ماحولیات، خستہ حال زمین اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت
ولیم جے۔ بیرنسٹن نے اپنی کتاب ”دی برتھ آف پلینٹی“ میں لکھا ہے کہ 1800 ء کے بعد لوگوں کے طرزِ زندگی میں تبدیلیاں آنے لگیں اور انسان آسائش پسند ہونے لگا۔ اس وجہ سے نت نئی چیزیں بننے لگیں اور سائنسی ایجادات کے باعث صنعتی انقلاب نے جنم لیا اور اس نے ماحول پر اپنے منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے۔ جس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت 1۔ 1 سینٹی گریڈ بڑھ گیا اور جو اب تک مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات ساری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ چاہے وہ شدید گرمی کی صورت میں ہوں یا خشک سالی کی صورت میں۔ بارش اور ہواؤں کی صورت میں ہوں گلیشیئروں کا پگھلنا، ان میں رہنے والے جان داروں کی زندگی کو لاحق خطرات، ہزاروں ایکٹر کے جنگلات میں اچانک آگ لگنا اور ان کو کاٹ کر ختم کرنا، میٹھے پانی کے ذخائر کا ختم ہونا، بے موسم کی بارشیں اور فصلوں کی تباہی۔ یہ سب ماحولیاتی تبدیلیوں کا اثر ہی ہے۔ بی بی سی کے مطابق 2018 ء میں آسٹریلیا میں شدید ترین گرمی 42 درجہ حرارت کی وجہ سے 10 ہزار چمگادڑیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور پاکستان میں 2022 ء کا بد ترین سیلاب جس میں تقریباً ایک ہزار 739 انسانی جانوں کے علاوہ کھربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ جو ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ بن گیا۔ اور آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں مہنگائی 27 فیصد تک بڑھ گئی۔
اسی طرح کینیڈا میں جنگلوں میں لگنے والی آگ، جس نے پہلے کے سارے ریکارڈ توڑ دیے اور بے انتہا کاربن کے اخراج کا باعث بنی۔ اسی طرح افریقہ کے ممالک میں 3 سالہ خشک سالی جس کی وجہ سے وہاں غذائی قلت کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں۔ یہ سب ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہیں۔ جو دنیا کے کونے کونے میں نظر آرہے ہیں۔ جو نہ صرف انسانی زندگی کے علاوہ باقی حیاتیات کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں اور ان میں سے اکثریت ختم ہونے کے درپے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس کے لیے اقدامات نہیں کیے، تو آنے والی نسلوں کے لیے زندگی مشکلات اور تکالیف سے بھر پور ہوگی۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات:
اس حوالے سے بہت سارے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جن میں کچھ درج ذیل ہیں :
1۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال 400 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوتا ہے اور اس میں سے صرف چند فیصد ہی ری سائیکل ہوتا ہے۔ پلاسٹک کو استعمال کرنے کی جگہ ایسی چیزوں کو استعمال کیا جائے، جو ماحول دوست ہوں۔ جیسے کہ پلاسٹک کی تھیلیوں کے بجائے کپڑے یا کاغذ کے تھیلے استعمال کیے جائیں، جن کو بار بار استعمال کیا جا سکے۔ یہ ماحول کے لیے بہت سازگار ہوں گے۔
2۔ ائر کنڈیشنر سے نکلنے والی گیس جو ماحول کے لیے انتہائی مہلک اور درجۂ حرارت کو بڑھا رہی ہے۔ ان سے نکلنے والی گیسوں سے آنے والے چند سالوں میں اس گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا، اس کی جگہ گھروں میں ہوا دان کا ہونا ضروری ہے، تاکہ صاف اور تازہ ہوا دستیاب ہو سکے۔ اس سے ہمارا ماحول بھی بہتر سے بہتر ہو گا اور اس کا خوشگوار اثر انسانی زندگی اور صحت پر بھی اچھا ہو گا۔
3۔ تمام دنیا کو شجر کاری کی اشد ضرورت ہے۔ جنگلوں کی کٹائی اور شہروں میں پیڑ پودوں کا خاتمہ، گرمی میں اضافے اور ماحولیات میں خرابی کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان میں ایک ارب درخت لگانے جیسے منصوبے صحیح معنوں میں مہم کے طور پر انجام دینے (جو صرف کاغذوں کی حد تک تکمیل پذیر نہ ہوں ) کارگر ثابت ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ ہر گھر کے آگے، سڑک پر اور کھلی جگہوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔ جس سے آئندہ چند برسوں میں ماحول میں خوشگوار تبدیلی کے اثرات نظر آئیں گے۔
4۔ پیٹرول اور کوئلے سے بجلی بنانے کے بجائے قدرتی طریقے جیسے شمسی توانائی، بائیو ماس انرجی، ہوا اور پانی سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر کام کرنا ہو گا۔ حکومت کا اس معاملے میں سرمایہ کاری اور اس پر طویل مدتی منصوبے بنانے کی اور عوام کو اس بارے میں بھر پور آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔
5۔ گھروں سے نکلنے والے کچرے اور فیکٹریوں سے نکلنے والے غلیظ پانی اور فضلے کو انسانی آبادی سے دور علاقوں میں زمین میں دفن کرنا ضروری ہے، تاکہ ماحول میں کثافت اور خرابی پیدا نہ ہو۔
6۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال جس سے گاڑیوں کا دھواں کم ہو گا۔ ہوائی آلودگی (ائر پولوشن) اور صوتی آلودگی (نوائز پولوشن) میں کمی ہوگی۔ سڑکوں سے رش کم ہو گا اور ماحول بہتر ہو گا۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے اور زیادہ آبادی والے شہروں میں آلودگی اور دُھند کی وجہ سے بیماریوں اور انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسی گاڑیاں جو دُھواں چھوڑتی ہیں، ان کو بند کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ فضائی آلودگی میں اضافہ کر کے بیمار یوں کا باعث بن رہی ہیں۔ اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو فروغ دینا ضروری ہے، جو کہ ماحول دوست ہیں۔
7۔ انسان کو اپنی غذا میں گوشت کے بجائے سبزیوں اور دیگر اناج کو غذا کا لازمی جُز بنانا چاہیے، تاکہ ان کی جسمانی ضرورت کے مطابق پروٹین مل سکیں اور وہ ایک صحتمند انسان کے طور پر زندہ رہ سکیں۔ کیونکہ گوشت کی مصنوعات کی پیداوار دنیا میں 15 فیصد نقصان دہ گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہے اور ان کے فضلے سے آلودگی بڑھتی ہے۔
مندرجہ بالا باتوں کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہر طرح کی زندگی اور زمین پر اپنے منفی اثرات چھوڑ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے اب اس سیارے یعنی زمین پر زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ مذکورہ اقدامات سے بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس میں سرکاری اداروں، فلاحی تنظیموں غرض ہر فرد کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا



This article beautifully highlights the urgent need for environmental action to protect our planet for future generations. Great Work
I deeply appreciate your comment
Thank you so much for taking the time to read it