قدیم سلک روڈ سے جڑے جدید خوشگوار تعلقات

چین اور مشرق وسطی کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات ہیں۔ دونوں کے درمیان روابط کی تاریخ قدیم سلک روڈ سے ہے، جو چین اور مشرق وسطی کو جوڑتا تھا اور جس سے ثقافتی اور اقتصادی تبادلوں میں آسانی ہوتی تھی۔ جدید دور میں ان تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان تعلقات میں ترقی ابھی بھی جاری ہے جس میں دن بہ دن تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
دو روز قبل چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے سعودی عرب اور متحدہ امارات کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دونوں ریاستوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں جہاں دو طرفہ تعلقات زیر بحث رہے وہیں مشرق وسطی کی صورتحال بھی گفتگو کا حصہ رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے چین نے مسئلہ فلسطین کے نئے تنازعے کے ابھرنے کے بعد سے اس کے دو ریاستی حل پر کافی آواز اٹھائی ہے اور فلسطین میں انسانی جانوں کے ضیاع پر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب ایران تعلقات مٰیں بہتری کے بعد جس انداز میں بیجنگ نے فلسطین کے تمام دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر جمع کیا ہے اس سے بھی چین کے ثالثی کے کردار اور مشرق وسطی میں امن کی کوششوں کو دنیا نے سراہا ہے۔ ایسے وقت میں چین کا ذمہ دارانہ اور غیر جانب دارانہ کردار مشرق وسطی کی صورتحال میں ایک نئی امید لے کر آیا ہے۔ ایک ایسی امید جو گزشتہ کئی دہائیوں سے طاقتور ممالک کی جانب دارانہ پالیسیوں اور ذاتی مفادات میں کہیں گم ہو گئی تھی۔
عالمی اور خطے کے مسائل سے ہٹ کر دیکھا جائے تو چین اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو ہمیشہ دوستانہ اور قریبی تعاون کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون توانائی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور تجارت سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہے۔ سعودی عرب چین کے لیے تیل کا ایک اہم سپلائر ہے، جبکہ چین سعودی عرب کے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ دونوں فریق توانائی پر تعاون کرتے ہیں۔
چین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو بھی ہمیشہ دوستانہ اور قریبی تعاون پر مبنی سمجھا جاتا رہا ہے۔ دونوں ممالک توانائی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور تجارت جیسے شعبوں میں تعاون میں مصروف ہیں۔ متحدہ عرب امارات خلیجی خطے میں چین کے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، اور دونوں فریقوں نے توانائی کے تعاون، بنیادی ڈھانچے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
ان تعلقات میں جی سی سی سے تعلقات کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے چین کی اہم درآمدات بنیادی طور پر توانائی کے شعبے پر مرکوز ہیں۔ چین دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اس لیے جی سی سی ممالک سے تیل اور قدرتی گیس چین کی طرف سے درآمد کی جانے والی اہم مصنوعات میں شامل ہیں۔ توانائی کی مصنوعات کے علاوہ چین درآمد بھی کرتا ہے۔ چین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات حالیہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جی سی سی کے رکن ممالک میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ چین اور ان ممالک کے درمیان تجارت میں بنیادی طور پر توانائی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور مالی تعاون شامل ہے۔
2023 میں چین اور گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے درمیان تجارت کے بارے میں بات کی جائے تو متحدہ امارات اور سعودی عرب کے علاوہ 2023 میں چین اور قطر کا تجارتی تبادلہ حجم 23.7 بلین ڈالر تک پہنچا۔ 2024 کی پہلی سہ ماہی میں، دونوں ممالک کے مابین تجارت 3.7 فیصد بڑھ کر 6.8 بلین ڈالر ہو گئی، جو 2023 میں اسی عرصے میں 6.6 بلین ڈالر تھی۔ 2023 میں دو طرفہ تجارت کا کل حجم تقریباً 95 ارب ڈالر تک تھا۔ دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور 2030 تک تجارتی تبادلے کو 200 ارب ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ چین اور متحدہ عرب امارات نے چین اور مشرق وسطی کے ممالک کے درمیان پہلا مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا اور اس کا انتظام کیا۔ چین بین الاقوامی تجارت پر اقوام متحدہ کے کام ٹریڈ ڈیٹا بیس کے مطابق، 2023 کے دوران سعودی عرب کو برآمدات 42.86 بلین امریکی ڈالر تھیں۔ چین اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی حجم 2022 میں 315.8 بلین ڈالر تک پہنچا تھا۔ جب کہ 2023 میں، چین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوا۔ چین اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں بنیادی طور پر توانائی کے وسائل، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مالی تعاون شامل ہیں۔
چین جی سی سی ممالک سے توانائی کے وسائل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے، جبکہ یہ ممالک چین کے لیے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔ توانائی اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں چین اور جی سی سی ممالک کے درمیان تعاون دونوں فریقوں کے لیے اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چین اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی حجم ان کے تجارتی تعلقات سے حاصل ہونے والے خاطر خواہ اقتصادی تعلقات اور باہمی فوائد کی عکاسی کرتا ہے۔ چین اور مشرق وسطی کے تعلقات میں موجودہ تبدیلیوں کی ایک بری وجہ ان ممالک کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ہو نا بھی ہے۔ اس منصوبے میں ہر ملک اپنی اپنی خاصیتوں اور ضرورتوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اس کے کامیاب ہونے کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔
چین اور مشرق وسطی کی ریاستوں کے تجارتی تعلقات کے علاوہ سفارتی تعلقات میں ایک سمت میں سفر کر نا خطے اور دنیا کی صورتحال کے لئے انتہائی اہم ہے۔ ایک پر امن دنیا کے لیے مشترکہ مفادات اور مشترکہ مستقبل یقیناً امن اور خوشحالی میں مضمر ہے اور امن اور خوشحالی کو ہر صورت شاہراہ ترقی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان ممالک سے چین کے تعلقات کا راستہ آج بھی قدیم سلک روڈ سے ہی گزرتا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ اب وہ سلک روڈ قدیم نہیں رہا۔

