مسئلہ صرف نتاشہ کا نہیں ہے


کارساز حادثے میں نتاشا نامی خاتون کے ہاتھوں ہونے والے انسانی نقصان اور اس پر اٹھنے والے شدید اور یکساں قومی ردعمل سے دیگر قوموں کو بھی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ہم پاکستانی حادثوں اور انسانی جانوں کی قدر و قیمت کے حوالے سے کس درجہ حساسیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستانی لوگ سڑک اور ٹریفک رولز کے حوالے سے بے حد احتیاط کرتے ہیں جن میں سے چند ایک احتیاطیں یہ ہیں ؛

1۔ کبھی بھی ہیلمٹ کے بغیر بائیک نہیں چلاتے۔
2۔ کم عمر بچوں کو بائیک کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے۔
3۔ دو سے زیادہ سواری بٹھانے اور رات کو بغیر لائٹ بائیک چلانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

4۔ لائسنس کے حوالے سے ہم عوام اس قدر سنجیدہ اور حساس ہے کہ لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کرنے والے باقاعدہ گھن محسوس کرتے ہیں۔

5۔ ویگنوں میں جہاں گیس سلنڈر والے بم لگے ہوتے ہیں تمام مسافر نہ صرف اس پر بیٹھنے سے انکار کر دیتے ہیں بلکہ سرعام گاڑی والے کی دھنائی بھی کر دیتے ہیں۔

6۔ مسافر ویگنوں کے ڈرائیوروں کو باقاعدہ فٹنس سرٹیفکیٹ دکھانا پڑتا ہے ورنہ مسافر اس میں بیٹھنے سے نہ صرف انکار کر دیتے ہیں بلکہ پیش نہ کرنے پر ڈرائیور کی چھترول کر کے حوالہ پولیس بھی کر دیتے ہیں۔

7۔ سب سے زیادہ سختی سکول کے بچوں کو لے جانے والے چنگ چی رکشوں پر ہوتی ہے جنہیں رکشہ پر سترہ سے زیادہ بچے بٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی۔

8۔ اوور سپیڈ کرنا، لائن کاٹنا، ہارن بجانا تو گویا اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ہوتا ہے۔ پولیس تو پولیس عام شہری جس کو برداشت نہیں کرتے اور ایسا کرنے والے پر پل پڑتے ہیں۔

ایسے حالات میں جہاں عام شہری اور غریب لوگ تک بھی ٹریفک رولز کی اتنی سختی سے پابندی کرتے ہوں وہاں ایک غیر ملکی ڈرائیونگ لائسنس والی خاتون کو ڈرائیو کرنے سے پہلے سڑک پر پاکستانی رویے سے آگاہ اور حساس ہونا چاہیے تھا۔ اب اگر وہ سمجھ رہی ہیں کہ ان پر ان کی دولت کی وجہ سے اتنی تنقید ہو رہی ہے تو ایسی بات ہرگز نہیں ہے ہم پاکستانی تو ہر سڑک پر ہونے والے ہر ایکسیڈنٹ پر یہی رویہ اختیار کرتے ہیں مگر نتاشہ اور دیگر بڑی گاڑیوں اور چھوٹی سوچ والے امراء چونکہ اس بات سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا وہ اس کو امیر اور غریب کی جنگ قرار دے کر سزا میں تخفیف کے لئے ہمدردی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر عدالتوں میں بیٹھے جج بھی پاکستانی عوام کی طرح ہی انسانی جان اور ٹریفک رولز کی حرمت کے حوالے سے بہت حساس ہیں سو وہ ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔

میری خیال سے دیگر ممالک کو بھی پاکستانی عوام اور عدلیہ کی اس قانون پسندی سے سیکھنا چاہیے اور اپنی سڑکوں اور عوام کو محفوظ بنانا چاہیے۔ اور پاکستانی لائسنسنگ اتھارٹی کو بھی دیگر ممالک کے غیر معیاری لائسنس کو ایسے ہی قبول نہیں کر لینا چاہیے بلکہ اپنے معیاری لائسنس سسٹم سے گزار کر پاکستانی لائسنس ایشو کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ متعلقہ ملک سے رابطہ کر کے اس کے لائسنس کے گھٹیا پنے پر احتجاج بھی کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS