جذبات سے کام لیا جائے یا حکمت عملی سے؟

2004 یا 2005 کی بات ہو گی۔ سوشل میڈیا کا ہوا آج جیسا نہیں تھا۔ کمپین یا تو یاہو گروپس سے چلتی تھی یا پھر بڑے پیمانے پر ای میلز فاروڈ کر کے۔ انہی دنوں کسی نے وکی پیڈیا (wikipedia) پر نبی کریم ﷺ کی زندگی پر مضمون شائع کیا جس میں تصاویر اور کچھ گستاخانہ پیراگراف شامل تھے۔ اب لوگوں نے دھڑا دھڑ ای میلز فارورڈ کرنا شروع کر دیں کہ اس ایڈریس پہ یہ مواد موجود ہے۔ ظاہر ہے ایسی ای میلز مجھے بھی آئیں اور بار بار آئیں کیونکہ ہاٹ میل اور یاھو کے سارےکانٹیکٹس کو اکٹھی بھیجی جاتی تھی تو وہ بار بار آتی تھی۔ میں یونیوسٹی میں تھا اور یہ اس وقت کا ایک گرما گرم موضوع تھا شاید پہلی دفعہ تھی کہ ہم انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو پتہ چلا کہ انٹرنٹ پہ اس طرح کے معاملات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

جب میں اس لنک پہ گیا تو کسی ایڈمنسٹریٹر لیول اکاؤنٹ​ نے تصاویر اور گستاخانہ مواد ختم کر دیا تھا جو ہسٹری میں پڑھا جا سکتا تھا اب میں نے بھی وہ مواد پڑھا، مجھے بھی غصہ آیا۔ ہیں۔ خیر کچھ عرصے بعد وکی پیڈیا (wikipedia) پاکستان میں کچھ عرصہ کے لیے بند ہو گئی۔ اس واقعے کے کئی ماہ بعد تک اس قسم کی ای میلز آتی رہیں، یاہو گروپس میں بھی وقتاً فوقتاً یہ معاملہ اٹھتا رہا جب تک سپامرز (مارکیٹنگ کی غرض سے غیر ضروری ای میلز بھیجنے والے) نے ٹھیک ٹھاک ای میل ایڈریسز نہیں حاصل کر لیے لیکن افسوس کی بات کہ کسی بندے کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ صرف ایک کلک کے دیکھ لے کہ آیا جس گستاخانہ مواد کے متعلق وہ معلومات کو آگے پہنچا رہے ہیں وہ موجود ہے بھی کہ نہیں یا کم از کم کوئی طریقہ ہی ڈھونڈ لیں کہ اس کو ختم کیسے کیا جائے۔

یہ ساری تہمید میں نے اس لیے باندھی ہے کہ اب ہمیں انٹرنیٹ کو سماجی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے دس سال سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ہم آج بھی نہیں سیکھ سکے کہ اس طرح کے معاملات میں کرنا کیا ہے۔

ھم آج بھی #listenmarkzuckerberg جیسے ہیش ٹیگ لگا کر اور سٹیٹس میں اپنے ایمان کی انگریزی میں تجدید کر کے سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہو گیا ہے۔ آج بھی کوئی ان قواعد و ضوابط کو نہیں پڑھتا جن کی بنیاد پہ فیس بک قابلِ نفرت مواد کو ختم کرتا ہے۔

میں نے درجنوں کے حساب سے بھارتیوں کی بلوچستان کے متعلق نفرت انگیز مواد کی حامل پروفائلز اور پیجیز ختم کروائے ہیں اور صرف ایک رپورٹ پر۔ صرف چند واقعات میں مجھے اپنے قریبی دوستوں سے رپورٹ کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔

یاد رکھیں جب جنگ دشمن مسلط کر دے تو پھر اسی کے جیسے ہتھیاروں، اسی کے تعین کردہ میدان اور اسی کے بتائے وقت پر لڑنا پڑتی ہے ان تینوں میں سے کسی ایک سے بھی بھاگیں گے تو نتیجے میں ”اللہ کرے انگریزوں کی توپوں میں کیڑے پڑیں“ اور #listenmarkzuckerberg جیسے محاورے ہی وجود میں آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words