وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے بجلی کے بلوں میں ریلیف


آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے اور رقبے کے لحاظ سے دوسرے بڑے صوبے پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز کی جانب سے صوبے بھر کی عوام کو بجلی کی مد میں پینتالیس ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ جس میں 201 یونٹس سے 500 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی دی گئی۔ ایسے تمام صارفین کے بجلی کے بلوں پر موجودہ بل کی رقم کے ساتھ ریلیف کے بعد واجب الادا رقم لکھی آئی۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر کسی صارف کو بیس ہزار کا بل ادا کرنے کے بجائے سولہ یا سترہ ہزار کا بل آ جائے تو ظاہر ہے اسے اس بات کی خوشی محسوس ہوگی۔ لیکن وہ تمام افراد جو اس ریلیف سے محروم رہے ان میں ابھی غم و غصے کی کیفیت موجود ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کیا یہ ریلیف وقتی ہے یعنی ایک یا دو ماہ کے لیے یا پھر لمبے عرصے کے لیے یہ ریلیف دیا جائے گا کیونکہ مہنگائی سے ستائی جنتا دیرپا اور مستقل ریلیف کی منتظر ہے۔

بلاشبہ مہنگائی کے اس دور میں تنخواہ دار طبقے کے لئے یہ ریلیف اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے مگر کچھ نہ ہونے سے کچھ ہو نا زیادہ بہتر ہے۔ خیر اس ریلیف کو لے کر پنجاب کی پبلک میں ملا جلا رد عمل دیکھنے کو آیا ہے۔ کچھ صارفین تو اس اقدام پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے شکر گزار ہیں جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے گزشتہ سال کی نسبت اس سال بجلی کی یونٹس کی قیمتوں میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے اس لئے ریلیف نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اور ویسے بھی بجلی کے بلوں کے علاوہ بھی مہنگائی ہر چیز جیسے پیٹرول، اشیا خورونوش کی چیزوں اور کرایوں میں ہے اس لیے بجلی کے بلوں کے ساتھ ساتھ مکمل مہنگائی کی شرح میں کمی لائی جائے تو عوام کو تھوڑا سکھ کا سانس ملے۔

بجلی کے بلوں کے حوالے سے ہی ایک اور ریلیف جو وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے دیا گیا ہے جو بل جمع کروانے کی آخری تاریخ میں تقریباً 10 دن کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ فیصلہ بھی خوش آئند ہے کیونکہ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو تنخواہ دار ہیں اور ان کو تنخواہیں تھوڑی دیر سے ملتی ہیں اب بل ادا کرنے کے لئے وقت زیادہ ہو گا اور صارفین کو مقرر تاریخ گزر جانے اور جرمانے کے ساتھ بل ادا کرنے کی اذیت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

سیاسی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک احسن اقدام ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کی طرف توجہ دے رہی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ عوام کی مدد کی جائے۔ تاہم اس اقدام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ ریلیف مستقل بنیادوں پر جاری رہے۔ سننے میں آ رہا ہے یہ ریلیف وقتی ہے اور دو ماہ بعد ریلیف کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اگر تو یہ ریلیف عارضی ہوا تو لازمی عوام کے دلوں میں حکومت کے لئے عدم اعتماد پیدا ہو جائے گا۔ مزید بجلی کے اضافی بل اور لوڈشیڈنگ ایسے مسائل ہیں جن کا مستقل حل ضروری ہے۔ اس ماہ بجلی کے بلوں میں ملنے والے ریلیف نے عوام کے دلوں میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے کہ شاہد مستقبل قریب میں عوام کو مہنگائی کے خوفناک جن سے نجات مل سکے۔

Facebook Comments HS