معاشروں کی موجد


ہر جانور کی طرح انسانی معاشرہ بھی اپنی بقا کا انحصار مادہ پر کرتا تھا۔ جس طرح ہر جانور اپنی ماں سے نہ صرف جنم لیتا ہے بلکہ اس کے جسم سے خوراک بھی حاصل کرتا ہے، اور قدرت نے مادہ کو اپنی نسل کا محافظ بھی بنایا ہے۔ انسان چونکہ دیگر جانور سے عقلی طور برتر ہے تو عورت نے اپنی نسل کی اصلاح اور بقا کے لیے حیرت انگیز اقدامات اٹھائے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ اور یہ نظام بائیولوجیکل طور پر ثابت ہے اس سلسلے میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتی ہیں۔

مدرسری نظام میں خواتین برادری اور خواتین کے ادارے اور آپس میں تعلقات بہت مضبوط شکل میں موجود تھے۔ خواتین ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں اور مضبوط بھائی چارے / بہن چارے کا کا تعلق قائم کرتی تھیں، حتیٰ کہ دوسرے قبیلوں کی عورتوں کے ساتھ بھی مراسم دوستانہ تھے۔ ، خواتین کی موجودگی انسانی بقاء کے لئے انتہائی اہم تھی۔ مدرسری نظام میں مردوں کی عدم موجودگی میں خواتین کو بچوں کو جنم دینا، دودھ پلانا، اٹھانا بٹھانا، حفاظت کرنا، صحت یاب کرنا، خیال رکھنا اور ان کی پرورش کرنا پڑتا تھا۔ چوں کہ، خواتین نوع کی بقاء اور تولید کے لئے نہایت اہم تھیں۔ اس لیے خواتین کو عظیم دیوی کے قریب ترین سمجھا جاتا تھا۔

اس وجہ سے، خواتین نبیات اور پجاریہ کے کردار ادا کرتی تھیں، جادو کرتی تھیں اور مختلف زراعت کے آلات تیار کرتی تھیں اور جڑی بوٹیوں سے نسل کی صحت مندی کا خیال رکھتی تھی جو خصوصیات تحقیق دانوں کو اس سلسلے میں حیران کر دیتی ہیں، وہ ہے زمانہ قدیم میں عورتوں کی حکمت اور علم۔

پدرسری نظام میں خواتین کو تعلیم اور علم تک رسائی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے مردوں کی علم اور ذہانت میں برتری کا تاثر قائم رہا۔ لیکن مدرسری دور میں خواتین کے پاس علم تھا۔ خواتین جانتی تھیں کہ شفا کے لئے کون سی جڑی بوٹیاں استعمال کرنی ہیں، کھانا کیسے تیار کرنا ہے، بچوں کی حفاظت کیسے کرنی ہے، مٹی کے برتن بنانے کا طریقہ، کھانے کی چیزیں ذخیرہ کرنے کا طریقہ، کپڑے بنانے کے طریقے اور ان کا استعمال کیسے کرنا ہے۔

حقیقت میں، خواتین ہی سب سے پہلے موجد تھیں۔ وہ سب سے پہلے مٹی کے برتن بنانے، مختلف آلات تیار کرنے میں شامل تھیں۔ تاہم، یہ ترقیاتی عمل خواتین کی بقاء اور اہمیت کی ضرورت کو کم کر رہا تھا۔ عورت نے ہی خاندان، قبیلے اور معاشرے کی بنیاد رکھی یہی وجہ کہ آج بھی ہم اس کی باقیات دیکھ سکتے ہیں عورتوں کے کوئی بھی ایسے عمل یا اقدام جو ان کی ذات کے متعلق ہوں اگر وہ لیتی ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اب معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا، جب کہ اب معاشرہ اس سے کافی اگے نکل چکا ہے۔

اس کے بعد ، خواتین کی قدروں میں کمی واقع ہوئی اور عورتوں نے زراعت، طب اور بہتر زندگی کی طرف معاشرہ کو رواں دواں کیا اور ظاہر ہے اس کی وجہ وہ اولاد تھی جس کو اس نے جنم دیا۔ اس طرح انسان کی بقا میں بہتری آئی اور آبادی میں اضافہ ہوا، یہی وہ دور تھا جب مردوں کی اہمیت میں اضافہ ہوا، کیونکہ وہ جنگجو تھے جو حملہ آور قبائل سے لڑتے تھے یا اپنی خوراک کی حفاظت کرتے تھے جو ان کے مویشی اور زرعی زمین تھیں۔ اب جنگ جو ہونا انسان کی بقاء کے لئے زیادہ اہم ہو گیا اور زیادہ افراد کی موجودگی قبائل کو مضبوط کرتی تھی اس لیے عمل تولید اور صحت کی حفاظت کی ماموری عورت کے سپرد ہوئی، معاشرے کی تبدیلی کے ساتھ اب عورت کی اہمیت کم سے کم تر ہوتی چلی گئی

سب سے پہلے، خواتین کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ اُس تہذیب اور معاشرے میں ترقی کی سب سے پہلے موجد تھیں اور انسانی تاریخ میں جنگل سے تہذیب کا سفر کیا جس کے بعد انہیں کمتر محسوس کرنے کی زنجیروں سے آزاد کر سکتا ہے۔

دوسرا، یہ سمجھنا کہ پدرسری نظام نے دیگر استحصال، جنگ، آلودگی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نشے، اور ناکام معاشروں کو جنم دیا، ۔

سوال یہ ہے کہ، ہم جدید معاشرت میں خواتین کی قدر کو کیسے دوبارہ بحال کریں، جہاں خواتین انسان ہوں انھیں بچہ پیدا کرنے کی مشین کے علاوہ جیتا جاگتا انسان تصور کیا جائے، جب وہ بہترین اور کامیاب نظام وقت کے تقاضوں کے تحت ختم ہو گیا تو یہ مردانہ تسلط زدہ معاشرے کے ناکام نظام کو بھی بدلنا ہو گا،

آخر میں یہ کہوں گی کہ خواتین اپنی حیثیت اور مورال کو بلند کرنا چاہتی ہیں تو ان کا خود کی اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی قدر کرنا، ان کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو با اختیار بنانا بہت اہم ہے۔

Facebook Comments HS