انٹرنیٹ کی دنیا میں گُم انسانی رشتے


انٹرنیٹ کے دور سے پہلے زندگی گزارنے کا انداز بہت ہی مختلف تھا، جہاں زندگی کا ہر کام ہر پہلو آج کے دور سے مختلف تھا۔ آج میں اور آج کے نوجوان شاید اس دور کا تصور بھی نہ کر سکیں گے جب انٹرنیٹ نہیں تھا، لیکن اس وقت کی سادگی اور خوشیوں کا اپنا ایک الگ ہی مزہ تھا۔ انٹرنیٹ کے بغیر زندگی کی رفتار سست تھی، لیکن اس سست رفتار میں ایک خوبصورتی ایک مزہ تھا جس سے آج نہ صرف میں بلکہ آج کے نوجوان محروم ہیں۔ وہ خوبصورتی جس کا ذکر میں کرر رہا ہوں وہ یہ ہے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے، لمبے لمبے قصے سنتے، سناتے، اور اپنی زندگی کے تجربات کو بیان کرتے تھے لوگ شام کو گھروں کے باہر بیٹھ کر گپ شپ کرتے تھے، یا پھر شاید ٹیلیویژن اور ریڈیو پر کچھ گھنٹے گزارا کرتے تھے۔

ماحول بچوں کے لیے کھیل کُود کا تھا، جہاں وہ گلیوں محلوں میں کھیلتے، بھاگتے دوڑتے اور ہنستے تھے۔ اس وقت کی سادگی، معصومیت، خوشیاں اور محبتیں آج کے دور کی مصروفیت اور تیز رفتاری سے بہت الگ تھیں۔ انٹرنیٹ کے آنے کے بعد جو سب سے بڑا نقصان ہوا وہ یہ تھا کہ تعلقات بگڑتے گئے، لوگوں میں مُحبتیں ختم ہوتی گئیں اور ہر انسان مصروف ہو گیا۔ انٹرنیٹ نے ہمیں ایک دوسرے سے دُور کر دیا ہے۔ اب ہم گھنٹوں اسکرینز کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، لیکن اپنے قریب بیٹھے لوگوں کے ساتھ بات کرنے کا وقت ہمارے پاس نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر موجود دوستوں کی تعداد تو بڑھ گئی ہے، مگر اصل زندگی کے دوست کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ گھنٹوں گیمز کھیلتے ہیں یا بے مقصد ویب سائٹس پر وقت ضائع کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے، بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے کہ موٹاپا، آنکھوں کی کمزوری اور کمر درد وغیرہ۔

ہمیں اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے تاکہ ہم اس کے منفی اثرات سے بچ سکیں۔ تعلقات بگڑتے گئے، لوگوں میں محبتیں ختم ہوتی گئیں اور ہر انسان مصروف ہو گیا، یہ بزرگوں سے سنی ہُوئی باتیں ہی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کا سامنا ہمیں آج کے دور میں کرنا پڑ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے فوائد اپنی جگہ مگر اس کے نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments HS