آیا ہے اب مزاج ترا امتحاں پر
اوسلو معاہدے کے بعد فلسطین کی آزادی سے جڑے حریت پسند اور دانشور حلقوں میں غم و غصّے کی ایک لہر اٹھی۔ اس بدنام زمانہ معاہدے کو ایڈورڈ سعید نے اپنے شہرہ آفاق مضمون ”The Morning After“ میں بڑے خوبصورت اور مدلل طریقے سے بے نقاب کیا ؛ یہ مضمون تاریخ کے طالب علموں کے لئے ایک توشہ خاص ہے۔ معاہدے کی مبہم شقوں سے اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کو بڑی تقویت ملی، اور جو پیشین گوئیاں ایڈورڈ سعید نے کی تھیں، وہ پچھلے 9 ماہ سے جاری غزہ میں نسل کشی میں پوری ہوتی دیکھ کر عرفات کی حماقت اور کلنٹن اور بِگن کی عیاری پر کف افسوس ہی ملا جا سکتا ہے۔ ایڈورڈ سعید کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ کہ یاسر عرفات نے پی۔ ایل۔ او کی مزاحمت سے جڑے ہزاروں جلاوطن حریت پسندوں کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا۔
نہدہ ( عرب نشاۃ ثانیہ) اور انتفادہ سے جو کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں، وہ عرفات نے ایک یک طرفہ معاہدے کے ذریعے خاک میں ملا دیں۔
1993 کے اوسلو معاہدے اور 2021 کے دوحہ معاہدے میں حیران کن طور پر کافی مماثلتیں ہیں، کیونکہ دونوں کا ڈرافٹ امریکی مقتدرہ کا تیار کردہ ہے۔ دوحہ معاہدہ بھی ایک غیر منصفانہ دستاویز ہے، جس کے خفیہ ضمیمے آج تک منظر عام پر نہ آ سکے۔ مذاکرات کے سب سے اہم فریق، افغان حکومت، کو اس معاہدے سے یکسر دور اور لاعلم رکھا گیا۔
مختصر یہ کہ امریکی مقتدرہ کے ہر کارے، زلمے خلیل زاد، نے دولتِ افغانستان، تھالی میں رکھ کر طالبان کو پیش کردی۔
پاکستان کے سیاسی مبصرین اور افغان امور کے خودساختہ ماہرین ایک بڑے اشکال سے دو چار ہے : بنا کسی تحقیق کے افغانستان کی منتخب حکومتوں کو ”امریکی پٹھو“ اور طالبان کو ایک مزاحمت کار گروہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت حالانکہ بالکل اس کے بر عکس ہے۔ امریکہ اور افغان حکومتوں میں شراکت دو ریاستوں کے درمیان دو طرفہ معاہدوں کی صورت میں بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہوتی تھی؛ دفاعی معاہدوں سے لے کر این جی اوز کے فنڈز تک آڈٹ کے عمل سے گزرتے تھے۔ اس کا ریکارڈ یو ایس ایڈ اور سی گار کے آرکائیوز میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
بون کانفرنس کے بعد تشکیل شدہ افغان جمہوریہ اگر چہ کئی مسائل کا شکار رہا، اور مسلح جتھوں کے براہ راست نشانے پر رہا مگر اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود افغانستان معاشی اور سیاسی طور پر ترقی کر گیا۔ اس دور کا انفراسٹرکچر تخریبی ہتھکنڈوں کے باوجود آج بھی یک گونہ بہتر ہے۔ اس دور کے ثمرات میں سے سب سے اہم، خواتین کو تہذیبی، تاریخی اور سیاسی شعور سے آراستہ کرنا تھا۔ افغان خواتین پہلی بار گھر کی چار دیواری سے نکل کر دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے لگیں، مگر شومئی قسمت:
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔
پچھلے دنوں اپنے خودساختہ امیر المومنین کے حکم کی اساس پر طالبان وزیر تعلیم نداء محمد ندیم نے دینی علماء اور خصوصی طور پر حنفی فقہ کے علماء کو چیلنج دیا کہ جو بھی اسلام میں عورتوں کے لئے دنیوی تعلیم کو قرآن و حدیث سے ثابت کر دے تو ہم لڑکیوں کے لیے سکول اور درسگاہیں، جو کہ پچھلے تین سال سے بند ہیں، کھول دیں گے۔
مگر قحط الرجال کے اس دور میں کوئی امام اوزاعی اور فضل حق خیر آبادی نہ اٹھا۔
کامل اس فرقہ زہاد میں اٹھا نہ کوئی
کچھ ہوئے تو یہی رنداں قدح خوار ہوئے۔
نادیدہ قوتوں کے اشارہ ابرو پر جھتوں کی شکل میں امڈ آنے والے مذہبی پیشواؤں کی زبانوں میں آبلے پڑ گئے ہیں۔ میں ذاتی طور پر مغربی درسگاہوں میں اسلامک سٹڈیز، تھیولوجی، اور فلسفہ کے طالب علموں اور استادوں کے رویے سے زیادہ مایوس ہوا۔
اگر چہ یہاں پر نام لینا مناسب نہیں اور مضمون کی طوالت بھی زیر نظر ہے، تاہم یہ حضرات صہیونی جارحیت کو مغربی مفکرین۔ کانٹ، فرائیڈ، مارکس اور نطشے۔ سے نتھی کر دیں گے ؛ امتناع نظیر اور امکان تکذیب جیسے فروعی مسائل پر کتابیں تحریر کریں گے مگر افغانستان میں جاری افراطیت پر ایک سنجیدہ لفظ تک نہ لکھیں گے۔
حضرت مسیح نے احبارِ یہود سے فرمایا تھا کہ ”تم لوگوں نے داؤد کے گھر کو ڈاکوؤں کا بھٹ بنا دیا ہے“ ۔ ہمارے پڑوس میں افراطیت کے بھٹ سے اڑتی چنگاریاں اپنے خرمن کو خاک کر رہی ہیں۔
کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
آیا ہے اب مزاج ترا امتحاں پر!


