تعلیم ہماری اولین ترجیح


آج سے تقریباً دو سو سال پہلے مشہور امریکی دانشور ایڈورڈ ایوریٹ نے کہا تھا ”کسی بھی ملک کی آزادی کا تحفظ اس کے تعلیم یافتہ لوگ اس ملک کی فوج سے زیادہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں“

اس ایک جملے نے فکرو شعور رکھنے والی دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی اور انہوں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنالیا۔ یہی بنیادی فلسفہ آج کی جدید فکری سوچ رکھنے والی دنیا کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اگر ہم ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنے والے کسی بھی ملک پر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ان ممالک کی ترقی و خوشحالی کے پیچھے جو عوامل کار فرما ہیں ان میں سے ایک چیز جو سب میں مشترک نظر آئے گی وہ ہے ان ممالک کا مضبوط تعلیمی نظام۔ جس کی بدولت انہوں نے دنیائے عالم میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک ان کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ ہم نے اس بنیادی نقطے کو نظر انداز کیا اور ذلت و رسوائی کے اس گڑھے میں گر گئے جہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

جدید علوم سے آراستہ دنیا نظام شمسی کے آخری سیارے پلوٹو جو زمین سے تقریباً پانچ ارب کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے تک پہنچ کر پورے نظامِ شمسی کو تسخیر کر چکی ہے اور ہم فرقہ پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عفریت میں پھنس کر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے تعلیم ہماری اولین ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہی۔ موجودہ حکومت نے الیکشن سے پہلے جو بلند و بانگ دعوے کیے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ برسر اقتدار آ کر تعلیم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں گے اور جی ڈی پی کا چار فیصد تعلیم پر خرچ کریں گے لیکن یہ صرف دعوے کی حد تک ہی رہا اور پاکستان اس وقت اپنی کل آمدنی کا صرف ٪ 1.9 تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔

وزارت تعلیم نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ اس سال تعلیمی ایمرجنسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت اور صوبوں کے لئے مجموعی طور پر تعلیم کی مد میں قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 1.91 فیصد مختص کیا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی وعدے کے مطابق تعلیم کے شعبے کے لیے جی ڈی پی کا 4 فیصد مختص کرنے کے لیے 4,242 ارب روپے درکار ہوں گے۔

ہم بدقسمتی سے دنیا کے ان چند ممالک کی صف میں کھڑے ہیں جو تعلیم پر سب سے کم خرچ کرتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی ناخواندگی کے باعث ملک غربت و افلاس، دہشت گردی اور جرائم کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ ہمارا پیارا وطن پاکستان اپنی زبوں حالی پر قابو پا کر ترقی و خوشحالی کی منازل صرف اسی صورت میں طے کر سکتا ہے جب وہ جدید تعلیم پر مبنی مضبوط معیشت کی راہ پر گامزن ہو اس کے لئے موجودہ قیادت کو ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنے ہوں گے اور اس سلسلہ میں تمام قومی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فوری طور پر قومی سطح پر تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا جائے۔

ہر کسی کے لئے یکساں سستی اور معیاری تعلیم کا حصول قانونی طور پر لازمی قرار دے دیا جائے۔ نئی تعلیمی پالیسی کا اجراء کیا جائے اور پالیسی سازوں کو تعلیمی پالیسی مرتب کرتے وقت عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ یہ پالیسی ساز ملک کی ترقی کے لئے علم و دانش کی اہمیت، سماجی و اقتصادی ترقی میں تعلیم کے کردار کو سمجھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہوں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تمام شعبہ جات کے بجٹ بشمول دفاعی بجٹ میں کٹوتی کر کے تعلیم کے لئے مختص بجٹ کو بڑھا کر کم از کم پانچ فیصد کی سطح تک لے جایا جائے۔

یہی کام مہاتیر محمد نے ملائشیا میں کیا تھا جس کی بدولت آج ملائشیا کا تعلیم کے لئے مختص سالانہ بجٹ تقریباً ٪ 30 تک ہے۔ سنگاپور جیسا ملک جس کی آبادی کراچی کی آبادی سے ایک چوتھائی ہے اور کسی قسم کے قدرتی وسائل سے بھی آراستہ نہیں لیکن اس کی ایکسپورٹ 460 ارب امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہیں۔ جبکہ پاکستان کی آبادی سنگاپور کی آبادی سے چالیس گنا زیادہ ہے اور ہماری ایکسپورٹس صرف 25 ارب ڈالرز ہیں۔ سنگاپور کی اس اقتصادی ترقی کی وجہ وسیع پیمانے پر تعلیم پر سرمایہ کاری ہے جو کہ وہ کئی دہائیوں سے کر رہا ہے۔ یہ سادہ سا فلسفہ ہمارے فہم و ادراک سے بالاتر کیوں ہے؟

سنگاپور کے علاوہ کوریا، چین، جاپان، ملائشیا، انڈیا یہ وہ ایشیائی ممالک  ہیں جو آج سے پچاس سال پہلے تقریباً ہم جیسے ہی تھے اور پھر آج نظر دوڑا لیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور ہم کہاں ہیں؟ موجودہ نون لیگی حکومت کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ملک صرف میٹرو، سڑکیں، اوور ہیڈ برج اور لیپ ٹاپ بانٹنے سے نہیں بنتے۔ ہم جس جدید دنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں آپ اس وقت تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکتے جب تک کہ جدید علوم سے آراستہ سافٹ ویئر ہاؤسز اور آئی ٹی یونیورسٹیز نہیں بناتے جس میں کمپیوٹر سائنسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا سائنسز جیسے جدید علوم سے اپنے نوجوان نسل کو آراستہ نہیں کرتے۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گزشتہ ادوار میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کر کے علم پر مبنی معیشت کے قیام کا نفاذ یقینی بنا کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS