پاک بھارت تعلقات میں تجارت کا کردار

پاکستان بھارت جھگڑوں کا مستقبل کیا ہے؟ دنیا میں کوئی بھی اس کے بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ کافی عرصے پہلے ممبئی حملہ کی وجہ سے مذاکرات منسوخ ہوگئے تھے۔ اور ہمارے وزیر خارجہ کو دہلی سے بہت جلدی میں واپس آنا پڑا تھا۔ ماضی قریب میں پٹھان کوٹ اوراڑی کے الزامات نے بات مزید بگاڑ دی۔ دونوں واقعات سے حکومت پاکستان کا کوئی تعلق ثابت ہی نہیں ہوا۔ جھگڑوں اور مسائل کو اب تقریباً پون صدی ہونے کو آرہی ہے۔ جمود ٹوٹنے میں نہیں آ رہا۔ کشمیر،سیاچن تو پہلے ہی مسائل تھے۔ اب سندھ طاس معاہدے کے بارے یکطرفہ دھمکیاں دیکر بھارت نے حالات کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ہمارے دریاؤں پر بننے والے ڈیموں پر توبات ہوتی رہتی ہے۔ اب بھی مذاکرات کا دور لاہور میں ہونے والا ہے۔ دونوں ملکوں میں گرما گرمی گھٹنے کی بجائے اب مزید بڑھتی نظر آتی ہے۔ بھارت نے Surgical Strikesکے جھوٹے دعوے بھی کئے لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہی ہوتا ہے۔ ایسی بڑھکوں کو پاکستانی بہادر افواج نے دلائل کے ساتھ مسترد کردیا۔ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حالات نارمل نہیں ہیں۔ لاہور اور سہون شریف دھماکے کے بعد افغانستان سے تجارتی راستے بند کردیئے تھے۔ حالات مغربی سرحد پر بھی معمول کے مطابق نظر نہیں آتے۔ بھارت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان پر مغرب سے بھی دباؤ بڑھایا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت سالہا سال سے جاری ہے۔ لیکن ڈیورنڈ لائن کو افغانستان بھی سر حد ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ بھارت کے بڑے پیمانے پر تعاون کے بعد اب افغانستان بھی بھارت جیسا سخت رویہ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لئے ان دونوں سے تعلقات نارمل کرنا اب وقت کی ضرورت ہے۔ افغان راستے تو اب بتدریج کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ بھارت کے ساتھ حالات کو ٹھنڈا رکھنا بھی ضروری ہے۔
پاک،بھارت تجارت تقریباً ہر دور میں کبھی کم اور کبھی زیادہ جاری رہی ہے۔ اور حالات کو نارمل رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ تجارت کی مکمل بندش کا دورانیہ 1965ء سے1974ء تک ہے۔ بعد میں دونوں ملکوں نے تجارتی راستے کھولے۔ ایک مسئلہ MFN کی حیثیت کا ہے۔ عالمی تجارت کو کنڑول کرنے والا ادارہ W.T.O.چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک آپس میں کھلے عام تجارت کریں۔ ٹیرف اور نان ٹیرف پابندیاں ختم کردیں۔ ایک ملک نے کسی دوسرے ملک کو جو تجارتی سہولتیں دی ہوں۔ اس کا اطلاق سب کے لئے ہو۔ یہW.T.O.کے دور کے تقاضے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک تجارت کے راستے کی پابندیاں ختم کرتے جارہے ہیں۔ اس لئے گزشتہ 2 دہائیوں میں عالمی تجارت کا حجم بھی کئی گنا بڑھا ہے۔ بیرونی تجارت کو اب Talk of the world کہا جانے لگا ہے۔ اس پس منظر میں بھارت نے 1996ء میں ہی پاکستان کے لئے MFNکی حیثیت کا اعلان کر دیا تھا۔ جواب میں بھارت بھی پاکستان کی طرف سے ایسے ہی اعلان کا منتظر رہا۔ لیکن بھارت کے ساتھ پاکستان کے بڑے اہم اور بنیادی جھگڑے ہیں۔ مشرف جیسا آمر بھی اپنے دور میں بھارت کے لئے Most Favoured Nation(صرف تجارت کے لئے پسندیدہ قوم) کا اعلان نہیں کر سکا۔ پاکستانی سرکاری قیادت اور عوام کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اگر ہم نے بھارت کو MFN کی حیثیت دے دی تو ہم آئندہ مسائل پر گفتگو بھی نہیں کرسکیں گے۔ لیکن اس حیثیت کا تعلق جیسا کہ ماہرین بھی بتاتے ہیں صرف اور صرف تجارت کرنے سے ہے۔
پیپلز پارٹی کے دور میں کابینہ نے اجلاس میں ایک دفعہ بھارت کے لئے ایسی حیثیت کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن عمل درآمد کے راستے میں اتنی رکاوٹیں تھیں کہ فیصلے کو صرف کاغذوں تک ہی محدود رکھنا بہتر سمجھا گیا۔ سیکیورٹی اور دفاع کے ادارے بھی بھارت جیسے ملک کے لئے یہ اعلان سننے کے لئے تیار نہیں۔ کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ یہ اعلان پلٹن میدان ڈھاکہ (سابق مشرقی پاکستان) میں ہتھیار پھینکنے سے بھی زیادہ تباہ کن ہوگا۔ جب دو ملکوں کے درمیان فضا دشمنی کی ہو تو پھر تجزیے بھی ایسے ہی ہوں گے۔ تجارت دونوں کے فائدے کے لئے ہوتی ہے۔ 25 سال پہلے جب ایک "مطالعہ” کے حوالے سے حکومت کو تجویز دی گئی کہ بھارت سے تجارت دونوں یعنی عوام اور حکومت دونوں کے لئے فائدہ مند ہوگی۔ تب بھی حکومت "شاہینوں کی لابی” سے خوف زدہ تھی اور بڑے پیمانے کی بجائے تجارت محدود ہی رہی۔ تجارتی تنظیموں کی رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ کچھ کی رائے کے مطابق تجارت کا حجم بہت جلد کئی گنا بڑھ جائے گا۔ صارفین اور حکومت دونوں کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ دوسرے کہتے ہیں کہ پاکستان کی کمزور اور چھوٹی صنعت بھارتی اشیاء کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ ایک بات ایسی تنظیموں کی درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا (Semi Finished Goods) برآمد کرتا ہے۔ ایسی اشیا کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کو تجارت میں خسارہ رہتا ہے۔ بھارت پاکستان روایتی تجارت اگرچہ اب چھوٹے پیمانے پر ہورہی ہے۔ لیکن اس سے اب بھی پاکستان کو خسارہ ہوتا ہے۔ غیر روایتی تجارت (بذریعہ دبئی) میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔ بھارت کی4۔ ارب ڈالر کی اشیا اب بھی بالواسطہ طورپر پاکستان میں آکر فروخت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی بھارت کو برآمدات اب بھی70۔ کروڑ ڈالر سالانہ سے نہیں بڑھتی۔ پاکستان کی معیشت ہی بھارت سے چھوٹی ہے۔ لہذا تجارت میں بھی یہ فرق قائم رہے گا۔ اس خسارے کے باوجود ایک کام دونوں ملکوں کے عوام کے لئے فائدہ مند نظر آتا ہے۔ کہ جوتجارت اب دبئی کے راستے ہو رہی ہے۔ اسے بلاواسطہ Direct))کردیا جائے۔ اشیا کے نرخ کافی کم ہوجائیں گے۔ پاکستانی اور بھارتی عوام کو دونوں ملکوں کی اشیا سستی دستیاب ہونگیں۔ آخر پاکستانی صنعت کب تک تحفظات Protections))کے سہارے چلتی رہے گی؟۔ ہوسکتا ہے کہ تجارت سیاسی مذاکرات کی بحالی کا بھی ذریعہ بن سکے۔ دونوں ملک تجارت کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے دیں۔

