ایک منٹ ہولڈ کیجئے!
آپ فون پہ کسی سے مصروفِ گفتگو ہیں اور اسی دوران دوسری طرف سے آپ کو کوئی نمبر، ایڈریس یا کسی دوائی کا نام نوٹ کرنے کا کہا جاتا ہے، اس مقصد کے لئے آپ کو ایک عدد قلم اور کاغذ کے ٹکڑے کی ضرورت ہے۔ آپ فون ہولڈ کرواتے ہیں۔ آپ کی نظر سائیڈ ٹیبل پہ جاتی ہے جہاں آپ نے کچھ دیر پہلے ہی ایک عدد نوٹ بک اور بال پوائنٹ رکھا دیکھا تھا لیکن اب وہاں کچھ نہیں ہے۔
آپ کمرے میں دوسری ممکنہ جگہوں پہ بھی نظر دوڑاتے ہیں، ٹی وی میز کی درازیں، تپائی پہ رکھے لیمپ کے آس پاس، کارنس پہ بچھے گرد پوش کے نیچے، حتیٰ کہ آپ باورچی خانے کی درازیں بھی کھنگال لیتے ہیں لیکن کہیں بھی آپ کو کوئی پین نہیں ملتا۔ فون ہولڈ پہ ہے اور تلاش جاری ہے لیکن بے سود! آخر میں کچھ دیر بعد آپ فون پہ یہ کہتے ہیں کہ مجھے نمبر ٹیکسٹ کر دیں۔
صورت حال اس وقت اور گمبھیر ہو جاتی ہے جب دوسری طرف سے جواب ملتا ہے کہ میں ابھی گاڑی چلا رہا ہوں، فی الحال ٹیکسٹ نہیں کر سکتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نوٹ بک تو مل جاتی ہے لیکن پین نہیں ملتا یا پین مل جاتا ہے لیکن کوئی پیپر نہیں ملتا۔ اس اثنا میں دوسری طرف سے آپ پہ طعن و تشنیع کی برسات شروع ہو جاتی ہے کہ آپ جیسے پڑھے لکھے کے گھر میں کاغذ قلم نہیں ہے۔ بڑی تلاشِ بسیار کے بعد آپ کو ایک عدد سکہ ٹوٹی پینسل مل پاتی ہے اور آپ کونسول پہ رکھے بجلی کے بل یا کسی خط کے لفافے کی پشت پہ وہ نمبر یا ایڈریس نوٹ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ تاہم ایسا بھی ہوتا ہے کہ فون کرنے کے بعد جب آپ دوبارہ اس نمبر کو پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ٹوٹے ہوئے سکے کی وجہ سے سمجھ نہیں آتا کہ نو کے بعد اُس نے صفر لکھایا تھا یا آٹھ۔
شاید اس الجھاوے کی وجہ یہ ہو کہ آج کل گھروں میں لینڈ لائن فون کا استعمال تقریباً متروک ہو چکا ہے اور ہر کوئی اپنے موبائل فون کے ذریعے باقی دنیا سے رابطے میں ہے۔ ہمارے زمانے میں لینڈ لائن فون کی ایک شان ہوا کرتی تھی۔ گھر میں ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ فون کی بھی ایک جگہ مقرر ہوتی تھی۔ عموماً کمرے کے ایک کونے میں کوئی چھوٹی میز ایسے فون کے لئے مخصوص ہوتی تھی، جس پہ پین اور چھوٹی نوٹ بک اور ایک عدد ڈائری جس میں تمام فون نمبر لکھے ہوتے تھے، ضرور رکھے جاتے تھے اور قریب ہی ٹیلیفون کی ایک موٹی سی ڈائریکٹری بھی پڑی رہتی تھی۔ تب ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ کاغذ اور قلم بآسانی ہاتھ کی رسائی میں ہوتے تھے۔ لیکن اب لوگوں کے غالب اکثریت کے ہاتھ میں موبائل آ گیا اور قلم کی مدد سے ہاتھ سے لکھے مدت ہو چکی ہے۔ کہنے کو ہم نے دنیا بھر کی معلومات کو اپنی مُٹھی میں بند کر لیا ہے لیکن دوسری طرف عالم یہ ہے کہ ضرورت کے وقت ہم کاغذ و قلم جیسی معمولی اشیاء بھی مہیا نہیں کر پاتے۔
یہ روئیداد انفرادی نہیں ہے یا صرف کچھ محدود لوگ ہی اس کا شکار نہیں ہیں۔ ہم سب کو روزانہ ایسی ہی کسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی دکان دار کے پاس مطلوبہ چُھٹا نہیں ہوتا اور وہ اس کی جگہ آپ کو گولی ٹافی دے کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاجر اپنی آمدنی کا حساب نہیں رکھ پاتے کہ سال کے آخر میں اس کے مطابق غربا میں زکوٰۃ اور حکومت کو ٹیکس ادا کر سکیں۔ فون کی دوسری طرف پورا نظام ہولڈ پہ ہے لیکن کوئی جائیداد کی مطلوبہ رسیدیں ڈھونڈھنے سے قاصر ہے اور کسی کو بھرے مجمعے میں لہرایا ہوا سائفر نہیں مل پا رہا۔


