میں نے وزٹ کے لئے سویٹزرلینڈ کا انتخاب کیوں کیا؟
وطن عزیز میں جب بھی کسی خوب صورت جگہ کو دیکھا جاتا ہے یا جب کوئی شخص کسی سرسبز و شاداب علاقے کی سیر و سیاحت کے بعد اس کی خوب صورتی اور دل کش مناظر سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے منہ سے بے اختیار ایک فقرہ نکل جاتا ہے کہ یہ تو پاکستان کا سویٹزرلینڈ ہے۔ مثلاً سوات اور پختون خوا کے بہت سے خوب صورت مقامات کے متعلق یہ بیانیہ بڑی باقاعدگی اور فخر سے استعمال کیا جاتا ہے کہ یہ تو سویٹزرلینڈ سے زیادہ خوب صورت ہے۔ اس کے گھنے جنگلات، بلندی سے گرتے ہوئے آب شار اور طویل ہرے بھرے کھیت کسی طور پر بھی سویٹزرلینڈ سے کم نہیں ہیں۔ بچپن سے اب تک لاشعوری طور پر ہمارے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ سویٹزرلینڈ دنیا کا خوب صورت ترین ملک ہے۔
1982 ء سے 1988 ء تک جب میں زرعی یونی ورسٹی کے ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن ڈی ایس ایف کا حصہ تھا تو عین اسی وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بل واسطہ مذاکرات سویٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہو رہے تھے اور دنیا کے تمام ذرائع ابلاغ میں ان مذاکرات کی معلومات کو اولیت دی جا رہی تھی اور ان مذاکرات کو تمام اخبارات، ٹی وی چینلز اور جریدے ”جنیوا مذاکرات“ کے نام سے لکھتے اور پکارتے تھے۔ اس وقت چوں کہ ڈی ایس ایف کے سٹوڈنٹس لیڈرز دنیا کے سیاسی تجزیہ کے ماہر سمجھے جاتے تھے اور وہ جب بھی آپس میں ملتے تو جنیوا مذاکرات کا ذکر خصوصی طور پر کرتے تھے۔ مذاکرات کی اہمیت اور جنیوا کا تذکرہ بار بار سننے سے سویٹزرلینڈ کے متعلق تجسس کا پیدا ہونا ایک فطری بات تھی۔
ایک اندازے کے مطابق جنیوا میں اس وقت چالیس بین الاقوامی اداروں کے دفاتر موجود ہیں جن میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) ، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ، انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن آف فٹ بال (فیفا) ، ورلڈ اکنامک فورم اور اقوام متحدہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریڈ کراس کا مرکزی دفتر سویٹزرلینڈ میں ہے۔ ہلالِ احمر یعنی ریڈ کراس نے یہاں جنم لیا تھا جس کا قدرتی آفات اور جنگ و جدل سے متاثر شدہ افراد کی بہ حالی میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ جنیوا میں 750 این جی اوز کے دفاتر قائم ہیں جو اقوام متحدہ کو صحت، تعلیم، سماجی انصاف، آب و ہوا، انسانی حقوق، معیشت اور انسانی ترقی کے متعلق مختلف پروجیکٹس پر مشورے دیتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اقوام متحدہ کا دماغ سویٹزرلینڈ میں ہے۔
غیر جانب داری سویٹزرلینڈ کی خارجی پالیسی کا بنیادی اصول رہا ہے۔ وہ 2002 ء تک اقوام متحدہ کا ممبر بھی نہیں تھا۔ وہ ابھی تک کسی جنگ کا حصہ نہیں رہا ہے۔ سویٹزرلینڈ کی غیر جانب داری اور انسانی ہم دردی کے لئے کام کرنے کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک اپنے مسائل کے حل کے لئے مذاکرات یہاں کرنا پسند کرتے ہیں۔
میرے ایک قریبی اور محترم دوست فضل ربی راہی پورے یورپ میں گھومے پھرے ہیں۔ انھوں نے اپنے سفری مشاہدات، تجربات اور تاثرات ایک سفر نامے ”منزل بہ منزل“ میں محفوظ کیے ہیں۔ مصنف اس سفرنامے میں سویٹزرلینڈ کی خوب صورتی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”ٹرین جوں ہی سویٹزرلینڈ کی حدود میں داخل ہوئی تو مناظر یک سر بدل گئے۔ ٹرین کے دونوں جانب نہایت خوب صورت اور دل کش جلوے دل و دماغ کو مسلسل فرحت اور تازگی سے سرشار کرنے لگے۔ کہیں برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع تنگ مگر جنت نظیر وادیاں دامنِ دل کھینچنے لگتیں تو کہیں ٹھاٹھیں مارتے دریا اپنا جوبن دکھانے لگتے۔ ہر طرف ہریالی، گھنے جنگلات، طویل سبزہ زار، بلند پہاڑوں سے گرتے آب شار، آسمان پر اٹکھیلیاں کرتے بادل، سر سبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں واقع خوب صورت گھر، ان کے ساتھ طویل کھیتوں میں سبزے کی بچھی مخملیں چادر پر چرتے ہوئے مال مویشی اور ان سب کے بیچوں بیچ فراٹے بھرتی ہوئی ٹرین ایسے طلسماتی اور ملکوتی حسن کے حامل مناظر تخلیق کرتی تھی کہ انسان پر کیف و سرور کی وجہ سے بے خودی طاری ہونے لگتی۔“
مصنف کو میں کئی سالوں سے جانتا ہوں۔ وہ ایک ایسے حقیقت پسند لکھاری ہیں کہ کبھی اپنی تحاریر میں مبالغے سے کام نہیں لیتے۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں، اس کو ویسے ہی اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، جو محسوس کرتے ہیں، ان میں رتی برابر کمی و بیشی نہیں کرتے اور اپنے احساسات کو اصلی شکل میں قلم بند کرنے میں اپنے جادوئی قلم کا استعمال بہت مہارت سے کرتے ہیں۔
میں نے ان کا سفرنامہ پڑھا ہے۔ اس سے بہت کچھ سیکھا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ اگر خدا نے یورپ جانے کا موقع دیا تو پہلے سویٹزرلینڈ جاؤں گا۔
اس کے علاوہ میرے ایک اور دوست کا تعلق افغانستان سے ہے۔ وہ پچھلے ہفتے یورپ کے وزٹ سے واپس آئے ہیں۔ وہ فرانس، بیلجیم اور سپین وغیرہ کے بعد سویٹزرلینڈ چلے گئے تھے۔ وہ مجھے بتا رہے تھے کہ اگر مجھے پتا ہوتا کہ سویٹزرلینڈ اتنا خوب صورت ہے تو میں یورپ کے وزٹ کے لئے مختص کیے ہوئے سارے دن سویٹززلینڈ میں گزارتا اور باقی یورپ جانے کی زحمت نہ کرتا۔
میرا ایک دوسرا دوست محمد رفیق جس کا تعلق ضلع مانسہرہ بٹگرام سے ہے۔ وہ یہاں لندن میں رہائش پذیر ہے۔ وہ پختونخوا کے محکمہ جنگلات میں اہم عہدوں پر رہ چکا ہے۔ پہلی ملاقات میں اس نے بتایا کہ وہ بحیثیت ڈویژنل فارسٹ افیسر ڈی ایف اومالاکنڈ میں سوشل فارسٹری کا انچارج تھا۔ اور مالاکنڈ کے تمام پہاڑوں میں الائچی کے درخت اس نے لگائے ہیں میں نے مذاق میں اس سے کہا کہ یہ آپ ہیں جس نے پانی کا قحط ہم لوگوں پر مسلط کیا ہے۔ اس نے اقوام متحدہ کے ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں کافی وقت سویٹزرلینڈ میں گزارا ہے۔ اس نے سویٹزرلینڈ کے خوبصورتی کے بارے ایک عجیب بات کہی وہ یہ کہ آپ آنکھیں بند کریں اور جس طرف سے سویٹزرلینڈ میں تصویر لے لیں وہ پوسٹ کارڈ کی تصویر ہو گی۔
بچپن سے ذہن میں سویٹزرلینڈ کی خوب صورتی کے متعلق بنی ہوئی تصویر، اس کی بین الاقوامی اہمیت اور غیر جانب دارانہ حیثیت، لکھاریوں اور عام لوگوں کے سویٹزرلینڈ کے بارے میں مثبت تاثرات کی وجہ سے میں نے اپنے یورپ کے پہلے وزٹ کے لئے سویٹزرلینڈ کا انتخاب کیا ہے۔ میں اپنی فیمیلی کے ساتھ وہاں 9 ستمبر کو جا رہا ہوں۔ وہاں جا کر جو دیکھوں گا، اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کروں گا۔
دعاؤں میں یاد رکھیں۔


