پس ثابت ہوا کہ انسان مجبور ہے، مختار نہیں۔ مکمل کالم


کچھ سوالات ایسے ہیں جن کا جواب انسان ہزاروں سال سے تلاش کر رہا ہے۔ ہم کہاں سے آئے ہیں، کہاں جائیں گے، یہ کائنات قدیم ہے یا حادث، کائنات میں کوئی اور مخلوق ہے یا ہم تنہا ہیں، اگر تنہا ہیں تو اتنی بڑی کائنات کی کیا ضرورت۔ انہی سوالات سے ملتا جلتا ایک سوال یہ بھی ہے کہ انسان مجبور ہے یا مختار، اگر مجبور ہے تو پھر احتساب کیوں کر ہو سکتا ہے، اگر مختار ہے تو پھر اپنی مرضی سے پیدا کیوں نہ ہوسکا۔ یہ سوال اس قدر گنجلک ہے کہ اچھے خاصے فلسفی بھی اِس کا تسلیٰ بخش جواب نہیں دے سکے یا یوں کہیے کہ فلسفے کے پاس اِس کا جواب ہی نہیں۔ مذہب البتہ اِس کا جواب ’ففٹی ففٹی‘ انداز میں دیتا ہے کہ انسان بیک وقت مجبور بھی ہے اور مختار بھی۔ حضرت علیؓ سے ایک واقعہ روایت کیا جاتا ہے کہ کسی نے آپ ؓ سے جب یہ سوال پوچھا تو آپ ؓ نے اُس سے کہا کہ اپنی ایک ٹانگ اٹھاؤ، اُس نے ٹانگ اٹھا دی، پھر فرمایا اب دوسری ٹانگ بھی اٹھاؤ، تو اُس نے جواب دیا کہ وہ تو میرے اختیار میں نہیں، آپ ؓ نے فرمایا ’پس انسان اتنا ہی مجبور اور اتنا ہی مختار ہے۔ ‘

ماضی میں اِس قسم کے سوالات کے بارے میں تاثر تھا کہ جیسے یہ سوالات مذہب اور فلسفے کے دائرے میں آتے ہیں اور سائنس سے اِن کا کوئی تعلق نہیں، بظاہر یہ بات درست تھی، سائنس یہ تو بتا سکتی تھی کہ انسان کے جسم میں خون کی مقدار کتنی ہونی چاہیے یا انسانی جسم میں ہڈیوں کی تعداد کیا ہے لیکن بھلا سائنس یہ کیسے بتا سکتی تھی کہ انسان کا اختیار کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم! لیکن اب ایسا نہیں ہے، سائنس اب اِن معاملات میں بھی دخیل ہے۔ حال ہی میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے، نام ہے
Determined – The Science of Life without Free Will
اور مصنف ہیں رابرٹ سپولسکی جو سٹینفورڈ یونیورسٹی میں حیاتیات اور علم الاعصاب کے پروفیسر ہیں۔

میں نے یہ کتاب گزشتہ ہفتے پڑھنی شروع کی تھی اور ابھی ختم نہیں ہوئی اِس لیے مکمل تبصرہ آئندہ کسی کالم میں کروں گا۔ فی الحال جتنی پڑھی ہے اُس سے میرے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔ سپولسکی کا مقدمہ یہ ہے کہ انسان کلّی طور پر مجبور ہے، اسے کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں، وہ جو بھی عمل کرتا ہے اُس کے پیچھے نیورونز کے عمل اور ردعمل کا لامتناہی سلسلہ ہوتا ہے، اگر ہمیں نیورونز کے باہمی تال میل کا علم ہو تو ہم کسی بھی انسان کے بارے میں یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ مخصوص صورتحال میں کیسا رد عمل دے گا، پس ثابت ہوا کہ انسان مجبور ہے۔

یہ بات میں نے ایک سطر میں بیان تو کر دی ہے مگر یہ اتنی سادہ نہیں ہے، سپولسکی نے اپنے مقدمے کو ٹھوس بنانے کے لیے سائنسی دلائل سے کام لیا ہے جنہیں کوئی ایسا سائنس دان ہی رد کر سکتا ہے جو سپولسکی کے پائے کا ہو۔ لیکن ہمارے ہاں چونکہ ’بے پناہ ٹیلنٹ‘ ہے اِس لیے قوی امید ہے کہ اِس کتاب کے جواب میں کوئی یوٹیوبر دس منٹ کی ویڈیو بنا کر سپولسکی کے مقدمے کی دھجیاں اڑا دے گا۔ معافی چاہتا ہوں کہ میں بھٹکنے لگا تھا، موضوع پر واپس آتا ہوں۔

امریکی فلسفی پروفیسر ولیم جیمز ایک مرتبہ لیکچر دے رہے تھے، موضوع تھا ’زندگی کی حقیت اور کائنات‘ ۔ جب یہ دقیق لیکچر ختم ہوا تو ایک بوڑھی عورت اُن کے پاس آئی اور بولی ’پروفیسر تم نے تمام باتیں غلط کی ہیں۔ ‘ پروفیسر جیمز نے حیرت سے پوچھا ’وہ کیسے مادام؟‘ بڑھیا نے کہا ’کائنات ایسی نہیں ہے جیسی تم سمجھ رہے ہو، دراصل یہ ایک کچھوے کی پشت پر کھڑی ہے۔ ‘

’اور وہ کچھوا کہاں کھڑا ہے؟‘
’وہ دوسرے کچھوے کی پشت پر کھڑا ہے۔ ‘
’لیکن مادام، وہ دوسرا کچھوا کس جگہ کھڑا ہے؟‘
’تم سمجھے نہیں پروفیسر‘ بڑھیا جھلا کر بولی ’نیچے تک سب کچھوے ہی کچھوے ہیں۔ ‘

رابرٹ سپولسکی کا کہنا ہے کہ کالج کے دنوں میں یہ واقعہ ہر کسی کی زبان پر ہوتا تھا اور دوست محفلوں میں ایک دوسرے کو یہ واقعہ مختلف انداز میں سنا کر محظوظ ہوتے تھے لیکن پروفیسر سپولسکی کہتے ہیں کہ میری کتاب میں جو مقدمہ بیان کیا گیا ہے اُس کا بنیادی نکتہ بھی یہی ہے کہ ’نیچے تک سب کچھوے ہی کچھوے ہیں۔ ‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات کتنی ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہو مگر اِس سے زیادہ لغو نہیں ہو سکتی کہ کچھوؤں کی قطار میں موجود سب سے نیچے والا کچھوا ہوا میں معلق ہے۔

اُن کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص حالات میں انسان مخصوص رویوں کا اظہار کرتے ہیں۔ کبھی ہم قدرت کے نظاروں کو دیکھ کر اُن میں کھو جاتے ہیں، کبھی کسی کے حُسن سے متاثر ہو جاتے ہیں اور کبھی چھوٹی سے بات پر بھڑک اُٹھتے ہیں۔ لیکن ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہم وہ رد عمل دیتے ہیں جس کے متعلق ہمارا گمان ہوتا ہے کہ وہ رد عمل ہم نے ’اپنی مرضی‘ سے دیا ہے۔ اِس سوال کے جواب میں پروفیسر سپولسکی کہتے ہیں کہ ہر رد عمل کی کوئی وجہ ہوتی ہے، یعنی اُس کے پیچھے کوئی ایسا عمل ہوتا ہے جو اُس رد عمل کی بنیاد ہوتا ہے، اور اُس عمل کے پیچھے کوئی اور عمل ہوتا ہے اور یوں یہ سلسلہ اسی طرح چلتا چلا جاتا ہے جیسے یہ کہا جائے کہ ’نیچے تک سب کچھوے ہی کچھوے ہیں۔ ‘ اِس بات کی وضاحت سپولسکی یوں کرتے ہیں کہ جب انسان کے دماغ میں کوئی مخصوص رویہ ’جنم‘ لیتا ہے تو دراصل اُس رویے کے پیچھے وہ جبر پنہاں ہوتا ہے جس کی وجہ سے رویے کا جنم ہوتا ہے، اور اُس جبر کے پیچھے ایک اور جبر، اور پھر ایک اور۔ جبر سے مراد یہ ہے کہ دماغ میں موجود نیورونز چونکہ اُس رویے کا باعث بنتے ہیں تو نیورونز کا تال میل ’طے شدہ‘ ہے اور اِس کی وجہ اُس سے پہلے کا کوئی عمل ہے جو نیورونز کے طے شدہ تال میل سے پیدا ہوا تھا اور پھر وہی بات کہ یہ سلسلہ لا متناہی طور پر پیچھے چلتا چلا جاتا ہے۔

اِس کالم لکھنے کے دوران مجھے کئی مرتبہ خیال آیا کہ میں اپنا موبائل فون اٹھا کر دیکھوں کہ کہیں اُس میں کچھ نیا تو نہیں آیا، بظاہر میں نے اپنی مرضی سے ہی اپنا فون دیکھنا تھا، مگر میرا یہ رویہ اُن عوامل کی وجہ سے تقریباً طے شدہ ہے جنہوں نے میرے دماغ کی ایسی ’ٹیوننگ‘ کردی ہے کہ اب مجھے وقفے وقفے کے بعد اپنا موبائل فون دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے، اسی لیے میں نے اپنا فون بند کر کے پرے رکھنا شروع کر دیا ہے۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ یہ بات الٹا اِس کی دلیل ہے کہ انسان مجبور نہیں بلکہ مختار ہے کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے اپنا فون بند کر کے رکھا ہے، لیکن یہاں پھر وہی بات آ جائے گی کہ فون بند کرنا بھی میرے دماغ کا ایک عمل ہے جس کے پیچھے عوامل کا لا متناہی سلسلہ ہے۔

اِس کتاب میں سپولسکی نے یہی ’ثابت‘ کیا ہے کہ ہماری ’مجبوری‘ کس وجہ سے ہے، علم حیاتیات اور ہمارا ماحول کس طرح ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں جن پر ہمارا کوئی زور نہیں چل سکتا اور چونکہ ہم اِن لامتناہی عوامل سے ’لا علم‘ ہیں اِس لیے خود کو مختار سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رابرٹ سپولسکی کا دعوٰی ہے کہ ہمارے دماغ میں کوئی ایک نیورون بھی ایسا نہیں جو از خود کسی ایسے عمل کا باعث بن جائے جو ماضی کے حیاتیاتی عوامل سے ماورا ہو۔ اگر ہم ایسا ایک بھی نیورون تلاش کر لیں تو انسان کے مجبور ِ محض ہونے کا مقدمہ ختم ہو جائے گا اور ہم اسے مختار سمجھنے میں ’آزاد‘ ہوں گے۔ اور جب تک ایسا ثابت نہیں ہوتا، ہم خود کو مجبور سمجھنے پر مجبور ہیں۔

 

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada