سیاست کشتی نہیں ہے بھائی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاما پہلوان 1910 میں ایک کشتی جیتے اور ورلڈ چیمپئین کہلائے۔ لندن ٹائمز نے انہیں سکھ چیمپئین لکھا کیوں کہ وہ مہاراجہ پٹیالہ کے درباری پہلوان تھے۔ دربار اس زمانے میں علوم و فنون کی باقاعدہ سرپرستی کرتے تھے اور کسی بھی فن کا ماہر بڑا قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ یہ فری سٹائل کشتی تھی، جیتنے والا پوری دنیا کا رستم کہلانا تھا۔ پہلے دن جب کشتی شروع ہوئی تو گاما اور زبسکو دو گھنٹے چونتیس منٹ تک اکھاڑے میں لڑتے رہے لیکن ہار جیت کا فیصلہ کچھ نہ ہوا۔ کشتی ملتوی کر دی گئی، ہفتے کے روز دوبارہ مقابلہ ہونا تھا۔ گاما کا وزن اور جسامت زبسکو سے اچھی خاصی کم تھی، ہر دیکھنے والے نے یہ بات خاص طور پر محسوس کی لیکن ان کے داؤ پیچ پر کسی کو شک نہیں تھا۔ زبسکو جو اپنی جگہ خود نامی گرامی پہلوان تھا کشتی کے دونوں دن زیادہ تر وقت دفاعی داؤ پیچ کرتا رہا۔ اور پھر یہ کشتی آخر کار گاما نے جیت لی۔ گاما اب ورلڈ چیمپئین تھے اور ان کے نام کا ڈنکا چار اطراف بجتا تھا لیکن گاما عاجزی اور انکساری کا پیکر تھے۔ ان کے بارے میں تفصیل جاننی ہو تو خواجہ شفیع دہلوی مرحوم نے ایک کتاب ان پر لکھی، حکیم سعید مرحوم نے ذاتی دلچسپی سے نہایت خوب صورت چھاپی، اسے ڈھونڈیے اور پڑھیے۔

یہ جو کشتی اور کسرت کا شوق تھا، یہ ہماری میراث ہوا کرتا تھا۔ صبح تڑکے یار لوگ گھر سے نکل کر اکھاڑے یا کسی باغ کے ایک مخصوص کونے میں چلے جاتے، لنگر لنگوٹ کسا اور ورزش کرنا شروع ہو گئے۔ کوئی ڈنٹر پیل رہا ہے، کہیں بیٹھکیں لگ رہی ہیں، کوئی مگدر گھما رہا ہے، جو اس سب کا شوقین نہیں ہے اس نے سیدھے سبھاؤ اینٹوں اور سیمینٹ کو گھی کے دو ڈبوں میں بھرا، درمیان میں لوہے کا پائپ لگایا، ویٹ لفٹنگ کا بہترین سامان تیار کیا اور چل میرے بھائی کام شروع، ورزش کی آسان ترین قسم یہ ہوتی تھی۔ گاما پہلوان کا نام نئی نسل کے لوگ کم ہی جانتے ہیں لیکن 1910 میں ورلڈ چیمپئین بننے والے گاما نے کم وبیش ستر اسی برس تک عوام کے دلوں پر حکومت کی۔ گاما سے پہلے اور ان کے بعد، کشتی کے مقابلے ہوتے رہے، ایک سے ایک پہلوان آئے لیکن جو شہرت اور عزت گاما پہلوان کے نصیب میں آئی، وہ کسی اور کو نہیں ملی۔

بعض تاریخ دانوں کے مطابق ہندوستان میں کشتی کا فن آریہ نسل کے لوگ لے کر آئے۔ مصر میں دریائے نیل کے آس پاس کھنڈرات میں پہلوانوں کے جو مناظر نقش ملتے ہیں ان کے داؤ پیچ تقریباً وہی ہیں جو آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ کشتی کا ذکر وید اور رامائن میں بھی ملتا ہے۔ پہلے راجے مہاراجے سرپرستی کرتے تھے، پھر مغلوں کا دور آیا، اس میں بادشاہ بنفس نفیس دنگل دیکھنے جایا کرتے اور جیتنے والوں کو اچھے انعام سے نوازا جاتا تھا۔

بہادر شاہ ظفر بھی پہلوانوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ استاد سکھدیو نامی ایک پہلوان ان کے دربار میں ہوتے تھے۔ سکھدیو کی طاقت کا عالم یہ مشہور تھا کہ اگر ہاتھی کو دم سے پکڑ لیتے تو وہ آگے حرکت نہیں کر سکتا تھا۔ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ سے کچھ عرصہ پہلے سکھدیو بہادر شاہ کے دربار میں پیش ہوئے اور کہنے لگے کہ حضور پورے شہر میں اعلان کروا دیجیے۔ فلاں دن میں لال قلعے کے جھروکے تلے حاضر ہوں گا، جس کسی میں دم ہے، آئے اور مجھ سے کشتی لڑ لے، اگر کوئی نہیں آیا تو میں سمجھ لوں گا کہ اب لڑنے والے باقی نہیں رہے، نہ کوئی دم خم ٹکر لینے والوں میں ہے، تو میں یہ فن ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا۔

وہ دن آ گیا، سکھدیو حسب وعدہ حاضر تھے۔ یہ چاروں طرف لوگوں کا میلہ لگا ہوا ہے، بادشاہ سلامت خود اوپر بیٹھے جھروکوں سے نظارہ کر رہے ہیں۔ سکھدیو للکار رہے ہیں کہ بھئی کوئی ہے شیر نر جو مقابلے میں آئے، اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وزن اٹھاتے ہیں، دوسرے پہلوانی کرتب دکھاتے ہیں لیکن سب لوگ بس دور دور سے دیکھتے ہیں، قریب کوئی نہیں آتا۔ سکھدیو پہلوان سے مقابلہ کسی کے بس میں نہیں تھا۔

سکھدیو آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے گئے اور بادشاہ جہاں بیٹھے تھے وہاں عین نیچے کھڑے ہو گئے۔ سر جھکایا اور کہا، ”جہاں پناہ، اب اذن رخصت دیجیے، سکھدیو سے کوئی نہیں لڑنا چاہتا۔ “ لنگوٹ کھولی، کپڑے بدلے اور وعدے کے مطابق زندگی بھر کشتی نہیں لڑی۔

جسے آج کل سپورٹس مین سپرٹ کہا جاتا ہے اسے پہلے وضع داری کہتے تھے۔ جب کشتی سیکھنے کوئی بھی پٹھا میدان میں اترتا تھا تو لنگوٹ کا پکا رہنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تعلیم دی جاتی تھی کہ طاقت کا استعمال کبھی غلط نہیں ہو گا۔ خاندانی پہلوان گلی محلوں سے گذرتے ہوئے نظریں تک نیچی رکھتے تھے۔ بلکہ اپنے علاقے کی حفاظت کا ذمہ بھی ان کا ہوتا تھا۔ شہر میں کوئی جلوس نکلتا، بھلے محرم کا ہو یا رام لیلا ہو یا کوئی بھی کسی بھی مذہب کا اکٹھ ہو، اس کے گرد انہیں کا گھیرا ہوتا تھا۔ یوں سمجھیے پہلوان اپنی ثقافتی روایات اور اخلاقی قدروں کے امین سمجھے جاتے تھے۔ کوئی پہلوان اگر لنگوٹ کا ڈھیلا نکلتا، صحت خراب کرنے والی حرکات میں مبتلا ہو جاتا، نشے کی طرف راغب ہوتا یا بدمعاشی کے گھمنڈ میں گھر جاتا تو اکھاڑے کے باقی لوگ اس سے آہستہ آہستہ قطع تعلق کر لیتے تھے۔ پہلوانی ایک پورا فن تھا جو انسان کو فیل تن (ہاتھی کے جیسا دیو ہیکل) بنانے کے ساتھ ساتھ انکساری اور انسانیت کی تعلیم بھی دیتا تھا۔

گورے آئے تو زمانہ بدلتا گیا۔ دوسرے کھیلوں کو دیسی کھیلوں سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ فٹ بال، ہاکی، کرکٹ میں جینٹلمین پیدا ہونے لگے اور پہلوانی کے ہاتھ فقط کن ٹٹے رہ گئے۔ کانوں کی اوپر والی ہڈی بہت نازک ہوتی ہے۔ دیسی کشتی میں اگر دوسرا پہلوان کان مروڑ دے اور ہڈی ٹوٹ جائے تو اس وقت درد کی وجہ سے کشتی جیتنا ممکن نہیں رہتا اور خواہ مخواہ اچھا بھلا بہادر لڑیاّ خاک چاٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تو پہلوان خود اپنے کانوں کی اوپر والی ہڈی تڑوا لیتے تھے جس کی وجہ سے کان موٹے نظر آنا شروع ہو جاتے۔ جو کان نیچے سے لو کے نزدیک ہمارے آپ کے جیسا ہو اور اوپر سے ایک دم موٹا اور نرم سا دکھے، کوئی ہڈی یا بناوٹ نظر نہ آئے، وہ کان ٹوٹا ہوا ہوتا ہے اور عموماً پرانے پہلوانوں کے کان ایسے ہی ہوتے تھے۔ اسی زمانے میں کچھ لوگ ایویں رعب داب کے چکر میں کان تڑوا کر پہلوان نظر آنا چاہتے یا کسی ریٹائر پہلوان کو بدمعاشی مقصود ہوتی اور وہ ہر ایک سے الجھتا پھرتا تو وہ لوگ کن ٹٹے کہلاتے تھے۔ لیکن ایک گڑبڑ ہوئی۔ یہ کام اب ہر کھیل میں ہونے لگا۔ پہلوانی کا تو بیڑا غرق ہوا ہی تھا، کسی بھی کھیل میں کوئی بھی جینٹلمینی نہیں رہ گئی۔ ہم ہوئے کہ تم ہوئے کہ میر ہوئے، سبھی ایک رنگ میں رنگے گئے۔ یہاں تک ہوا کہ بڑے سے بڑا مہذب کھیل بھی ان سے بچ نہ سکا۔

سیاست کشتی ہے یا شطرنج، فیصلہ ہمارے لیڈروں کے ہاتھ میں ہے۔ وضع داری سکھاتی ہے کہ گھر آئے مہمان کی عزت کی جائے۔ اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جایا کہ اس ہنگام میں بھی دل کی رونق بڑھانے آیا۔ اسے گلے سے لگا کر رخصت کیا جائے اور درخواست کی جائے کہ بھیا جیسے کمر دکھاتے ہو ویسے منہ بھی دکھلانا۔ لیکن وہ تہذیب اب رخصت ہو چکی ہے۔ ابھی یہیں تک لکھا تھا کہ وہ بہنوں بیٹیوں کے بارے میں غیر محتاط گفتگو کی خبر بھی مالک نے دکھلا دی۔ اوئے اوئے سے شروع ہونے والی کہانیاں کہاں ختم ہوں خدا بہتر جانتا ہے، نہ وہ کشتیاں رہیں، نہ وہ اکھاڑے، نہ وہ دربار، نہ وہ کھیل، نہ وہ کھلاڑی اور نہ ہی وہ بادشاہ، ہمارا تمہارا خدا بادشاہ!

کیا میر تو روتا ہے پامالئی دل ہی کو۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain