میڈل اور چالیس سال کا قحط
جیسے ہی 2024 کے اولمپک میں سونے کا تمغہ جیتا گیا، اس شاد خبر نے 1984 میں پہنچا دیا۔ صد افسوس، 3 سونے، 3 چاندی اور 2 کانسی (ٹوٹل 8 ) تمغے جیتنے والی قومی کھیل کی ٹیم پچھلے تین اولمپکس ( 2016، 2020، 2024 ) کے لئے کوالیفائی نہ کر سکی۔
نمناک آنکھوں سے ارشد ندیم کی جیت والی خبر سنی اور پڑھی، خراجِ تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سال بعد اولمپکس کے مہان سٹیج پر پاکستان کا قومی ترانہ گونجا۔
آج سے ٹھیک چالیس سال پہلے رات ایک بجے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر فائنل دیکھا، گولڈن مین منظور جونئیر اور کلیم اللہ کے گولز نے فتح دلائی اور ہم خوشی سے نہال ہو گئے۔ لیکن کیا خبر تھی کہ ایسی کسی مزید خوشی کا یہ سفر اتنا طویل ہو جائے گا۔ 1992 میں شہباز سینئر کی کپتانی میں دلِ ناتواں نے مقابلہ تو خوب کیا مگر منزل دوچار ہاتھ لبِ بام رہ گئی اور کانسی کا تمغہ ملا۔ اس کے بعد تمام چراغ بجھ گئے اور یہ سفر گھٹا ٹوپ اندھیروں کی نذر ہو گیا۔ 1994 میں قومی ٹیم نے شہباز سینئر کے حسرت ناک خواب کو تکمیل دی، پاکستان چیمپینز ٹرافی اور ورلڈ کپ جیت گیا۔ 1992 میں عمران خان کی کپتانی میں کرکٹ ورلڈ کپ اور محمد یوسف نے سنوکر ورلڈ کپ جیت کر خوشیوں کو دوبالا کیا۔
اولمپک کا یہ سفر 2024 میں ایک بار پھر شادمانیاں لایا اور ارشد ندیم کے نیزے نے یہ 40 سالہ طویل سفر طے کر کے اس قوم کو خوشی منانے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اس فردِ واحد کی محنت ہے۔ جو 2019 کے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں سونے کے تمغے سے ہوتی ہوئی، آج 2024 میں اولمپک گولڈ میڈل تک پہنچی۔ صرف پانچ سال کی محنتِ شاقہ نے اس نوجوان کو منزل تک پہنچا دیا۔ 92.97 میٹر جیولن پھینک کر اس نے ایک بار پھر 90 کو پار کیا اور 91.79 میٹر کی تھرو پھینکی اور ثابت کیا کہ مہارت، طاقت، جذبہ اور جیت کی لگن اپنے عروج پر تھی۔ یعنی اصولاً اگر دیکھا جائے تو پہلے دونوں پوزیشنیں اس شیر جوان کے پاس ہیں۔ آخری سیشن میں جب سب کے سب اتھلیٹس تھکن سے چُور ہو چکے تھے، ارشد ندیم کا حوصلہ اور ہمت اس وقت بھی جوان اور پُرعزم تھی۔
لیکن اب اصل امتحان شروع ہو گا کہ اس اعزاز کا دفاع ہم کیسے کریں گے؟ کوئی دوسرا ارشد ندیم، محمد بشیر، عبدالخالق سامنے آ سکتا ہے؟ 1988 میں کانسی کا تمغہ جیتنے والا باکسر حسین شاہ ایسا گُم ہوا کہ اس کا آج تک کوئی اتاپتا ہی نہیں۔ یہ چار دنوں کی چاندنی اور پھر اندھیری رات والا معاملہ کب تک چلتا رہے گا۔ خداداد صلاحیتوں کے حامل نوجوان تو سامنے آتے رہتے ہیں، مگر ہمارے ادارے، حکومتیں ان کو کتنا سپورٹ کرتی ہیں؟ ان کو کیا سہولیات فراہم کی جاتی ہے؟ ان کے روزگار کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے؟ آج کی گلیمرس چکاچوند میں یہ اتھلیٹس کہاں کھڑے ہیں؟


