آٹھ ستمبر بحری تاریخ میں سنہری باب
بحریہ یا میری ٹائم فورس کسی ملک کی مسلح افواج کی وہ شاخ ہے جو بنیادی طور پر بحری یعنی دریا کے کنارے، ساحلی علاقے، یا سمندر میں پیدا ہونے والی جنگی کارروائیاں اور متعلقہ افعال کی دیکھ بھال کرے۔ بحریہ کا تزویراتی جارحانہ کردار کسی ملک کے ساحلوں سے باہر کے علاقوں میں سمندری راستوں کی حفاظت کرنا، قزاقی کو روکنا یا ان کا مقابلہ کرنا، ۔ بحریہ کا تزویراتی دفاعی مقصد دشمنوں کی طرف سے سمندری پروجیکشن آف فورس کو مایوس کرنا یا مقابلہ کرنا۔ اس میں سطحی بحری جہازوں، ایمفیبیئس بحری جہازوں، آبدوزوں، اور سمندری ہوا بازی کے ساتھ ساتھ ذیلی معاونت، مواصلات، تربیت اور دیگر شعبوں کے ذریعے کی جانے والی کوئی بھی چیز شامل ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور سیکورٹی بحری اور سمندری پہلو بہت اہم ہیں۔ بحری قوت کو عام طور پر بے قاعدہ جنگ میں زمینی افواج کے لیے ایک معاون کردار ادا کرنے کے لیے سمجھا جاتا ہے، بحری افواج کی صلاحیتوں اور خصوصیات بحری حدود میں فوجی آپریشن کرنے کی منفرد صلاحیتوں کی حامل فورس۔ بحری اڈہ ایک بندرگاہ ہے۔ تاریخی طور پر مضبوط بحری افواج والی قوموں نے سٹریٹجک مفاد کے شعبوں میں فائدہ حاصل کیا ہے۔
پاک بحریہ 1947 ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد وجود میں آئی، یہ بحری حدود اور سمندری اور ساحلی مفادات کی محافظ اور دفاعی افواج کا حصہ اور دفاعی افواج کے بحری جنگ و جدل کی شاخ ہے۔ 1,046 کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اور اہم شہری بندرگاہوں اور فوجی اڈوں کے دفاع کی ذمہ دار ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کی حمایت میں ملکی اور غیر ملکی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ پاکستان کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے۔ عالمی دہشت گردی، منشیات سمگلنگ اور قزاقی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے مارچ 1948میں پاکستان نیول اکیڈمی منوڑہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا "آج پاکستان کے لیے ایک تاریخی دن ہے خاص کر ان لوگوں کے لیے جو بحریہ میں ہیں۔ مملکتِ پاکستان اور اس کے ساتھ ہی ایک نئی بحریہ، شاہی پاک بحریہ وجود میں آ گئی ہے۔ مجھے فخر ہے کے مجھے اس کا سربراہ اور آپ کے ساتھ مل کر اس کی خدمت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ میرا اور آپ کا فرض ہے کے آنے والے مہینوں میں اس بحریہ کو ہم ایک مستعد اور خوش باش بحریہ بنائیں“
سمندر تجارت: بہت اہم تجارتی راستوں کی حفاظت دنیا اور پاکستان بحری تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان بحریہ نے بحیرہ عرب میں میری ٹائم سیکیورٹی بحری جنگی جہازوں کو تعینات بہت اہم رول ادا کر رہی ہے۔ کثیر الملکی مشقیں: پاکستان بحریہ بحیرہ عرب تجارتی راستوں کے حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نہ صرف مسلسل پٹرولنگ، تجارتی گزرگاہوں کی مسلسل فضائی نگرانی ہماری بحریہ خطے میں بحری امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے اپنی قومی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ نیز 2010 کے سیلاب میں بڑی تعداد میں امدادی کارروائیاں ”آپریشن مدد“ کے تحت پاکستان بھر میں 352,291 سے زائد افراد کو بچایا۔
عسکریت پسندی کے خلاف مہم تیز کی تو بحریہ نے ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف مہم کے حصہ کے طور پر فضائیہ اور زمینی لڑاکا دستوں کے ساتھ زمینی فوج کے شانہ بشانہ طالبان کے خلاف مغربی سرحدوں پر لڑائی میں حصہ لیا۔ اس میں ایس ایس جی این (سپیشل سروس گروپ نیوی) یعنی پاک بحری کمانڈوز آپریشن شامل ہیں۔ نیول سٹریٹیجک فورس کمانڈ جوابی جوہری حملے کی صلاحیت کی حامل ہے،
نیوی کا امن کارروائیوں میں اہم رول ہے۔ سونامی سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ میں امداد اور بچاؤ کے کام میں مدد، مالدیپ جزائر سے پھنسے سیاح/مقامی لوگوں کے انخلاء انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سفارتی اور مالی امداد کے ساتھ انڈونیشیا تک بحری جہاز روانہ کیے۔
1999 ء کی پاک بھارت کارگل جنگ میں شرکت محدود ساحلی علاقوں میں غیر لڑاکا مشنوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سویلین اور فوجی اڈوں کو تحفظ فراہم کرنے اور میرینز اور آبدوزوں کو بحیرہ عرب میں تعینات، ۔ سرد جنگ ہتھیاروں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے بحری ناکہ بندی اور فوج اور فضائیہ کو تنازعے میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ امریکی بحریہ کے صومالیہ میں آپریشنز میں معاونت، اقوام متحدہ کے آپریشن ”یونائیٹڈ شیلڈ“ میں بھی حصہ، جب بھارتی بحریہ نے آپریشن ”تلوار“ شروع کیا، تو پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو کراچی اور بلوچستان کی بندرگاہوں سے دور رکھنے کے لیے آبدوزوں اور بحری جہازوں کی تعیناتی نیول ایویشن بحیرہ عرب میں مسلسل ہوائی جاسوسی اور گشت آپریشنز برقرار رکھے۔
پاک بھارت جنگ 1965 بھارتی فضائیہ کی بار بار کی کارروائیوں سے پاک فضائیہ کے آپریشن متاثر ہونا شروع ہوئے تو بحریہ کا زیادہ جارحانہ کردار۔ ویل رینج آبدوز پی این ایس/ایم غازی کو کموڈور نیازی کی کمان میں ہندوستانی بحریہ کی نقل و حرکت اور اجتماع پر نظر رکھنے اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے لئے تعینات کیا گیا۔
7/ 8 ستمبر کی رات ایک پاکستانی سکواڈرن جو کے چار تباہ کن (ڈیسٹرائر) ایک فریگیٹ، ایک کروزر اور ایک آبدوز پہ مشتمل تھا نے بھارتی فضائیہ کے دوارکا کے ساحلی قصبے میں موجود ریڈار بیس پر حملہ کیا۔ حملہ کامیاب اور ریڈار تنصیبات کو تباہ کر دیا ہندوستانی بحریہ کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کرنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ آپریشن دوارکا پاک بحریہ کی طرف سے 7 ستمبر 1965 کو بھارتی ساحلی شہر دوارکا آپریشن تھا۔ اس آپریشن میں بھارت کا کراچی پر حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ اس حملے میں رن وے کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا جب کہ انفراسٹرکچر اور سیمنٹ فیکٹری کو بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا۔ پاکستان میں بحریہ کا دن 8 ستمبر کو، 1965 کی پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ پاک بحریہ کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کا ایک اہم موقع ہے، خاص طور پر بھارت کے خلاف ان کے سٹریٹجک آپریشن کا نام آپریشن دوارکا ہے، 25 واں ڈسٹرائر سکواڈرن۔ یہ آپریشن تاریخی اہمیت کا حامل ہے یہ دن جنگی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی شاندار حکمت عملیوں اور تدبیروں کے ذریعے بحری جنگ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ طیارہ بردار جہاز نہ ہونے کے باوجود پاک بحریہ نے اس جنگ میں بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی تاریخ رقم کی۔ واحد آبدوز غازی نے غازی رہ کر ایک ایسا معرکہ لڑا کہ پوری دنیا اس پر حیرانی کا اظہار کرتی ہے تن تنہا بھارتی بیڑے کو عالمی سمندر میں پیش قدمی سے روکے رکھا۔ آپریشن دوارکا نے دشمن کے دلوں پر لرزہ طاری کیا
1965 کی جنگ میں پاک بحریہ کے ناقابل فراموش کردار کے ساتھ خطے میں ایک باصلاحیت اور متحرک بحری فورس بن کر اُبھری پاک بحریہ کے بہادر سپوتوں کے عظیم کارناموں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ 8 ستمبر کا دن پاکستان کی بحری تاریخ میں سنہری باب کے طور پر رقم ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے باعث فخر و ترغیب ہے۔ عسکری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جانے والا عظیم ترین آپریشن ہے۔


