خالصتان تحریک کا پس منظر
خالصتان تحریک ایک علیحدگی پسند تحریک ہے۔ جس کا بنیادی مقصد سکھوں کے لئے الگ ملک بنانا ہے۔ خالصتان کے لفظی معنی خالص لوگوں کی جگہ کے ہیں۔ چونکہ سکھ کمیونٹی خود کو خالص تصور کرتی ہے۔ اس لئے سکھوں نے اپنے متوقع ملک کا نام خالصتان تجویز کیا ہے۔ خالصتان تحریک کا نعرہ ہے کہ پاک و ہند کے وہ علاقے جہاں سکھوں کی آبادی زیادہ ہے یا جن علاقوں میں سکھوں کے مذہبی مقامات زیادہ ہیں، ان علاقوں کو ملا کر ایک ملک بنایا جائے اور اس کا نام ہو خالصتان۔ اس تحریک کے منشور کے مطابق خالصتان میں پاکستانی پنجاب، بھارتی پنجاب، ہماچل پردیش، چندی گڑھ، اور ہریانہ کو شامل کیا جائے گا۔ اور سب سے بڑھ کر خالصتان تحریک نے اپنے ملک خالصتان کے دارالحکومت کے لئے بھارتی علاقے شملہ کا نام بھی فائنل کر لیا ہے۔ سکھوں کا خیال ہے کہ ان کو ایک ایسا ملک حاصل ہو جہاں وہ بغیر کسی روک کے اپنے مذہبی روایات کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
خالصتان تحریک کا پس منظر کیا ہے؟
جب 1940 کی صدی میں ہندوستان کے بٹوارے کی باتیں ہونے لگیں تو عام لوگوں کو بھی یہ آئیڈیا ہو گیا کہ جب اب انگریز ہندوستان کو چھوڑ جائیں گے تو برصغیر دو ملکوں میں تقسیم ہو گا۔ ایک ملک مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل ہو گا جب کہ دوسرا ملک ہندووں کی آبادی پر مشتمل ہو گا۔ ایسی صورت برصغیر پاک و ہند کے تیسرے بڑے مذہب کے ماننے والے سکھوں کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا کہ اگر ہندووں اور مسلمانوں کو الگ لگ ممالک مذہب کی بنیاد پر مل رہے ہیں تو سکھوں کو بھی ایک الگ ملک ملنا چاہیے ۔ اسی مقام سے خالصتان تحریک کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ لیکن اس زمانے میں یہ ایک باقاعدہ تحریک نہیں تھی بلکہ یہ سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والوں میں ایک خیال تھا یا یوں کہیں کہ شدید خواہش تھی جو آہستہ آہستہ مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔
خالصتان تحریک کیسے شروع ہوئی؟
1968 اور 1969 ء کے انتخابات میں کانگریس کو پنجاب سے بری طرح شکست ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پنجابی صوبہ تحریک چلانے والی سماجی و سیاسی جماعت شرومنی اکالی دل کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی تھی۔ یہ صورت حال کانگریس کے لیے تشویش ناک تھی۔ تاہم بنگلہ دیش کے قیام سے اندرا گاندھی دوبارہ بھارت میں مقبول ہوئیں اور 1972 ء میں پنجاب کے اندر کانگریس جیت گئی۔ ذیل سنگھ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ مگر 1977 ء کے انتخابات ایک بار پھر کانگریس کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئے اور وہ 117 کے ایوان میں محض 17 نشستیں جیت سکی۔ نامور مصنف کلدیپ نائر اپنی کتاب بیانڈ دی لائنز میں لکھتے ہیں کہ ذیل سنگھ اور سنجے گاندھی نے اکالی دل کی طاقت توڑنے کے لیے سکھوں میں کوئی نیا ’سنت‘ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کلدیپ نائر کے بقول ’سنجے اور خاص طور پر ذیل سنگھ جانتے تھے کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرتاپ سنگھ کیرون نے اکالیوں کا کیسے مقابلہ کیا تھا۔ کیرون نے اکالی لیڈر ماسٹر تارا سنگھ کے خلاف سنت فتح سنگھ کو کھڑا کیا تھا۔ اب سنجے گاندھی اور ذیل سنگھ نے جرنیل سنگھ بھنڈراں والا میدان میں اتار دیا۔
جی بی ایس سدھو بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسسز ونگ (را) کے ملازم رہے ہیں۔ انہوں نے دی خالصتان کانسپریسی نامی کتاب میں بھنڈراں والا کو کانگریس کا سیاسی ایجنٹ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ‘ کانگریس کی پلاننگ ایک اکبر روڈ پر (اندرا گاندھی کے دفتر) ایک گینگ کے ہاتھ میں تھی جس میں سنجے گاندھی، ذیل سنگھ اور کمل ناتھ جیسے لوگ تھے۔ یہ بھنڈراں والا کے ذریعے ایک طرف سکھوں کے درمیان تفریق ڈالنا چاہتے تھے تو دوسری طرف خالصتان کا مسئلہ پیدا کر کے ہندووں کو خوف زدہ کرنا چاہتے تھے۔ مقصد بس آئندہ الیکشن جیتنا تھا۔ تب انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جی بی ایس سدھو اپنی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ذیل سنگھ، بھنڈراں والا سے مطمئن نہ تھے۔ انہوں نے آپریشن ٹو کا آغاز کیا جس کے تحت 1978 ء میں دل خالصہ کی بنیاد رکھی جس نے خالصتان کا مطالبہ کیا۔ دل خالصہ کی پہلی میٹنگ روما ہوٹل میں ہوئی، میٹنگ کے اخراجات چھ سو روپے بنے جو ذیل سنگھ نے ادا کیے۔
آپریشن بلیو اسٹار
بھنڈراں والا کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔ 1982 ء میں وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں منتقل ہو گئے۔ مصنف سی کے محمود اپنی کتاب وائے سکھس فائیٹ میں لکھتے ہیں کہ بھنڈراں والا نے وہاں ایک متوازی حکومت قائم کر دی۔ وہ لوگوں کے فیصلے کرنے لگے۔ ان جیسا احترام تب کسی اور شخصیت کا نہ تھا۔ ان کے اسلحہ بردار جانثار ہر وقت ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ اندرا گاندھی کے پرنسپل سیکریٹری پی سی الیگزینڈر اپنی کتاب مائی ایئرز ود اندرا گاندھی میں آپریشن سن ڈاؤن کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں اس آپریشن کے ذریعے بھنڈراں والا کو اکال تخت سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جایا جانا تھا۔ اندرا جی نے کہا ایسے تو بہت خون خرابہ ہو گا یوں اس آپریشن کی اجازت نہ دی گئی۔
جی بی سندھو کہتے ہیں کمل ناتھ اور ذیل سنگھ نہیں چاہتے تھے کہ بھنڈراں والا کو زندہ گرفتار کیا جائے۔ وہ خوفزدہ تھے کہ پس پردہ سازشیں بے نقاب نہ ہوں۔ اس لیے آپریشن بلیو اسٹار کی منصوبہ بندی ایسے کی گئی کہ زیادہ سے زیادہ خون خرابہ ہو اور شور مچے، تاکہ خالصتان کا معاملہ مزید گرم ہو اور کانگریس کو فائدہ ہو۔ جون 1984 ء کی ایک شام گولڈن ٹیمپل کو فوجی دستوں نے گھیر لیا اور ایک خونی آپریشن کا آغاز ہوا جس میں ٹینکوں کا بھی استعمال ہوا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھنڈراں والا سمیت 492 لوگ مارے گئے جبکہ اس دوران بھارتی فوج کے 83 فوجی ہلاک اور 248 زخمی ہوئے۔
اندرا گاندھی کا قتل اور خالصتان تحریک کا عروج
اپنے انتہائی مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر حملے سے سکھوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے۔ فوجی آپریشن تو کامیاب رہا مگر اس سے سکھوں اور ہندووں کے درمیان نہ ختم ہونے والی دوریاں پیدا ہو گئیں۔ آپریشن کی منصوبہ بندی میں یہ بھی شامل تھا کہ اندرا گاندھی کی سیکیورٹی سے تمام ایسے سپاہیوں کو ہٹا دیا جائے گا جن کا تعلق سکھ مذہب سے ہے۔ مورخین آج بھی حیرت کا اظہار کرتے ہیں اس ضابطے کو کیسے پامال کیا گیا۔
31 اکتوبر 1984 ء کو صبح نو بجے اندرا گاندھی گھر سے دفتر کے لیے نکلیں تو دو سکھ سپاہیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ شام تک پورے بھارت میں یہ خبر پھیل چکی تھی۔ جواب میں کئی روز تک ہندوؤں کے ہاتھوں سکھوں کا قتل عام ہوتا رہا اور محض دلی میں 3 ہزار سکھ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اگلے کئی برس پنجاب میں سرچ آپریشنز اور سکھوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہا۔ اس کے باوجود علیحدگی پسند عناصر خاصے مضبوط رہے۔ 1987 ء سے 1992 ء تک مسلسل سات برس پنجاب میں صدارتی راج نافذ رہا۔ مبصرین کے مطابق ریاستی انتخابات اس لیے نہیں ہونے دیے گئے کیونکہ دور دور تک کانگریس کی جیت کا امکان نہ تھا۔ پنجاب کی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1981 ء سے 1993 ء تک خالصتان تحریک کے حوالے سے ہونے والے 12 سالہ طویل پُرتشدد واقعات میں 21 ہزار 496 افراد اپنی جانوں محروم ہوئے۔
کینیڈا خالصتان تحریک کا مرکز کیسے بنا؟
بھارت کے بعد آج سکھوں کی سب سے زیادہ آبادی کینیڈا میں مقیم ہے۔ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1971 ء میں یہ تعداد تقریباً 35 ہزار تھی جو اگلے دس برس میں 67 ہزار اور 1991 ء میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ 2021 ء تک یہ تعداد پونے آٹھ لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ سب سے زیادہ ہجرت 1980 ء کی دہائی میں ہوئی۔ لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر اور محقق ڈاکٹر جسجیت سنگھ کی کتاب دی آئیڈیا، کونٹیکسٹ، فریمنگ اینڈ ریئلٹیز آف سکھ ریڈیکلائزیشن آف بریٹن اس معاملے پر تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پہلے برطانیہ میں رہنے والے سکھوں کی جدوجہد اسکولوں اور دفتروں میں پگڑی باندھنے کے حق کے مطالبے تک محدود تھی۔ یہاں تک کہ 1971 ء کی جنگ کے دوران انہوں نے بھارت کے لیے چندہ مہم بھی چلائی۔ گولڈن ٹیمپل پر حملے اور اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کی نسل کشی نے برطانیہ میں رہنے والے سکھوں کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا، وہ لکھتے ہیں یہی کچھ کینیڈا میں ہوا۔ اکا دکا واقعات کے سوا کینیڈا کے سکھ کبھی پُرتشدد کارروائیوں کا حصہ نہیں بنے۔ ان کے مطالبات سماجی انصاف کے ذیل میں آتے ہیں۔ اس لیے کینیڈا نے انہیں انتہا پسند یا دہشت گرد کے بجائے سیاسی کارکن سمجھا۔
خالصتان تحریک اور پاکستان
خالصتان تحریک کے راہنماؤں نے ہمیشہ پاکستان سے مدد کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نے انٹرنیشل فورمز پر اس تحریک کے لئے آواز بھی بلند کی ہے۔ لیکن پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ براہ راست بھارت میں ہونے والی کسی کارروائی میں ملوث ہے۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ ہم دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ اور خالصتان کے کارکنان اور اس تحریک کی حمایت بھی ہماری اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ جبکہ دوسری جانب ہندوستان شروع دن سے ہی الزام لگاتا آیا ہے کہ بھارت میں بد امنی خاص کر خالصتان کے معاملے میں پاکستان بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔ جبکہ یہ الزام سراسر غلط ہے۔


