسے ریاست کو تھوڑی راحت نصیب ہوئی ہے اور ہر طرف عوام اور ہجوم کے ہاتھوں حبسِ بیجا میں جانے کا خوف ٹل جاتا ہے۔ ریاست اس بیانیے کو خوب پیسہ لگا کر اوج کمال کو پہنچاتی ہے اور ریاست بطور مجموعی اور ریاست کا ہر ادارہ بطور انفرادی حیثیت ارشد ندیم کو انعامات سے نوازانا شروع کر دیتا ہے۔ ارشد ندیم جو چند مہینے پہلے ریاست کے سوتیلے سلوک کی دہائیاں دے رہا تھا بے شمار انعامات ملنے پہ خوشی خوشی اسی ریاست کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتا ہے۔ ارشد ندیم کو ہوائی اڈے پر لینے خود ریاست جاتی ہے اور وہاں اس کے والد اور خاندان کی تضحیک کو خود ارشد ندیم بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ ارشد ندیم کو اگلے دن وزیراعظم ہاؤس بلایا جاتا ہے اور دیوالیہ ہوئی ریاست میں یہ کام ایک خصوصی طیارے سے لیا جا رہا ہے۔ اب، گھنٹے، دن، ہفتے گزرتے جا رہے ہیں اور ہر طرف یہی کہ ارشد ندیم کو فلاں جگہ بلایا گیا اتنے کروڑ انعام دیا گیا، ارشد ندیم کو آرمی چیف نے بلایا، ارشد ندیم کے پاس وزیر اعلیٰ پہنچ گئی اور اسی طرح کی روزانہ کی بنیاد پر لمبی فہرست۔
ریاست نے اطمینان کا سانس لیا کہ طلباء تحریک، بلوچ خواتین تحریک، تحریک انصاف کی چودہ اگست کی احتجاجی تحریک، بلوں کے مسائل، سب کے سب اپنے آپ ہی پس پشت چلے گئے اور جاہل اجڈ عوام جو کل تک روٹی نہ ملنے پر چیخ رہی تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ لوگ اب نکلے، سب کے سب ریاستی ہیرو والے چورن کا مزہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔ ارشد ندیم ہو یا کوئی بھی اور کھلاڑی یا شخص جسے ریاستی ہیرو کا درجہ دیا گیا ہے وہ پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر خان، مادر ملت فاطمہ جناح، ڈاکٹر عبدالسلام، عبدالستار ایدھی، جہانگیر خان، عمران خان اور اس مثل کئی اور ریاستی ہیرو جو اپنے کارنامے کے اعتبار سے ارشد ندیم سے بہت بڑے تھے، کا انجام دیکھ لیں کہ ریاست دراصل اپنے ہیروز کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ میرے خیال میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر عبدالسلام سے بڑا ریاستی ہیرو کوئی نہیں لیکن اس ریاست نے ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا اس کی مثال رہتی دنیا میں عبرت کا نشان ہے۔ ابھی کھیلوں کی بات کریں تو عمران خان جو آج تک کی تاریخ میں پاکستان کا سب سے بڑا سپورٹس مین مانا جاتا ہے، کے ساتھ ریاست کیا سلوک کر رہی ہے۔
ارشد ندیم خوش ہے کہ اب اس کی نسلیں پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کریں گی۔ ریاست خوش ہے کہ اس بحرانی کیفیت میں انھیں جہلاء کو الجھانے کا کوئی بیانیہ ملا ہے۔ مگر ارشد ندیم کو سوچنا چاہیے کہ اسے جس خطاب سے نوازا جا رہا ہے اس سے پہلے اس خطاب سے نوازے گئے افراد کس انجام کو پہنچے اور آج ان کی کیا حالت ہے۔ دوسرا یہ ریاست اور اس کے ادارے کس حیثیت سے کروڑوں روپے انعام کی مد میں ارشد ندیم پہ وار رہے ہیں۔ یہ ریاست کل تک چیخ رہی تھی کہ قومی خزانہ خالی ہے اور پوری دنیا میں ہاتھ پھیلا رہی تھی کہ کہیں سے کچھ مل جائے۔ آج کی خبر ہے پنجاب وائلڈ لائف ڈی جی نے ارشد ندیم کے لیے بیس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔ افسوس تو ایک چھوٹا لفظ ہے مگر ان کو شرم بھی نہیں آتی کہ جس کام کے یہ ذمہ دار ہیں یعنی وائلڈ لائف کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، لاہور چڑیا گھر میں جانور اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں اور وجہ پیسے کی قلت بتائی جاتی ہے مگر قومی ہیرو کے پروپیگنڈے میں شریک ہونے کے لیے لاکھوں روپے یونہی اڑا دیے گئے ہیں اور سارے بدو، گنوار تالیاں بجا رہے ہیں دیکھو دیکھو کون آیا، ارشد ندیم گولڈ میڈلسٹ آیا۔ ارشد ندیم کا انجام تو طے ہے مگر یہ ریاست اس محکوم جاہل قوم کو پھر سے ایک پروپیگنڈے میں الجھانے میں مکمل طور پر کامیاب ہو چکی ہے۔


