میں خدا پرست ہوں
سائیں امر جلیل کہتے ہیں ”میں مسلمان ہوں اس لئے کہ میں نے مسلمان کے گھر میں جنم لیا اگر میں کسی ہندو یا عیسائی کے گھر جنم لیتا تو یقیناً ہندو یا عیسائی ہوتا“
میں خدا پرست ہوں میرے پاس خدا کے انکار کی کوئی دلیل نہیں ہے، نہ ہی میرے پاس اس کے ہونے کا کوئی مادی ثبوت ہے۔ مذاہب کہتے ہیں وہ عقل سے ماورا ہے، سائنس کہتی ہے جو مشاہدے اور تجربے سے ثابت ہو وہ ہی حقیقت ہے۔ فلسفی صوفی، شعرا اس گورکھ دھندے کو سلجھاتے سلجھاتے اس میں خود ہی الجھ کہ رہ گئے، میرا علم ناقص ہے، نہ ہی میں اتنا ذہین آدمی ہوں کہ وثوق سے کوئی حتمی رائے قائم کر سکوں۔ جتنا پڑھتا ہوں اتنا ہی الجھتا جاتا ہوں، ایک سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے کتابیں کھنگالتا ہوں تو مزید سینکڑوں سوال میرے آگے سر اٹھا کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
میرے صوفی دوست کہتے ہیں خدا کتابوں میں نہیں ملتا وہ غور و خوض سے ملتا ہے، مراقبے سے ملتا ہے، ریاضت سے ملتا ہے، مرشد کی معرفت ملتا ہے۔ میں خدا کی تلاش میں بھی نہیں ہوں۔ جس جگہ میں رہتا ہوں اس کائنات میں اس جگہ کی حیثیت وسیع ریگستان میں ریت کے ایک ذرے برابر بھی نہیں ہے تو پھر اس وسیع و عظیم کائنات میں میری کیا اوقات ہے، میرا ہونا نہ ہونے کے برابر ہو جاتا ہے۔
میں چند سادہ سے سوالوں کے جوابات کے لئے سرگرداں ہوں، وہ سوال جن کے جواب پانے کے لئے جوش ملیح آبادی تمام عمر ہاں اور ناں کے بیچ لٹکتے رہے۔ جو سوال مجھے ستاتے ہیں وہ سوال کرنے سے ڈرتا ہوں کہ شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے، ہر کسی کے ہاتھ میں اپنے اپنے عقیدے کا پتھر ہے۔ میں اتنا بہادر آدمی بھی نہیں کہ مسکراتے ہوئے زہر پی لوں، یا خوشی سے ایک بے نام ہجوم کی سنگ باری برداشت کر سکوں۔ جرات بلاول سے سدا محروم رہا ہوں، کولہو میں اپنی ہڈیوں کی کڑکڑاہٹ سننے کی جرات نہیں ہے مجھ میں۔
میں جب تیسری جماعت میں پڑھتا تھا تو میں نے اپنے اسکول کے ایک استاد سے پوچھا تھا ”یہ ہوائیں کدھر سے آتی ہیں جواب میں ایک زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پہ رسید کر دیا گیا تھا کہ میں خدا کے رازوں میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں،
مگر وہ تھپڑ میرے ذہن میں اگنے والے سوالوں کے سلسلے کے آگے بند نہ باندھ سکا،
ہاں اس تھپڑ نے مجھے سوال کرنے پہ خاموش ضرور کر دیا تھا، پھر وہ سوال میں اپنے آپ سے پوچھنے لگا پھر کتابوں سے پوچھنے لگا جو سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
آپ میرے ہاتھ کی کلائی یا میرے گلے میں پہنے کالے یا سفید دھاگے کو دیکھ کر مجھے توہم پرست سمجھ سکتے ہیں مگر میں توہم پرست نہیں ہوں، میں جانتا ہوں دھاگے تعویذ ٹونے ٹوٹکے ہمیں نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں نا ہی کوئی نقصان، یہ الگ بات ہے کہ شادی کو چھ سال گزر جانے کے بعد بھی میں اپنی بیوی کو دھاگوں ٹونوں کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں قائل نہیں کر سکا ہوں۔ میں اس کے عقیدے کا مان رکھنے کے لئے گلے یا بازو میں کالا سفید دھاگہ بھی باندھ لیتا ہوں،
میرا کسی فرقے سے کوئی تعلق نہیں، تمام مذاہب میری نظر میں معتبر ہیں، مگر ماورائے عقل بدعتوں کو میرا ذہن ماننے کو تیار نہیں۔
میرا ایک لیکھک دوست مجھے اپنے مرشد کے پاس لے گیا، مجھے اس کے مرشد میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی، نہ ہی اس کے سماع کی محفل میرے سوالوں کے جواب دے سکی، دوست نے کہا سوال نہ کر سر تسلیم خم کر اپنی روح و دل کو مرشد کی بارگاہ میں پیش کر اپنے ہونے کا انکار کر اور جز سے کل میں شامل ہو جا۔ میں نے سر تسلیم خم کیا مگر مجھے میری روح محسوس نہ ہوئی میں صرف جسم تھا اور جسم کو ہی محسوس کر سکتا تھا۔ دل کے محسوسات دھڑکن سے زیادہ کبھی محسوس نہیں ہوئے۔ میں اپنے لیکھک دوست کے مرشد کی محفل سے بے فیض ہی لوٹ آیا۔
میرا ایک شارٹ اسٹوری رائٹر دوست ہے جو طالب علمی کے زمانے میں بپا جانی کی مریدی میں چلا گیا تھا، ان کے ہاتھ پہ بیعت کی تھی مگر اس نے جلد ہی بپا جانی کی بیعت سے منہ پھیر لیا، مریدی کے دھاگے توڑ دیے، پگڑی اتار کے پھینک دی، وہ نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہو گیا تھا اور اب تک سائیکاٹرسٹ سے ٹریٹمنٹ کرواتا ہے، نیند کی گولیوں لئے بغیر سو نہیں پاتا ہے۔ پھر وہ شیعیت کی طرف راغب ہو گیا، وہ وہابیوں کی مسجد میں نماز پڑھتا ہے اس سے اس کی شیعیت کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ جس عقیدت مندی سے تعزیے اور علم چومتا ہے میں اس عقیدت مندی کو ترستا ہوں۔
میں ایک عورت کو جانتا ہوں جس کو روزہ افطار کرنے کے لئے کھجور کا ایک دانہ بھی میسر نہ تھا، وہ ہری مرچ کوٹ کر اس میں باسی لسی یا پانی ملا کر مرچوں کی چٹنی پہ روزے سحر و افطار کرتی تھی، باسی روٹی سے مرچوں کی چٹنی کے ساتھ نوالہ لیتے وہ جس سعادت مندی سے شکر خدا بجا لاتی تھی ویسی سعادت مندی میرے حصے میں کبھی نہیں آئی۔
میرے ایک صحافی دوست نے مجھے نماز پڑھنے کی تلقین کی میں نے اس کے ساتھ زندگی میں پہلی بار رمضان کے تیس روزے رکھے پنجگانہ باجماعت نماز پڑھی۔ وہ اکثر کہتا جو سکون نماز پڑھنے میں ہے وہ دنیا کے کسی اور کام میں نہیں۔ میں اس سکون کو ترستا رہا ہوں۔
میرے گاؤں سے تھوڑے فاصلے پہ ایک معروف ولی اللہ کا مزار ہے لوگ اسے روحانی سرجن کہتے ہیں لوگ یہ بھی کہتے ہیں یہاں لاعلاج بیماریوں کے مریض شفا پاتے ہیں اور دور دراز سے حاجت مند آتے ہیں۔ میری ماں کو کینسر تھا میں اپنی ماں کو ساتھ لے کر مزار پر گیا، منت مانی مگر میری ماں شفا یاب ہونے سے پہلے کینسر میں مر گئی۔ میں اور میری ماں پڑوس کے روحانی سرجن کے فیض شفا سے محروم رہے، ہو سکتا ہے یہ میرے ایمان کی کمزوری ہو کہ میں ہر جگہ سے بے فیض ہی لوٹا ہوں۔
نوجوانی کے زمانے میں جب میں پہلے عشق کی بری طرح سے ناکامی پہ ٹوٹ چکا تھا تب مجھے ایک فقیر ملا تھا جس کا کل اثاثہ ایک نارنجی رنگ کی تار تار پگڑی، ہاتھ میں پکڑا اکتارہ، بدن پہ پہنا پیوند لگا شلوار قمیض کا جوڑا، گلے میں پہنی چند مالائیں، کنٹھے، ہاتھ کی انگلیوں میں مختلف اقسام کے پتھر جڑی انگوٹھیاں، کلائیوں میں پیتل کے کڑے اور پیر میں پہنے ایک کڑے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ میں نے اس فقیر سے کہا میرا بھی من کرتا ہے میں آپ کی طرح کا لباس اور مالائیں پہن کر نکل پڑوں، در در کی خاک چھانوں، اپنے وجود کا منکر بن جاؤں، اپنی ہستی کو نیست و نابود کردوں تو فقیر نے مجھے عبدالمجید کا ایک کلام سنایا تھا۔
جی میں آتا ہے کہ میں جوگی بنوں
دربدر مجھ سے پھرا جاتا نہیں
جی میں آتا ہے کہ میں سجدہ کروں
بے نمازی ہوں جھکا جاتا نہیں
میں طویل عمر ان چار مصرعوں کے سحر میں رہا ہوں دربدری کی کبھی ہمت نہ کر پایا، جوگ لینا میرے بس کی بات نہ تھی، اور سجدہ کرنے سے بھی قاصر ہی رہا۔
فنا، عقیدت، سعادت، خود سپردگی کا یہ فلسفہ مجھے حیرت کی اتھاہ گہرائیوں میں لے جاتا ہے وہ کیا ہے جو انسان سے گھر گھاٹ رشتے ناتے، زندگی کی رنگینیاں رونقیں سب تیاگنے پر اکساتا ہے، جو باسی روٹی سے مرچوں کی چٹنی کھا کر بھی شکر بجا لانے پر مجبور کر دیتا ہے، وہ کیا ہے جو دکھتا نہیں مگر محسوس ہوتا ہے، جس نے مجھے اس کو محسوس کرنے سے محروم رکھا ہے۔

